🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
گزشتہ مجمل لفظ کی تفسیر بیان کرنے والی روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1921
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي يَعْنِي عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا كُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعًا وَعِشْرِينَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ"
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تو میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ بالا خانے میں اُنتیس دن رہے ہیں (جبکہ آپ نے ایک مہینے کی علیحدگی اختیار کی تھی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1921]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 89، 2468، 4913، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1479، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1921، 2178، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3453، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7164، 7953، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2131، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2461، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4153، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13391، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4013، 4014، وأحمد فى (مسنده) برقم: 227»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں رمضان المبارک کے اُنتیس روزوں کی تعداد روزوں کی نسبت زیادہ تھی۔ ان جاہل اور بے عقل لوگوں کے خیال کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ ہر رمضان کے تیس روزے مکمّل کرنا واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1922
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ دِينَارٍ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا أَحْمَدُ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " لَمَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلاثِينَ" . وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ: عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: عَنِ ابْنِ الْحَارِثِ، وَلَمْ يُسَمِّهِ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُنتیس روزے تیس روزوں کی نسبت زیادہ مرتبہ رکھے ہیں ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1922]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1922، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2322، والترمذي فى (جامعه) برقم: 689، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8298، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2350، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3852»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
چاند کی روَیت کے لئے ایک گواہ کی گواہی جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1923
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، نا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَبْصَرْتُ الْهِلالَ اللَّيْلَةَ. فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" قُمْ يَا فُلانُ فَأَذِّنْ بِالنَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو اُس نے کہا کہ میں نے آج رات چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے بندے اور رسول ہیں۔ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں، کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں میں اعلان کردو کہ وہ صبح روزہ رکھیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1923]
تخریج الحدیث: «ضعيف، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 416، 417، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1923، 1924، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3446، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1108، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2111، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2340، 2341، والترمذي فى (جامعه) برقم: 691، 691 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1734، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1652، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8071، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2152، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9557، 9560»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَنَحْوِهِ. وَقَالَ: أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ بِالنَّاسِ
جناب زائدہ کی سند سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے اور فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1924]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 416، 417، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1923، 1924، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3446، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1108، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2111، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2340، 2341، والترمذي فى (جامعه) برقم: 691، 691 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1734، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1652، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8071، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2152، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9557، 9560»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”حتّیٰ کہ صبح کی سفید دھاری تمہارے لئے سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے“ سے اللہ تعالیٰ کی مراد رات کے بعد دن کی سفیدی کا ظاہر ہونا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1925
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ"
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت «‏‏‏‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ» ‏‏‏‏ [ سورة البقرة: 187 ] اور تم کھاؤ اور پیو حتّیٰ کہ تمہارے لئے صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے اُتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ رات کی سیاہی سے دن کی سفیدی کا نمایاں ہونا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1925]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1916، 4509، 4510، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1090، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1925، 1926، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3462، 3463، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2168، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2349، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2970، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 277، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8096، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19680»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ؟ أَهُمَا الْخَيْطَانِ؟ قَالَ:" إِنَّكَ لَعَرِيضُ الْقَفَا، أَرَأَيْتَ أَبْصَرْتَ الْخَيْطَيْنِ قَطُّ"؟ ثُمَّ قَالَ:" لا بَلْ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ"
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول سیاہ دھاگے اور سفید دھاگے سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ دو دھاگے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم چوڑی گُدی والے ہو۔ مجھے بتاؤ کیا تم نے کبھی دو دھاگے دیکھے ہیں؟ پھر فرمایا: نہیں، بلکہ اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1926]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1916، 4509، 4510، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1090، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1925، 1926، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3462، 3463، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2168، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2349، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2970، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 277، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8096، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19680»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ فجر دو قسم کی ہے۔ اور دوسری فجر کے طلوع ہونے سے روزے دار کے لئے کھانا پینا اور جماع کرنا حرام ہو جاتا ہے پہلی فجر سے نہیں ہوتا اور یہ مسئلہ اسی جنس سے ہے جسے میں نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے فرامین کی وضاحت کی ذمہ داری اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپی ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1927
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ أَصْلُهُ بَغْدَادِيٌّ انْتَقَلَ إِلَى فُسْطَاطٍ، نا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَأَمَّا الأَوَّلُ فَإِنَّهُ لا يُحَرِّمُ الطَّعَامَ , وَلا يُحِلُّ الصَّلاةَ , وَأَمَّا الثَّانِي فَإِنَّهُ يُحَرِّمُ الطَّعَامَ , وَيُحِلُّ الصَّلاةَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا لَمْ يَرْوِهِ أَحَدٌ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ إِلا ابْنُ مُحْرِزٍ هَذَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر دو قسم کی ہے، پہلی فجر تو نہ کھانا کھانے کو حرام کرتی ہے اور نہ نماز فجرپڑھنے کو جائز کرتی ہے۔ جبکہ دوسری فجر کھانا حرام کرتی ہے اور نماز کو حلال کرتی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ابواحمد سے صرف ابن محرز ہی روایت کرتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1927]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 356، 1927، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 256، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 692، 1554، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1799، 1800، 2186، 8100، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2185»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مذکورہ بالا فجر کی صفت یہ ہے کہ وہ چوڑائی میں ظاہر ہوتی ہے لمبائی میں نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1928
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الدَّوْرَقِيُّ ، نا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَمْنَعَنَّ أَذَانُ بِلالٍ أَحَدًا مِنْكُمْ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُنَادِي أَوْ يُؤَذِّنُ لِيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ". قَالَ:" وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ يَعْنِي الصُّبْحَ هَكَذَا أَوْ قَالَ هَكَذَا، وَلَكِنْ حَتَّى يَقُولَ: هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي طُولا , وَلَكِنْ هَكَذَا يَعْنِي عَرَضًا"
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کو بلال (رضی اللہ عنہ) کی اذان اُسے سحری کرنے سے نہ روکے کیونکہ وہ اذان اس لئے دیتے ہیں تاکہ تمہارا سونے والے جاگ جائے اور نماز تہجّد کے لئے کھڑا ہونے والا (سحری کھانے کے لئے گھر) لوٹ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح اس طرح (لمبائی میں) ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اس طرح یعنی چوڑائی میں ظاہر ہوتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1928]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 621، 5298، 7247، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1093، وابن الجارود فى "المنتقى"، 172، 419، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 402، 1928، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3468، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 640، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2347، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1696، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1821، 8117، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3728»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں