🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
679. (446) بَابُ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الْمَنْصُوصَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منصوص روایات کا بیان کہ وتر ایک رکعت ہے
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری بٹھائی، پھر نیچے اُترے، تو دس رکعات ادا کیں اور ایک وتر پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعتیں ادا کیں پھر ایک رکعت وتر ادا کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر دو رکعت (سنّتیں) ادا کیں، پھر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ میں نے یہ مکمّل باب کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1075، 1261، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2629»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
680. (447) بَابُ إِبَاحَةِ الْوِتْرِ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ، وَصِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الْوِتْرِ إِذَا أَوْتَرَ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ، وَهَذَا مِنَ اخْتِلَافِ الْمُبَاحِ
پانچ رکعات وتر پڑھنا جائز ہے، جب (نمازی) پانچ رکعات وتر ادا کرے گا تو (تشہد میں) بیٹھنے کی کیفیت کا بیان اور یہ جائز اختلاف کی قسم سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1076
نَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ" صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسِ سَجَدَاتٍ يَعْنِي رَكَعَاتٍ، لا يُسَلِّمُ فِيهِنَّ، فَيَجْلِسُ فِي الآخِرَةِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ" هَذَا حَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ وَقَالَ بُنْدَارٌ: وَيُوتِرُ مِنْهُنَّ بِخَمْسٍ، وَلا يُسَلِّمُ إِلا فِي آخِرِهِنَّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات نماز پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعات وتر پڑھتے، ان کے درمیان میں سلام نہیں پھیرتے تھے، آخری رکعت میں (تشہد) کے لئے بیٹھتے، پھر سلام پھیرتے۔ یہ ابواسامہ کی حدیث ہے۔ جناب بندار کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے پانچ رکعات وتر ادا کرتے، اور آخری رکعت میں سلام پھیرتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1170، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 724، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1076، 1077، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2437، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1716، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1338، والترمذي فى (جامعه) برقم: 459، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1622، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1359، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4752، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24876»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
681. (448) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ إِذَا أَوْتَرَ بِخَمْسٍ
اس حدیث کا بیان جو یہ تفسیر کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پانچ رکعات وتر ادا کرتے تو آپ صرف پانچویں رکعت میں (تشہد) بیٹھتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1077
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ، لا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْخُمُسِ إِلا فِي الْخَامِسَةِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، ان میں سے پانچ رکعات وتر پڑھتے، ان پانچوں رکعات میں صرف پانچویں رکعت میں (تشہد) کے لئے بیٹھتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1170، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 724، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1076، 1077، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2437، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1716، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1338، والترمذي فى (جامعه) برقم: 459، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1622، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1359، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4752، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24876»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
682. (449) بَابُ إِبَاحَةِ الْوِتْرِ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ أَوْ بِتِسْعٍ وَصِفَةِ الْجُلُوسِ إِذَا أَوْتَرَ بِسَبْعٍ أَوْ بِتِسْعٍ
سات اور نو رکعات وتر پڑھنا جائز ہے جب سات یا نو رکعات وتر پڑھے گا تو (تشہد کے لئے) بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1078
نَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَأَتَى الْمَدِينَةَ لِيَبِيعَ بِهَا عَقَارًا لَهُ بِهَا، فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلاحِ وَالْكُرَاعِ، وَيُجَاهِدُ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ، فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ"، وَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَأَشْهَدَ عَلَى مُرَاجَعَةِ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَ أَنَّهُ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَلا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: عَائِشَةُ ايْتِهَا، فَاسْأَلْهَا، ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ، فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا، فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلا مُضِيًّا، فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ، فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَحَكِيمٌ؟ فَعَرَفَتْهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَوْ قَالَ: بَلَى، قَالَتَ: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: مَنْ هِشَامٍ؟ قَالَ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَ: فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كُنَّا نَعُدُّ لَهُ سِوَاكَهُ، وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ، وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، لا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَدْعُو" زَادَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ" ثُمَّ يَنْهَضُ، وَلا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ، فَيَقْعُدُ فَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا فَيُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً" يَا بُنَيَّ. وَقَالَ بُنْدَارٌ، وَهَارُونُ جَمِيعًا:" فَلَمَّا أَسَنَّ وَأَخَذَ اللَّحْمَ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ، فَتِلْكَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ" يَا بُنَيَّ. قَالَ لَنَا بُنْدَارٌ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ: وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا. قَالَ بُنْدَارٌ: قُلْتُ لِيَحْيَى: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: تَسْلِيمَةً، فَقَالَ: هَكَذَا حِفْظِي عَنْ سَعِيدٍ، وَكَذَا قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ: ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا. كَمَا قَالَ يَحْيَى، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ: ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا
حضرت سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ اُنہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر مدینہ منوّرہ تشریف لائے تاکہ مدینہ منوّرہ میں اپنی زمین اور باغ کو فروخت کر دیں، اس سے اسلحہ اور گھوڑے (سامان جنگ) خرید کر رومیوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہو جائیں حتیٰ کہ انہیں موت آجائے - تو وہ اپنی قوم کے ایک گروہ سے ملے تو اُنہوں نے آپ کو یہ بتایا کہ آپ کی قوم کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بھی یہی خواہش کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”کیا تمہارے لئے میری ذات مبارک میں نمونہ موجود نہیں ہے؟“ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس ارادے سے منع کر دیا۔ چنانچہ حضرت سعد نے اپنی بیوی کے ساتھ رجوع کرنے پر (لوگوں کو) گواہ بنایا۔ پھر وہ ہمارے پاس تشریف لائے تو انہوں نے بتایا کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملے تھے اور اُن سے وتر کے بارے میں پوچھا تھا۔ تو اُنہوں نے فرمایا تھا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں اہل زمین میں سب سے زیادہ جاننے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا کہ جی ضرور بتائیں۔ اُنہوں نے فرمایا کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اُن کے پاس جاؤ اور اُن سے پوچھو۔ پھر واپس آکر مجھے اُن کا جواب بتانا۔ لہٰذا میں حضرت حکیم بن افلح کے پاس آیا اور اُنہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا تو اُنہوں نے کہا، میں اُن کی خدمت میں نہیں جاؤں گا۔ میں نے اُن سے اُن دو جماعتوں (سیدنا علی اور سیدنا معاویہ کے گروہوں) کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے روکا تھا مگر انہوں نے انکار کیا اور (ان کی صلح کے لئے) چلی گئیں۔ تو میں نے اُنہیں قسم دے کر (اپنے ساتھ جانے پر) راضی کیا۔ تو وہ میرے ساتھ چلے گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پہنچے تو اُنہوں نے پوچھا کیا حکیم (آیا) ہے؟ اور اُنہوں نے پہچان لیا تھا - حضرت حکیم نے کہا کہ جی ہاں، یا کہا کہ کیوں نہیں (حکیم ہی آیا ہے) اُنہوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا کہ یہ سعد بن ہشام ہے۔ اُنہوں نے پوچھا کہ ہشام کون؟ جواب دیا کہ ہشام بن عامر تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (عامر کے لئے) دعائے رحمت کی اور فرمایا کہ عامر بہت اچھے آدمی تھے۔ میں نے کہا کہ اے اُم المؤمنین، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے متعلق بتائیے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے۔ رات کو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا دیتے جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھانا چاہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، وضو کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعات نماز پڑھتے، صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے، ﷲ تعالیٰ کا ذکر کرتے، اور دعائیں مانگتے۔ اس جگہ ہارون نے اپنی روایت میں یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور سلام نہ پھیرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں رکعت پڑھتے۔ پھر تشہد کے لئے بیٹھتے، اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرتے، نبی پر درود بھیجتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو ہمیں (اس کی آواز) سناتے۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کر تے۔ اے میرے پیارے بیٹے، تو اس طرح یہ گیارہ رکعات ہوگئیں ـ جناب بندار اور ہارون دونوں نے یہ الفاظ بیان کئے ہیں پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رسیدہ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک فربہ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات وتر ادا کیے۔ اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات ادا کیں۔ میرے پیارے بیٹے، تو یہ نو رکعات ہوگئیں۔ جناب بندار نے اپنی سند سے سیدنا قتادہ سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ اور آپ ایک سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔ جناب بندار کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ سے کہا کہ دیگر راوی ”تسليمته“ ایک سلام، روایت کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعید سے اسی طرح یاد کیا ہے۔ جناب ہارون نے بھی اپنی سند سے جناب سعید سے یہ الفاظ روایت کیے۔ پھر آپ سلام پھیرتے تو ہمیں سنادیتے۔ جیسا کہ جناب یحییٰ کی روایت میں ہے۔ اور عبدالصمد نے اپنی سند سے حضرت قتادہ سے اس روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ پھر آپ ایک سلام پھیرتے اور ہمیں سنا دیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، 1104، 1127، 1169، 1170، 1177، 1178، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1314، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191، 1348، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 166، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1079
كَذَلِكَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُمَارَةُ بْنُ زَادَانٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، يُقْرَأُ فِيهِنَّ بِالرَّحْمَنِ، وَالْوَاقِعَةِ" . قَالَ أَنَسٌ: وَنَحْنُ نَقْرَأُ بِالسُّوَرِ الْقِصَارِ إِذَا زُلْزِلَتِ، وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَنَحْوِهِمَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات وتر ادا کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات وتر پڑھنے شروع کر دیے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات بیٹھ کر ادا کرتے، ان میں سوره الرحمٰن اور سوره الواقعه کی تلاوت کرتے۔ سیدنا انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اور ہم چھوٹی سورتیں جیسے «‏‏‏‏إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا» ‏‏‏‏ اور «‏‏‏‏قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» ‏‏‏‏ اور ان جیسی سورتیں پڑھتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1079، 1105، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4901، 4903، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1702، والبزار فى (مسنده) برقم: 7246، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 2009»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
683. (450) بَابُ إِبَاحَةِ الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ إِنْ أَحَبَّ الْمُصَلِّي أَوْ وَسَطَهُ أَوْ آخِرَهُ، إِذِ اللَّيْلُ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ كُلُّهُ وَقْتُ الْوِتْرِ
اگر نمازی ابتدائی رات، درمیانی رات یا رات کے آخری پہر وتر پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، کیونکہ عشاء کی نماز سے لیکر طلوع فجر تک ساری رات نماز وتر کا وقت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1080
نَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ"
سیدنا علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصّے میں وتر پڑھے ہیں، ابتدائی رات میں بھی، درمیانی رات میں بھی اور رات کے آخری حصّے میں بھی ادا کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1080، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3927، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1147، 1186، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4595، وأحمد فى (مسنده) برقم: 579، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 6816»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1081
نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ، آخِرَ اللَّيْلِ أَوْ أَوَّلَهُ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا " أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً"
سیدنا عبداللہ بن قیس بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کیسے ادا کرتے تھے، آخر رات یا رات کے شروع میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حصّے میں پڑھ لیا کرتے تھے۔ کبھی رات کے شروع میں پڑھ لیتے، اور کبھی رات کے آخری حصّے میں ادا کر لیتے۔ تو میں نے کہا، سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اس معا ملہ میں وسعت و گنجائش رکھی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 307، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1081، 1160، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2447، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 545، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 222، وأبو داود فى (سننه) برقم: 226، والترمذي فى (جامعه) برقم: 449، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1354، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 979، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24839، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 684»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
684. (451) بَابُ الْأَمْرِ بِالْوِتْرِ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ بِذِكْرِ خَبَرٍ مُخْتَصَرٍ غَيْرِ مُتَقَصًّى وَمُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ
رات کے آخری حصّے میں وتر پڑھنے کا حُکم کا بیان، ایک مختصر غیر مفصل اور مجمل غیر مفسر حدیث کے ذکر کے ساتھ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1082
نَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وَحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، وَالْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اجْعَلُوا آخِرَ صَلاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 472، 473، 990، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 749، ومالك فى (الموطأ) برقم: 399، وابن الجارود فى "المنتقى"، 295، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1072، 1073، 1082، 1091، 1110، 1112، 1210، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2426، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1130، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1665، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1295، والترمذي فى (جامعه) برقم: 437، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1144، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4588، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1546، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2882»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
685. (452) بَابُ ذِكْرِ الْوَصِيَّةِ بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ بِلَفْظٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ،
ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1083
قَدْ يَسْبِقُ عِلْمِي إِلَى وَهْمِ مَنْ لَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْخَبَرِ الْمُخْتَصَرِ وَالْخَبَرِ الْمُتَقَصَّى، وَلَا يُسْتَدَلُّ بِالْمُفَسَّرِ مِنَ الْأَخْبَارِ عَلَى الْمُجْمَلِ مِنْهَا، أَنَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يَجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ وِتْرًا يُضَادُّ أَمْرَهُ وَوَصِيَّتَهُ بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1083
نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ:" أَوْصَانِي حَبِيبِي بِثَلاثٍ، لا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا، أَوْصَانِي بِصَلاةِ الضُّحَى، وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصَوْمِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِخْبَارُ أَبِي هُرَيْرَةَ:" أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ خَرَّجْتُهَا فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ"
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین کاموں کی وصیت فرمائی تھی، میں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، ان شاء اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چاشت کی نماز پڑھنے کی وصیت فرمائی، سونے سے پہلے وتر ادا کرنے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی، میں اسے ایک دوسری جگہ بیان کر چکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1083، 1221، 2122، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2403، والترمذي فى (جامعه) برقم: 762، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1708، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8527، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7692»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں