🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جمعہ میں حاضر نہ ہونے پر سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1854
نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ" بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ يَحْيَى بْنَ حَكِيمٍ، قَالَ:" تَخَلَّفُوا"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً میں نے ارادہ کیا ہے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی۔ مگر جناب یحییٰ نے يَتَخَلَّفُوْنَ کی بجائے تَخَلَّفُوْا (پیچھے رہ گئے) کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 652، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1853، 1854، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1084، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5013، 5656، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3820»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کئی جمعہ چھوڑ دینے والوں کے دلوں پر مہر لگنے اور جمعہ سے پیچھے رہنے کی وجہ سے ان کا شمار غافلوں میں ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1855
نا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، أَبِي تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ الْحَبَشِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ تَرْكِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيُخْتَمَنَّ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ"
سیدنا ابوہریرہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ جمعہ ترک کرنے سے رُک جائیں یا اُن کے دلوں پر ضرور مہر لگادی جائے گی پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1855]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 865، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1855، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2785، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1369، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 794، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5653، 5654، 5655، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2164»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ چھوڑنے والے کے لئے جو وعید آئی ہے وہ اس شخص کے لئے جو بغیر کسی شرعی عذر کے جمعہ چھوڑتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1856
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ الْبَرَّادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاثًا مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بلا ضرورت تین جمعہ چھوڑے تو اللہ تعالی اُس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1856]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1856، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1085، 1086، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1669، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1126، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6069، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14783، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 3183، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 273»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1857
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، أَيْضًا قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاثًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ قَالَ فِي خَبَرِ ابْنِ إِدْرِيسَ: طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ" ، وَفِي خَبَرِ وَكِيعٍ:" فَهُوَ مُنَافِقٌ"
سیدنا ابو جعد ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بغیر شرعی عذر کے تین جمعہ چھوڑ دیئے۔ ابن ادریسں کی روایت میں ہے تو اُس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے۔ اور جناب وکیع کی روایت میں ہے۔ تو وہ شخص منافق ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1857]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 317، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1857، 1858، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 258، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1039، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1368، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1052، والترمذي فى (جامعه) برقم: 500، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1125، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5657، 6068، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15738»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ تین جمعہ چھوڑنے کی وجہ سے دل پر مہر اُس وقت لگتی ہے جب کوئی شخص جمعہ کو حقیر اور بے وقعت سمجھتے ہوئے چھوڑتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1858
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، جميعا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا، طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ" . لَمْ يَقُلْ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ
سیدنا ابو جعد ضمری رضی اللہ عنہ، جنھیں شرف صحبت حاصل ہے اُن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین بار جمعہ کو حقیر اور کمترسمجھتے ہوئے چھوڑا تو الله تعالی اُس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ جناب علی بن حجر کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ انہیں شرف صحبت حاصل ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1858]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 317، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1857، 1858، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 258، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1039، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1368، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1052، والترمذي فى (جامعه) برقم: 500، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1125، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5657، 6068، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15738»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دنیاوی منافع کی خاطر شہروں سے غائب ہونے پر سخت وعید کا بیان، جبکہ یہ غائب ہونا جمعہ میں حاضری ترک کرنے کا باعث بنتا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلا هَلْ عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَتَّخِذَ الصُّبَّةَ مِنَ الْغَنَمِ عَلَى رَأْسِ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ، فَتَعَذَّرَ عَلَيْهِ الْكَلأُ عَلَى رَأْسِ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ، فَيَرْتَفِعَ حَتَّى تَجِيءَ الْجُمُعَةُ، فَلا يَشْهَدُهَا، وَتَجِيءُ الْجُمُعَةُ فَلا يَشْهَدُهَا، وَتَجِيءُ الْجُمُعَةُ فَلا يَشْهَدُهَا حَتَّى يُطْبَعَ عَلَى قَلْبِهِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار، عنقریب تم میں سے کوئی شخص بکریوں کا ایک ریوڑ لیکر ایک میل یا دومیل کی مسافت پر چلا جائے گا۔ پھر ایک میل یا دومیل پر اُسے گھاس ملنا مشکل ہو جائے گا تو وہ اور دور چلا جائے گا حتّیٰ کہ جمعہ آئے گا تو وہ جمعہ میں حاضر نہیں ہوگا پھر دوسرا جمعہ آئے گا تو وہ اس میں بھی حاضر نہیں ہو گا۔ اور تیسرا جمعہ آئے گا تو وہ اس میں بھی حاضر نہیں ہو گا حتّیٰ کہ اُس کے دل پر مہر لگا دی جائے گی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1859، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1087، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1127، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6450»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شہروں سے باہر رہنے والے لوگوں کا امام کے ساتھ جمعہ میں حاضر ہونے کا بیان جبکہ شہروں میں جمعہ ادا کیا جاتا ہو۔ بشرطیکہ یہ روایت صحیح ہو۔ کیونکہ عبداللہ بن عمر العمری کے بُرے حافظے کی وجہ سے دل غیر مطمئن ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1860
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ أَهْلَ قُبَاءَ كَانُوا يَجْمَعُونَ الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:" وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَشْهَدُونَ الْجُمُعَةَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ فَيَقِيلُونَ عِنْدَهُ مِنَ الْحَرِّ وَلِتَهْجِيرِ الصَّلاةِ، وَكَانَ النَّاسُ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہلِ قبا رسول الله کے ساتھ (مسجد نبوی میں) جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔ سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصاری لوگ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ میں حاضر ہوتے تھے۔ پھر جمعہ سے فارغ ہو کر سخت گرمی اور نماز کو شدید گرمی میں ادا کر لینے کی وجہ سے اُنہی کے پاس قیلولہ کرتے تھے اور دیگر لوگ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1860]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1860، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1124»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بغیر شرعی عذر کے جمعہ چھوڑنے پر ایک دینار صدقہ اور اگر دینار موجود نہ ہوتو نصف دینار صدقہ کرنے کا بیان بشرطیکہ حدیث صحیح ہو کیونکہ مجھے قتادہ کا قدامہ بن دبرہ سے سماع معلوم نہیں اور نہ مجھے قدامہ کے بارے میں جرح و تعدیل کا علم ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالا جَمِيعًا: وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا هَمَّامٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، نا أَبُو دَاوُدَ ، نا هَمَّامٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي الْحَدَّادَ ، وَحَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ الْعُجَيْلِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفَ دِينَارٍ" . لَمْ يَقُلِ ابْنُ مَنِيعٍ: الْعُجَيْلِيُّ. وَفِي خَبَرِ وَكِيعٍ:" مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ". نا مُوسَى، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَمَّامٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَقُلِ: الْعُجَيْلِيُّ. نا مُوسَى، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ بِمِثْلِهِ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے عذر کے بغیر جمعہ چھوڑا تو اُسے ایک دینار صدقہ کرنا چاہیے۔ پس اگر اُسے ایک دینا نہ ملے تو نصف دینار صدقہ کرنا چاہیے۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے کہ جس شخص کا جمعہ فوت ہو جائے تو اُسے ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا چاہیے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1861، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2788، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1040، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1371، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1053، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1128، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6071، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20404»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں