🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
خطبہ کے بعد اور نماز شروع کرنے سے پہلے امام اور مقتدی دونوں کو گفتگو کرنے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1838
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُكَلِّمُ الرَّجُلَ وَيُكَلِّمُهُ، ثُمَّ يَنْتَهِي إِلَى مُصَلاهُ فَيُصَلِّي"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر سے نیچے اُترتے تو کوئی شخص آپ سے بات چیت کر لیتا اور آپ اُس سے گفتگو کر لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوکو نماز پڑھاتے ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1838]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1838، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2805، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1074، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1418، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1120، والترمذي فى (جامعه) برقم: 517، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1117، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5932، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12384»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز جمعہ کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1839
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كُنَّا نَجْمَعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ , ثُمَّ نَرْجِعُ نَتَتَبَّعُ الْفَيْءَ"
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد ادا کرتے تھے پھر ہم گھروں کو واپس جاتے ہوئے سایہ تلاش کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4168، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 860، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1839، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1511، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1390، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1085، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1587، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1100، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5752، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1624، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16759»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جمعہ کی نماز پہلے وقت میں وقت ادا کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1840
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَدِرُ الْفَيْءَ، فَمَا يَكُونُ إِلا قَدْرَ قَدَمٍ أَوْ قَدَمَيْنِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مُسْلِمٌ هَذَا لا أَدْرِي أَسَمِعَ مِنَ الزُّبَيْرِ أَمْ لا؟
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرتے تھے تو (واپسی پر) سایہ حاصل کرنے میں جلدی کرتے مگر وہ ایک یا دو قدم ہی ہوتا تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ مسلم بن جندب راوی نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے یا نہیں؟ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1840]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1840، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1080، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1586، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5758، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1428، 1453»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1841
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كُنَّا نُبَكِّرُ يَعْنِي بِالْجُمُعَةِ، ثُمَّ نَقِيلُ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز جمعہ جلدی ادا کرتے تھے پھر قیلولہ کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1841]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 905، 940، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1841، 1877، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1102، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6029، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13693، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 5165، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8088»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شدید گرمی میں نماز جمعہ کو ٹھنڈا کرنے اور جلدی ادا کرنے کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1842
نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَلْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَنَادَاهُ يَزِيدُ الضَّبِّيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، قَدْ شَهِدْتَ الصَّلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدْتَ الصَّلاةَ مَعَنَا، فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَكَّرَ بِالصَّلاةِ، وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، أَبْرَدَ بِالصَّلاةِ"
جناب ابوخلدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سُنا جبکہ حجاج بن یوسف کے زمانہ اقتدار میں جمعہ کے دن جناب یزید الضبی نے اُنہیں پکارا تو کہا کہ اے ابوحمزہ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی نمازیں پڑھی ہیں اور ہمارے ساتھ بھی نماز جمعہ ادا کی ہے۔ تو آپ بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے ادا کرتے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی شدید ہوتی تو نماز جلدی ادا کرلیتے اور جب گرمی شدید ہوتی تو نماز کو ٹھنڈا کرلیتے - [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 906، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1842، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 498، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5759»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز جمعہ کی رکعات کی تعداد کا بیان
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں اس سے پہلے کتاب العیدین میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث لکھوا چکا ہوں کہ نماز جمعہ دو رکعت ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: Q1843]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز جمعہ میں قراءت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1843
نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ كَاتِبِ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، " فَصَلَّى بِهِمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَرَأَ بِـ الْجُمُعَةِ، وَإِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ"، فَقُلْتُ: أَبَا هُرَيْرَةَ، لَقَدْ قَرَأْتَ بِنَا قِرَاءَةً قَرَأَهَا بِنَا عَلِيٌّ بِالْكُوفَةِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کا تب جناب عبید اللہ بن ابی رافع بیان کرتے ہیں کہ مروان سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منوّرہ پر اپنا قائم مقام بناتا تھا ـ تو اُنہوں نے اہل مدینہ کو جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو سورة المنافقون «‏‏‏‏إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ» ‏‏‏‏ کی قراءت کی۔ تو میں نے کہا کہ اے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، آپ نے ہمیں وہ قراءت سنائی ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمیں کوفہ میں سناتے تھے۔ سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سُنا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1843]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 877، وابن الجارود فى "المنتقى"، 330، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1843، 1844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2806، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1747، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1124، والترمذي فى (جامعه) برقم: 519، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1118، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5801، 5802، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9680»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1844
نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ جَعْفَرٍ فِي الثَّانِيَةِ: إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ سورة المنافقون آية 1"
امام ابوبکر رحمه الله اپنے استاد یحییٰ بن حکیم کی سند سے جناب جعفر سے بیان کرتے ہیں کہ دوسری رکعت میں سورة المنافقون «‏‏‏‏إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ» ‏‏‏‏ کی قراءت کی تھی ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1844]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 877، وابن الجارود فى "المنتقى"، 330، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1843، 1844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2806، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1747، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1124، والترمذي فى (جامعه) برقم: 519، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1118، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5801، 5802، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9680»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز جمعہ کی دوسری رکعت میں سورۃ المنافقون کے علاوہ کوئی اور سورت پڑھنا جائز ہے اگرچہ پہلی رکعت میں سورة الجمعه پڑھی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1845
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ؟ , فَكَتَبَ إِلَيْهِ:" أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ بِـ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ" . وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ فِي حَدِيثِهِ: يَسْأَلُهُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الْجُمُعَةِ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقْرَأُ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ"
جناب عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ضحاک بن قیس نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو یہ سوال لکھ کر بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن (نماز جمعہ میں) سورة الجمعه کے سا تھ کونسی سورت پڑھا کرتے تھے۔ تو اُنہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ سورۃ الجمعه اور سورة الغاشية «‏‏‏‏هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ» ‏‏‏‏ پڑھا کرتے تھے۔ جناب مخزومی کی روایت میں ہے کہ اُنہوں نے سیدنا نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں کونسی سورتیں پڑھتے تھے تو اُنہوں نے جواب لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الجمعه اور سورة الغاشية «‏‏‏‏هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ» ‏‏‏‏ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1845]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 878، ومالك فى (الموطأ) برقم: 371، وابن الجارود فى "المنتقى"، 293، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1463، 1845، 1846، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2807، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1422، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1122، 1123، والترمذي فى (جامعه) برقم: 533، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1119، 1281، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5804، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18672، والحميدي فى (مسنده) برقم: 949»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں