🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اگر بادلوں کی وجہ سے چاند لوگوں سے چھپا نہ ہو تو چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کے حُکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1905
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم چاند کو دیکھ لو تو روزے رکھو اور جب چاند دیکھ لو تو روزہ افطار کرلو اور اگر تم پربادل چھائے ہوں تو اس کی گنتی پوری کرلو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1900، 1906، 1907، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1080، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1001، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1905، 1906، 1907، 1909، 1913، 1917، 1918، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3441، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1544، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2119، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2319، 2320، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1655، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8019، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2167، 2168، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4574»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کا بیان کہ اللہ تعالی نے چاند کو لوگوں کے لئے روزہ رکھنے اور افطار کرنے کے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1906
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الشَّهْرَ لا يَزِيدُ عَلَى ثَلاثِينَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے چاند کو اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ لہٰذا جب تم اسے دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کردو، پھر اگر تم پر بادل چھا جائیں (اور چاند نظر نہ آئے) تو اس کی گنتی پوری کرلو اور خوب جان لو کہ مہینہ تیس دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1906]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1900، 1906، 1907، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1080، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1001، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1905، 1906، 1907، 1909، 1913، 1917، 1918، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3441، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1544، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2119، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2319، 2320، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1655، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8019، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2167، 2168، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4574»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جب لوگوں پر بادل چھا جائیں تو مہینے کا اندازہ اور گنتی کرنے کے حُکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1907
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فلا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، إِلا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ حُفَّاظِ الدُّنْيَا فِي زَمَانِهِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اُنتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا تم چاند کو دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور نہ چاند دیکھے بغیر افطار کرو، سوائے اس کے کہ تم پر بادل چھا جائیں پھر اگر بادل چھائے ہوں تو مہینے کا اندازہ اور گنتی کرلو۔ امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں کہ جناب اسماعیل بن جعفر اپنے زمانے کے دنیا کے عظیم حافظ حدیث تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1907]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1900، 1906، 1907، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1080، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1001، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1905، 1906، 1907، 1909، 1913، 1917، 1918، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3441، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1544، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2119، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2319، 2320، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1655، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8019، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2167، 2168، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4574»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب آسمان پر بادل چھا جائیں تو رمضان المبارک کا اندازہ کرنے کے لئے شعبان کے تیس دن شمار کریں گے پھر روزے رکھے جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1908
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: " فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح روایت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اگر تم پر بادل چھا جائیں تو (شعبان کے) تیس دن شمار کرلو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1909، 1914، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1081، وابن الجارود فى "المنتقى"، 413، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1908، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3442، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1553، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2116، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2324، والترمذي فى (جامعه) برقم: 684، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1646، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6375، الدارقطني فى (سننه) برقم: 2160، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7320»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلاثِينَ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، وَيَعْقِدُ فِي الثَّالِثَةِ،" فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلاثِينَ" . وَفِي خَبَرِ ابْنِ فُضَيْلٍ: ثُمَّ طَبَّقَ بِيَدِهِ، وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً مِنْ أَصَابِعِهِ،" فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَثَلاثِينَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ ایسے ایسے اور ایسے تیس دن کا ہوتا ہے۔ اور مہینہ اس طرح اور اس طرح بھی ہوتا ہے۔ اور تیسری (اپنے انگوٹھے کو) بند کر لیتے (یعنی مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے) اور اگر تم پر بادل چھا جائیں تو (شعبان کے) تیس دن مکمّل کرلو۔ جناب ابن فضیل کی روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھولا اور ایک اُنگلی کو بند رکھا (اُنتیس کا اشارہ کیا) پھر اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو (شعبان کے) تیس دن پورے کرو ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1909]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1900، 1906، 1907، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1080، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1001، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1905، 1906، 1907، 1909، 1913، 1917، 1918، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3441، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1544، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2119، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2319، 2320، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1655، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8019، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2167، 2168، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4574»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جن کا دعویٰ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے تیس روزے مکمّل کرنے کا حُکم دیا ہے، شعبان کے تیس دن مکمّل کرنے کا حُکم نہیں دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1910
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ :" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يتحفَّظُ مِنْ هِلالِ شَعْبَانَ مَا لا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ، عَدَّ ثَلاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ صَامَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر شعبان کے چاند کا خیال رکھتے تھے اس قدر دوسرے کسی مہینے کا خیال نہیں رکھتے تھے ـ پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے۔ اور اگر آپ پر بادل چھا جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (شعبان کے) تیس دن شمار کرتے پھر روزہ رکھتے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1910]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 414، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1910، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3444، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1545، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2325، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8036، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2149، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25800»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جب رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کیئے بغیر رمضان کا روزہ رکھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1911
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُقَدِّمُوا هَذَا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوَا الْهِلالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ"
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مہینے (رمضان) سے آگے نہ پڑھو حتُیٰ کہ تم چاند دیکھ لو یا (شعبان کی) گنتی مکمّل کرلو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1911، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3458، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2125، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2447، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2326، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8047، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2166»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ الْبَزَّارُ ، نا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ، وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ. فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: وَاللَّهِ لَتَدْنُوَنَّ. قُلْتُ: فَحَدِّثْنِي. قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالا، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ"
جناب سماک بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عکرمہ کے پاس اُس دن آیا جس دن رمضان کے شروع ہو جانے کے بارے میں شک کیا جا رہا ہے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے۔ تو اُنہوں نے کہا کہ قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ۔ تو میں نے عرض کی کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم، تم ضرور قریب ہوگے (اور کھاؤ گے) میں نے کہا کہ تو مجھے (اس بارے میں) بیان فرمائیں۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (روزہ رکھ کر) رمضان کا استقبال مت کرو۔ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو ـ پھر ایک چاند دیکھنے اور تمہارے درمیان بادل یا دھند و غبار حائل ہو جائے تو (شعبان کی) گنتی تیس دن پوری کرلو ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1003، وابن الجارود فى "المنتقى"، 412، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3590، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1552، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2123 وأبو داود فى (سننه) برقم: 2327، والترمذي فى (جامعه) برقم: 688، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8043، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1956»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جب مطلع ابر آلود نہ ہو تو رمضان کا چاند دیکھے بغیر رمضان کا روزہ رکھنا منع ہے۔ اسی طرح اگر چاند بادل میں چھپا نہ ہو تو شوال کا چاند دیکھے بغیر روزے رکھنا بند کرنا بھی منع ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں