صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
686. (453) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَتَيْنِ الْمُجْمَلَتَيْنِ اللَّتَيْنِ ذَكَرْتُهُمَا فِي الْبَابَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ،
گزشتہ دو ابواب میں مذکورہ مجمل روایات کی تفسیر کرنے والی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: Q1084
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ أَخْذًا بِالْوَثِيقَةِ وَالْحَزْمِ، تَخَوُّفًا أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ الْمَرْءُ آخِرَ اللَّيْلِ فَيُوتِرَ آخِرَهُ. وَأَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِالْوِتْرِ آخِرَ اللَّيْلِ مَنْ قَوِيَ عَلَى قِيَامِ آخِرِ اللَّيْلِ، مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ لِمَنْ قَوِيَ عَلَى الْقِيَامِ آخِرَ اللَّيْلِ
حدیث نمبر: 1084
نَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ بِخَبَرٍ غريب، أنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ: " مَتَى تُوتِرُ؟" قَالَ: أُوتِرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، فَقَالَ لِعُمَرَ:" مَتَى تُوتِرُ؟" قَالَ: أَنَامُ، ثُمَّ أُوتِرُ، قَالَ: فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ:" أَخَذْتَ بِالْحَزْمِ، أَوْ بِالْوَثِيقَةِ"، وَقَالَ لِعُمَرَ:" أَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا عَنْ حَمَّادٍ مُرْسَلٌ، لَيْسَ فِيهِ أَبُو قَتَادَةَ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وتر کب پڑھتے ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم وتر کب ادا کرتے ہو؟ اُنہوں نے بتایا کہ میں سوجاتا ہوں پھر (بیدار ہوکر) وتر پڑھتا ہوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم نے احتیاط اور پختہ کام اختیار کیا ہے۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم نے مضبوط اور قوت والا کام کیا ہے - امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں کہ یہ روایت ہمارے اصحاب کے نزدیک حماد کی سند سے مرسل ہے، اس میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ مذکور نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1084، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1124، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1434، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4916، 4917، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 4499، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3059»
حدیث نمبر: 1085
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ هُوَ الْمَكِّيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ: " مَتَى تُوتِرُ؟" قَالَ: أُوتِرُ ثُمَّ أَنَامُ قَالَ:" بِالْحَزْمِ أَخَذْتَ"، وَسَأَلَ عُمَرَ، فَقَالَ:" مَتَى تُوتِرُ؟"، فَقَالَ: أَنَامُ ثُمَّ أَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَأُوتِرُ، قَالَ:" فِعْلِي فَعَلْتَ" وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى فِي قِصَّةِ عُمَرَ، قَالَ:" فِعْلَ الْقَوِيِّ فَعَلْتَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم وتر کب ادا کرتے ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ میں وتر ادا کرتا ہوں پھر سوتا ہوں - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے احتیاط والا کام اختیار کیا ہے۔“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم وتر کب پڑھتے ہو؟ اُنہوں نے عرض کی کہ میں سوتا ہوں پھر رات کو (اُٹھ کر) نماز پڑھتا ہوں تو وتر بھی ادا کر لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے میرا عمل اختیار کیا ہے۔ جناب محمد بن یحییٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قصّے میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ تم طاقتور آدمی کا کام کرتے ہو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: «حسن صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1085، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2446، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1125، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1202 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4918، والبزار فى (مسنده) برقم: 5726، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4029»
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَيْضًا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِهِ، وَلْيَرْقُدْ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ ؛ فَإِنَّ صَلاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، فَذَلِكَ أَفْضَلُ" هَذَا حَدِيثُ عِيسَى وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَأَبِي عَوَانَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصّے میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور تم میں جس شخص کو رات کے آخری حصّے میں بیدار ہونے کا طمع ہو تو وہ آخری پہر میں وتر ادا کرے، بیشک رات کے آخری حصّے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے۔“ یہ جناب عیسیٰ کی روایت ہے۔ جناب جریر اور ابوعوانہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 755، وابن الجارود فى "المنتقى"، 297، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1086، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2565، والترمذي فى (جامعه) برقم: 455 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1187، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4914، 4915، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14427»
687. (454) بَابُ الْأَمْرِ بِمُبَادَرَةِ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِالْوِتْرِ
طلوع فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: Q1087
إِذِ الْوِتْرُ وَقْتُهُ اللَّيْلُ، لَا اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَلَا بَعْضُ النَّهَارِ أَيْضًا.
کیونکہ وتر نماز کا وقت رات ہے، دن اور رات یا دن کا کچھ حصّہ اس کا وقت نہیں ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: Q1087]
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 750، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1087، 1088، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1128، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1436، والترمذي فى (جامعه) برقم: 467، 469، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4587، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5047»
حدیث نمبر: 1088
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ" وَقَالَ أَحْمَدُ: بَادِرْ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کیا کرو۔“ جناب احمد کی روایت میں (واحد کا صیغہ آیا) ہے کہ ”تو جلدی کر۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 750، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1087، 1088، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1128، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1436، والترمذي فى (جامعه) برقم: 467، 469، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4587، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5047»
حدیث نمبر: 1089
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، نَا مَعْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا" حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوْقِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کرنے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔“ جناب ابونضرہ عوفی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 754، 754، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1089، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1126، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1682، النسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1396، والترمذي فى (جامعه) برقم: 468، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1629، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1189، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4584، 4585، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11266»
688. (455) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوِتْرِ رَاكِبًا فِي السَّفَرِ
سفر کی حالت میں وتر سواری پر پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: Q1090
وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَتْ بِفَرِيضَةٍ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي الْحَالَةِ الَّتِي كَانَ يُوتِرُ عَلَيْهَا
حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ح وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل نماز اور وتر پڑھ لیتے تھے، اس کا رُخ جس طر ف بھی ہوتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز سواری پر نہیں پڑھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1000، 1096، 1105، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 700، ومالك فى (الموطأ) برقم: 509، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1090، 1262، 1264، 1267، 1269، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2421، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3071، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 489، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2958، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2234، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1634، 1679، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4556»