صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مذکورہ بالا فجر کی صفت یہ ہے کہ وہ چوڑائی میں ظاہر ہوتی ہے لمبائی میں نہیں
حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلالٍ , وَلا هَذَا الْبَيَاضُ لِعَمُودِ الصُّبْحِ حَتَّى يَسْتَطِيرَ"
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں بلال (رضی اللہ عنہ) کی اذان اور صبح کی عمودی سفیدی دھوکے میں نہ ڈالے (اور تم سحری کھانا چھوڑ بیٹھو) یہاں تک (صبح صادق کی) روشنی چوڑائی میں پھیل جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1929]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1094، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1929، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1555، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2170، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2346، والترمذي فى (جامعه) برقم: 706، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1819، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2189، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20396»
اس بات کی دلیل کا بیان کہ دوسری فجر جو ہم نے ذکر کی ہے وہ چوڑائی میں پھیلنے والی سفیدی ہے اور اس کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے - بشر طیکہ روایت صحیح ہو- کیونکہ میں عبداللہ بن نعمان کے بارے میں جرح وتعدیل نہیں جانتا- اور ملازم بن عمرو کے سوا اُن سے روایت کرنے والا کوئی شاگرد بھی مجھے معلوم نہیں ہے -
حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّعْمَانِ السُّحَيْمِيُّ ، قَالَ: أَتَانِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُوا وَاشْرَبُوا، وَلا يَغُرَّنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الأَحْمَرُ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ
جناب طلق بن علی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(سحری) کھاتے اور پیتے رہو اور تم کو اوپر چڑھنے والی سفید روشنی دھوکے میں نہ ڈالے۔ اور تم کھاتے پیتے رہو حتّیٰ کہ تمہارے لئے سرخ دھاری واضح ہو جائے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1930]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1930، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2348، والترمذي فى (جامعه) برقم: 705، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2188، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9162»
اس بات کی دلیل کا بیان کہ فجر سے پہلے کی اذان روزے دار کو اس کے کھانے، پینے اور جماع کرنے سے نہیں روکتی۔ عوام کے خیال کے بر خلاف جو اسے روکنے والی خیال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ بلال (رضی اللہ عنہ) رات کے وقت اذان دیتے ہیں تو تم کھاتے اور پیتے رہو حتّیٰ کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1931]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 617، 620، 1918، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 380، ومالك فى (الموطأ) برقم: 242، وابن الجارود فى "المنتقى"، 181، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 401، 424، 1931، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3469، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 636، والترمذي فى (جامعه) برقم: 203، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1816، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4640»
سیدنا بلال اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کے درمیان وقفے کا بیان
حدیث نمبر: 1932
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" . قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلا قَدْرُ مَا يَنْزِلُ هَذَا , وَيَرْقَى هَذَا. وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: عَنْ قَاسِمٍ , وَقَالَ أَيْضًا:" إِذَا أَذَّنَ بِلالٌ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ". قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا , وَيَصْعَدَ هَذَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَقُولُ مِنَ الأَخْبَارِ الْمُعَلِّلَةِ الَّتِي يَجُوزُ الْقِيَاسُ عَلَيْهَا , وَيَتَعَيَّنُ الْعِلْمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَمَرَ بِالأَكْلِ وَالشُّرْبِ بَعْدَ نِدَاءِ بِلالٍ أَعْلَمَهُمْ أَنَّ الْجِمَاعَ وَكُلَّ مَا جَازَ لِلْمُفْطِرِ فَجَائِزٌ فِعْلُهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ , لا أَنَّهُ أَبَاحَ الأَكْلَ وَالشُّرْبَ فَقَطْ دُونَ غَيْرِهِمَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بلال (رضی اللہ عنہ) رات کے وقت اذان دیتے ہیں تو تم (سحری) کھاؤ اور پیو حتّیٰ کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دیں۔“ اور فرمایا کہ ان دونوں کی اذانوں کے درمیان وقفہ اتنا ہی تھا کہ یہ اذان دینے کے لئے اُترتے اور وہ چڑھ جاتے۔ اور جناب الدورقی کی قاسم سے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”جب بلال اذان دے تو تم کھاؤ اور پیو حتّیٰ کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دیں۔“ اور ان دونوں کی اذان میں بس اتنا سا وقفہ ہوتا تھا کہ یہ اذان دے کر اُترتے اور وہ چڑھ جاتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت اسی قسم سے ہے جن کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ وہ ایسی علتوں پر مشتمل ہیں جن پر قیاس کرنا جائز ہے ـ اور یہ بات یقینی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے بعد کھانے پینے کی اجازت دی ہے تو اُنہیں یہ بتا دیا کہ اس وقت میں جماع کرنا اور غیر روزے دار کے لئے مباح ہر کام اس وقت میں جائز ہے ـ یہ بات نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کھانے پینے کو مباح قرار دیا ہے اور باقی چیزوں کو ممنوع قرار دیا ہے ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1932]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 622، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 380، ابن الجارود فى "المنتقى"، 182، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 403، 406، 407، 408، 1932، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3473، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 638، وأبو داود فى (سننه) برقم: 535، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1822، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24802»
طلوع فجر سے پہلے فرضی روزے کا پختہ عزم اور نیت کرنا واجب ہے اس سلسلے میں عام الفاظ کا بیان جن کی مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 1933
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ لَمْ يَجْمَعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلا صِيَامَ لَهُ" . وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ , أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ بِمِثْلِهِ سَوَاءً، وَزَادَ: قَالَ: وَقَالَ لِي مَالِكٌ، وَاللَّيْثُ بِمِثْلِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے فجر سے پہلے روزے کا پختہ ارادہ و نیت نہ کی تو اُس کا روزہ نہیں ہو گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1933]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1009، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1933، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2330، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2454، والترمذي فى (جامعه) برقم: 730، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1740، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1700، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8003، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2214، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27100»
ہر روزے کے لئے نیت اس دن کے طلوع فجر سے پہلے پہلے کرنا واجب ہے۔ اُن لوگوں کے قول کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ پورے مہینے کے لئے ایک ہی وقت میں ایک ہی بار نیت کرلینا جائز ہے
امام ابوبکر رحمه ﷲ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث کہ بیشک اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے اور بلاشبہ ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اُس نے نیت کی کتاب الوضوء میں لکھوا چکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1934]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1، 54، 2529، 3898، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1907،، وابن الجارود فى "المنتقى"، 71، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 142، 143، 455، 1934، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 388، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 75، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2201، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1647، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4227، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 182، والدارقطني فى (سننه) برقم: 131، وأحمد فى (مسنده) برقم: 170، 306، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 37، والحميدي فى (مسنده) برقم: 28»
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: ”جس نے رات کے وقت روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہے۔“ سے آپ کی مراد فرضی روزہ ہے نفلی روزہ مراد نہیں۔
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف لاتے اور پو چھتے: ”کیا تمہارے پاس کھانا موجود ہے وگرنہ میں روزے سے ہوں“ میں نفلی روزوں کے باب میں بیان کرچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1935]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1154، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1935، 2141، 2143، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3628، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2321، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2455، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1701، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8009، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2232، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24857، والحميدي فى (مسنده) برقم: 190»
سحری کھانے کا حُکم مستحب اور راہنمائی کے لئے ہے کیونکہ سحری کھانا بابرکت ہے۔ یہ حُکم فرض و واجب نہیں کہ سحری نہ کھانے والا گناہ گار شمار ہو
حدیث نمبر: 1936
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَسَحَّرُوا ؛ فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" . حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ , نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلِهِ سَوَاءً. مَرْفُوعًا
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1936]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1936، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2143، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2465، 2466، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5073، والبزار فى (مسنده) برقم: 1820، 1821، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10235»
حدیث نمبر: 1937
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَسَحَّرُوا ؛ فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1937]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1923، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1095، وابن الجارود فى "المنتقى"، 420، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1937، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3466، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2145، والترمذي فى (جامعه) برقم: 708، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1738، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1692، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8210، 8211، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12131»