صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کا بیان کہ سینگی لگوانے سے سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے
حدیث نمبر: 1978
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلاثٌ لا يُفَطِّرْنَ الصَّائِمَ: الاحْتِلامُ، وَالْقَيْءُ، وَالْحِجَامَةُ" . سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: هَذَا الْخَبَرُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَلا عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَالْمَحْفُوظُ عِنْدَنَا: حَدِيثُ سُفْيَانَ، وَمَعْمَرٍ
جناب عطاء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں روزے دار کا روزہ نہیں توڑتیں، احتلام کا ہونا، قے کا آنا اور اور سینگی لگوانا۔“ جناب محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اور عطاء بن یسار کے واسطے سے غیر محفوظ ہے۔ ہمارے نزدیک محفوظ روایت امام سفیان ثوری اور معمرکی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1978]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف مرسل، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1972، 1978، والترمذي فى (جامعه) برقم: 719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8130، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2269، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1039»
حدیث نمبر: 1979
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ :" لا بَأْسَ بِالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ روزے دار کے لئے سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1979]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح موقوف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1967، 1968، 1969، 1979، 1980، 1981، 1982، 2005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3224،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8366، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9414»
حدیث نمبر: 1980
نا مُحَمَّدٌ، نا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : " أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بِالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا"
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ روزے دار کی سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1980]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح موقوف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1967، 1968، 1969، 1979، 1980، 1981، 1982، 2005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3224،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8366، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9414»
حدیث نمبر: 1981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، نا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " لا بَأْسَ بِالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ"
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ روزے دار کو سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1981]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1967، 1968، 1969، 1979، 1980، 1981، 1982، 2005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3224،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8366، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9414»
حدیث نمبر: 1982
نا مُحَمَّدٌ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ، نا عَبْدَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ لَيْسَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَلا أَظُنُّ مَعْمَرًا لَفِظَهُ
جناب ابومتوکل سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ـ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کرتے ـ میرے خیال میں معمر نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1982]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح موقوف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1967، 1968، 1969، 1979، 1980، 1981، 1982، 2005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3224،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8366، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9414»
حدیث نمبر: 1983
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَمَانَ عَشَرَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ"
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رمضان المبارک کی اٹھارہ تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا تو آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو سینگی لگوارہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی لگوانے اور سینگی لگانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا ہے ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1983]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 425، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1962، 1963، 1983، 1984، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3532، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1563، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1680، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8376، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22804»
حدیث نمبر: 1984
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ الْبَصْرِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَكُلُّ مَا لَمْ أَقُلْ إِلَى آخِرِ هَذَا الْبَابِ: إِنَّ هَذَا صَحِيحٌ , فَلَيْسَ مِنْ شَرْطِنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، وَالْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ثَوْبَانَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ خَبَرُ ثَوْبَانَ عِنْدِي صَحِيحٌ فِي هَذَا الإِسْنَادِ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی لگانے اور سینگی لگوانے والے کا روزہ کھل گیا ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس باب کے آخر تک ہر وہ روایت جس کے بارے میں میں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ تو وہ حدیث ہماری اس کتاب کی شرط کے مطابق نہیں ہے۔ امام حسن بصری رحمه الله نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے احادیث نہیں سنیں، امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث میرے نزدیک اس سند سے صحیح ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1984]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 425، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1962، 1963، 1983، 1984، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3532، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1563، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2367، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1680، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8376، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22804»
اس بات کی دلیل کا بیان کہ ناک میں ڈالنے والی دوا اور ہر وہ چیز جو نتھنوں کے ذریعے سے ناک میں چلی جائے، اس سے روزے دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے
حدیث نمبر: 1985
خَبَرُ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ، إِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا"
حضرت لقیط بن صبرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ناک میں پانی چڑھاؤ تو خوب اچھی طرح چڑھاؤ، سوائے اس کے کہ تم روزے کی حالت میں ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1985]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، 0»
افطاری کے وقت سے پہلے روزہ کھولنے والوں کو اُن کی کونچوں سے لٹکا ئے جانے اور آخرت میں انہیں عذاب دیئے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1986
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، نا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلانِ، فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ، فَأَتَيَا بِي جَبَلا وَعْرًا، فَقَالا: اصْعَدْ. فَقُلْتُ: إِنِّي لا أُطِيقُهُ. فَقَالا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ. فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ، قُلْتُ: مَا هَذِهِ الأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ. ثُمَّ انْطَلَقَا بِي، فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ، مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ، تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: هَؤُلاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ. فَقَالَ: خَابَتِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: مَا أَدْرِي أَسَمِعَهُ أَبُو أُمَامَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِهِ؟، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، وَأَسْوَئِهِ مَنْظَرًا، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلاءِ قَتْلَى الْكُفَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، كَأَنَّ رِيحَهُمُ الْمَرَاحِيضُ. قُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: هَؤُلاءِ الزَّانُونَ وَالزَّوَانِي. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِنِسَاءٍ تَنْهَشُ ثُدِيَّهُنَّ الْحَيَّاتُ. قُلْتُ: مَا بَالُ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: هَؤُلاءِ يَمْنَعْنَ أَوْلادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِالْغِلْمَانِ يَلْعَبُونَ بَيْنَ نَهْرَيْنِ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: هَؤُلاءِ ذَرَارِي الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ شَرَفَ شَرَفًا، فَإِذَا أَنَا بِنَفَرٍ ثَلاثَةٍ يَشْرَبُونَ مِنْ خَمْرٍ لَهُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: هَؤُلاءِ جَعْفَرٌ، وَزِيدٌ، وَابْنُ رَوَاحَةَ. ثُمَّ شَرَفَنِي شَرَفًا آخَرَ، فَإِذَا أَنَا بِنَفَرٍ ثَلاثَةٍ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: هَذَا إِبْرَاهِيمُ، وَمُوسَى، وَعِيسَى، وَهُمْ يَنْظُرُونِي" . هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ
سیدنا ابوامامہ باہلی مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا٬ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ” اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا جب میرے پاس دو آنے والے آئے ٬ انہوں نے مجھے میرے بازوؤں سے پکڑا اور مجھے ایک دشوار گزار مشکل چڑھائی والے پہاڑ پر لے آئے۔ دونوں نے مجھ سے کہا کہ چڑھیے۔ تو میں نے کہا کہ اس پر چڑھ نہیں سکتا۔ وہ کہنے لگے کہ ہم آپ کے لئے اسے آسان بنائیں گے تو میں چڑھ گیا حتّیٰ کہ جب میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو بڑی دردناک آوازیں آئیں، میں نے پوچھا کہ یہ آواز کیسی ہیں؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ یہ جہنّمیوں کی چیخ پکار ہے۔ پھر وہ مجھے لیکر (آگے) چلے تو اچانک میں نے ایسے لوگ دیکھے جنہیں اُن کی کونچوں سے لٹکایا گیا تھا۔ اُن کے جبڑے چِرے ہوئے تھے اور اُن سے خون نکل رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لو گ ہیں؟ جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری کے وقت سے پہلے روزہ کھول لیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود ونصاریٰ تباہ و برباد ہو گئے۔“ جناب سلیمان بن عامر کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں یا یہ اُن کی اپنی رائے ہے۔ ”پھر آپ چلے تو ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو بہت زیادہ پھولے ہوئے تھے، ان کی بدبُو بڑی غلیظ اور ان کا منظر بڑا دردناک تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ یہ کفار کے مقتولین ہیں۔ پھرمجھے ایک ایسی قوم کے پاس لیکر گئے جن کے جسم شدید پھولے ہوئے تھے اور اُن کی بدبُو پاخانے جیسی غلیظ اور گندی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ زنا کار مرد اور زنا کار عورتیں ہیں۔ پھر مجھے لے جایا گیا تو اچانک کچھ عورتیں تھیں جن کے پستان سانپ نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ ان کا کیا ہوا ہے؟ (کس جرم کی سزا پارہی ہیں؟) جواب دیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچّوں کو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ پھر مجھے لے جایا گیا تو نا گہاں میں نے کچھ بچّے دیکھے جو دونہروں کے درمیان کھیل رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ یہ مؤمنوں کے بچّے ہیں۔ پھر میں کچھ بلندی پر گیا تو میں نے تین شخص دیکھے جو اپنی شراب پی رہے تھے، میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ اُنہوں نے بتایا کہ یہ سیدنا جعفر، زید اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ پھر میں ایک اور بلند جگہ پر چڑھا تو وہاں بھی میں نے تین افراد دیکھے۔ میں نے کہا کہ یہ کون ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ یہ ابراہیم، موسیٰ، اور عیسیٰ (علیہم السلام) ہیں۔ جبکہ وہ مجھے دیکھ رہے تھے۔ یہ جناب ربیع کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1986]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1986، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7491، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1573، 2854، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3273، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8103، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7666، 7667»