صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب حَدِّ الْخَمْرِ:
باب: شراب کی حد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1707 ترقیم شاملہ: -- 4458
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: مَا كُنْتُ أُقِيمُ عَلَى أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فِيهِ، فَأَجِدَ مِنْهُ فِي نَفْسِي إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ لِأَنَّهُ إِنْ مَاتَ وَدَيْتُهُ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ "،
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں سفیان ثوری نے ابوحصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمیر بن سعد سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں کسی شخص پر حد نہیں لگاتا کہ وہ اس میں مر جائے تو میں اس سے اپنے دل میں کوئی ملال محسوس کروں، سوائے شراب پینے والے کے، وہ اگر مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کروں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے (اسی کوڑوں کی سزا) کو جاری نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4458]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اگر میں کسی کو حد لگاؤں اور وہ مر جائے تو مجھے دل میں افسوس اور غم نہیں ہوگا، مگر شرابی (کی موت پر) کیونکہ اگر وہ مر جائے گا تو میں اس کی دیت ادا کروں گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حد کی قطعی تعیین نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4458]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1707
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1707 ترقیم شاملہ: -- 4459
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4459]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے سفیان کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4459]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1707
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
9. باب قَدْرِ أَسْوَاطِ التَّعْزِيرِ:
باب: تعزیر میں کتنے کوڑے تک لگانا جائز ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1708 ترقیم شاملہ: -- 4460
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ إِذْ جَاءَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، فَحَدَّثَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ ، فَقَالَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يُجْلَدُ أَحَدٌ فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ".
حضرت ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”حدود اللہ میں سے کسی حد کے علاوہ کسی کو دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4460]
حضرت ابو بردہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی انسان، اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا دس سے زائد کوڑے نہ مارے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4460]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1708
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
10. باب الْحُدُودُ كَفَّارَاتٌ لأَهْلِهَا:
باب: حد لگانے سے گناہ مٹ جاتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4461
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ "،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے ابوادریس خولانی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (موجود) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات پر میرے ساتھ بیعت کرو کہ تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، زنا نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے اور کسی زندہ (انسان) کو، جسے اللہ نے حرمت عطا کی ہے، ناحق قتل نہیں کرو گے۔ تم میں سے جس نے اس (عہد) کو پورا کیا، اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے سزا مل گئی تو وہ اس کا کفارہ ہے۔ جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اللہ نے (دنیا میں) اس کی پردہ داری کی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اگر چاہے تو اسے معاف کر دے اور چاہے تو عذاب دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4461]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور زنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور اللہ تعالیٰ نے جس جان کو محترم ٹھہرایا ہے، اس کو ناحق قتل نہیں کرو گے، تو تم میں سے جو اس بیعت پر وفا کرے گا، اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر ملے گا اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے اس پر سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو گی، اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اس پر اللہ نے پردہ ڈالا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے معاف کر دے اور چاہے اسے سزا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4462
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، فَتَلَا عَلَيْنَا آيَةَ النِّسَاءِ أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا: اس کے بعد آپ نے ہمارے سامنے عورتوں (کے احکام) والی (سورۃ الممتحنہ کی) یہ آیت تلاوت کی: ”کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4462]
امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے زہری ہی کی مذکورہ بالا سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی بیعت پر یہ آیت ہمیں سنائی: ﴿أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا﴾ [سورة الممتحنة: 12] ”وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4463
وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ، أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا يَعْضَهَ بَعْضُنَا بَعْضًا، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَتَى مِنْكُمْ حَدًّا، فَأُقِيمَ عَلَيْهِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ ".
ابواشعث صنعانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے (اسی طرح) عہد لیا جس طرح آپ نے عورتوں سے عہد لیا تھا: ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، چوری نہ کریں گے، زنا نہ کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے اور ایک دوسرے پر تہمت نہ لگائیں گے۔“ تم میں سے جس نے ایفا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ایسا کام کیا جس پر حد ہے اور اس کو حد لگا دی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہو گی، اور جس کا اللہ نے پردہ رکھا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4463]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح عہد لیا، جس طرح عورتوں سے لیا تھا کہ: ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو ساجھی قرار نہ دیں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے پر بہتان اور الزام تراشی نہ کریں، تم میں سے جو اس عہد کا ایفا کرے گا اس کو اللہ کی طرف سے اجر ملے گا اور جس کسی نے قابلِ حد گناہ کا ارتکاب کیا اور اس پر حد جاری کر دی گئی ہو تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس کے جرم پر اللہ نے پردہ ڈالا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اگر وہ چاہے تو اسے سزا دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4464
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَمِنْ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا نَنْتَهِبَ وَلَا نَعْصِيَ، فَالْجَنَّةُ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ "، وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ: كَانَ قَضَاؤُهُ إِلَى اللَّهِ.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے (عبدالرحمان) صنابحی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں ان نقیبوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ اور کہا: ہم نے اس بات پر آپ کے ساتھ بیعت کی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، زنا نہ کریں گے، چوری نہ کریں گے، کسی زندہ (انسان) کو ناحق قتل نہ کریں گے جسے اللہ نے حرمت عطا کی ہے، ڈاکے نہ ڈالیں گے اور نافرمانی نہ کریں گے۔ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو جنت ہے اور اگر ہم نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہو گا۔ ابن رمح نے اس کا فیصلہ کے بجائے ”اس شخص کا فیصلہ اللہ عزوجل کے سپرد ہو گا“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4464]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان نقباء میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، اور انہوں نے بتایا کہ ہم نے (بعد میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر بیعت کی تھی کہ ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، زنا نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے اور جس شخص کو اللہ نے قتل کرنا حرام ٹھہرایا ہے، ہم اس کو ناحق قتل نہیں کریں گے، ہم ڈاکہ نہیں ڈالیں گے اور ہم نافرمانی کا کام نہیں کریں گے، ہم نے اگر اس کی پابندی کی تو جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہو گا“، ابن رمح نے «قَضَاءُ ذٰلِكَ» ”اس کا فیصلہ“ کے الفاظ بیان کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب جَرْحُ الْعَجْمَاءِ وَالْمَعْدِنِ وَالْبِئْرِ جُبَارٌ:
باب: جانور کسی کو مارے یا کان یا کنوئیں میں کوئی گر پڑے تو اس کی دیت لازم نہ آئے گی۔
ترقیم عبدالباقی: 1710 ترقیم شاملہ: -- 4465
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ "،
لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوپائے کے (لگائے ہوئے) زخم پر تاوان نہیں، کنویں (کے زخم) کا تاوان نہیں، (معدنیات کی) کان (کے زخم) کا تاوان نہیں اور جاہلیت کے دفینے میں (بیت المال کا) پانچواں حصہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4465]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیوان کا زخمی کرنا رائیگاں ہے اور کنویں سے نقصان کا تاوان نہیں ہے اور کان سے پہنچنے والے نقصان کا ڈنڈ نہیں ہے اور جاہلیت کے دفینہ پر پانچواں حصہ ادا کرنا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1710 ترقیم شاملہ: -- 4466
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ مِثْلَ حَدِيثِهِ،
ابن عیینہ اور امام مالک دونوں نے زہری سے لیث کی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4466]
امام پانچ اساتذہ کی دو سندوں سے (ایک طرف چار ہیں اور دوسری طرف ایک) لیث کی مذکورہ بالا سند ہی سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1710 ترقیم شاملہ: -- 4467
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن مسیب اور عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4467]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4467]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة