🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکّہ والے سال (دوران سفر) صحابہ کرام کو روزہ کھولنے کا حُکم اس لئے دیا تھا کیونکہ روزہ کھولنا اُن کے لئے جنگ میں قوت و طاقت کا باعث تھا۔ یہ وجہ نہیں تھی کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2023
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي قَزْعَةُ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ , فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قُلْتُ: لا أَسْأَلُكُ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلاءِ عَنْهُ , وَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ , فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ , فَنَزَلْنَا مَنْزِلا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ , وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ". فَكَانَتْ رُخْصَةً , فَمِنَّا مَنْ صَامَ , وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ. ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلا آخَرَ , فَقَالَ:" إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ , وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ , فَأَفْطِرُوا" . فَكَانَتْ عَزْمَةً، فَأَفْطَرْنَا , ثُمَّ قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا الْخَبَرُ بَيَّنَ وَأَوْضَحَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُمْ عُصَاةً إِذْ عَزَمَ عَلَيْهِمْ فِي الْفِطْرِ لِيَكُونَ أَقْوَى لَهُمْ عَلَى عَدُوِّهِمْ , إِذْ قَدْ دَنَوْا مِنْهُمْ , وَيَحْتَاجُونَ إِلَى مُحَارَبَتِهِمْ , فَلَمْ يَأْتَمِرُوا لأَمْرِهِ ؛ لأَنَّ خَبَرَ جَابِرٍ فِي عَامِ الْفَتْحِ , وَهَذَا الْخَبَرُ فِي تِلْكَ السَّفْرَةِ , أَيْضًا فَلَمَّا عَزَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ بِالْفِطْرِ، ليَكُونُ الْفِطْرُ أَقْوَى لَهُمْ , فَصَامُوا حَتَّى كَانَ يُغْشَى عَلَى بَعْضِهِمْ , وَيَحْتَاجُ إِلَى أَنْ يُظَلَّلَ , وَيُنْضَحَ الْمَاءُ عَلَيْهِ , فَيَضْعُفُوا عَنْ مُحَارَبَةِ عَدُوِّهِمْ , جَازَ أَنْ يُسَمِّيَهُمْ عُصَاةً , إِذْ أَمْرَهُمْ بِالتَّقَوِّي لِعَدُوِّهِمْ , فَلَمْ يُطِيعُوا , وَلَمْ يَتَقَوَّوْا لَهُمْ
جناب قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ اُن کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا تو جب لوگ منتشر ہوئے تو میں نے عرض کی کہ میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جن کے بارے میں یہ لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے۔ اور میں نے اُن سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ ہم نے روزہ رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکّہ کی طرف سفر کیا پھر ہم ایک جگہ آرام کرنے کے لئے رُکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تم اپنے دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اور روزہ نہ رکھنا یہ تمہارے لئے تقویت کا باعث ہے۔“ تو یہ رخصت تھی لہٰذا ہم میں سے بعض نے روزہ رکھ لیا اور کچھ افراد نے روزہ نہ رکھا۔ پھر ہم ایک اور منزل پر اُترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم صبح کے وقت دشمن کے پاس پہنچنے والے ہو اور اب تمہارا روزہ نہ رکھنا تمہارے لئے (دشمن کے مقابلے میں) طاقت کا باعث ہوگا۔ لہٰذا روزہ نہ رکھو۔ اس طرح یہ لازمی حُکم تھا تو ہم نے روزہ چھوڑ دیا۔ پھر فرماتے ہیں کہ پھر اس سفر کے بعد میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ ہم سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزہ رکھ لیتے تھے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت واضح طور پر بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافرمان اُس وقت قراردیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں روزہ کھولنے کا وجوبی حُکم دے دیا تھا تاکہ دشمن کے مقابلے میں انہیں قوت و طاقت حاصل ہوسکے۔ کیونکہ وہ دشمن کے قریب آ چکے تھے اور ان کے ساتھ جنگ کی ضرورت تھی۔ مگر اُنہوں نے آپ کے حُکم کی تعمیل نہ کی (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافرمان قرار دیا) کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت اور یہ روایت دونوں فتح مکّہ والے سال کے سفر سے متعلق ہیں۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کھولنا اُن کے لئے ضروری قراردے دیا تاکہ روزہ کھولنا اُن کے لئے طاقت کا باعث ہو اور اُنہوں نے روزہ نہ کھولا حتّیٰ کہ ایک شخص بیہوش ہوگیا اور اس پر سایہ کرنا پڑا اور پانی کا چھڑکاؤ کرنا پڑا، اور وہ دشمن کے مقابلے کے لئے کمزورہوگئے تو ایسے وقت میں انہیں نافرمان قرار دینا درست اور جائز تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں دشمن کے مقابلے کے لئے طاقت حاصل کرنے کا حُکم دیا تھا اور اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کی اور نہ دشمن کے لئے طاقت حاصل کی۔ بے رغبتی کی وجہ سے سنّت نبوی کو ترک کرنے والے کو نافرمان قرار دینا درست ہے۔ صرف سنّت نبوی کو چھوڑنے پر نافرمان نہیں کہا جائے گا کیونکہ سنّت نبوی کو چھوڑنا معصیت ونافرمانی نہیں ہے جبکہ اس پر عمل کرنا فضیلت کا باعث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2023]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1120، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2023، 2038، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4742، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2406، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1684، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8245، 8246، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11414»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کو اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے چھوڑنے پر سخت وعید کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میری سنّت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2024]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2024، وانفرد به المصنف من هذا الطريق» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسافر سے روزے کی فرضیت ساقط ہونے کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک میں حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کے روزہ چھوڑنے کے جواز کے باب میں سیدنا انس بن مالک قشیری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نے بعد میں ذکر کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2025]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2025، 2042، 2043، 2044، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2273، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2408، والترمذي فى (جامعه) برقم: 715، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1667، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5570، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19352»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کا بیان کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا رخصت ہے، روزہ نہ رکھنا فرض نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2026
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ , فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ , فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ , وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلا جُنَاحٌ عَلَيْهِ" . قَالَ: وَفِي خَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ , فَاقْبَلُوهَا"
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ ”اے اللہ کے رسول، میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا (روزہ رکھنے کی صورت میں) مجھے کوئی گناہ ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے تو جو شخص اس رخصت سے فائدہ اُٹھائے تو بہت اچھا ہے۔ اور جو شخص روزہ رکھنا پسند کرے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو اختیار کرو، جو رخصت اللہ نے تمہیں عطا کی ہے اسے قبول کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2026]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1121، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1034، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2026، 2153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1586، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2293، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2403، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8240، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2301، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اللہ تعالی کی اپنے مؤمن بندوں کو دی ہوئی رخصت کو قبول کرتے ہوئے رمضان المبارک میں سفر کے دوران روزہ نہ رکھنا مستحب ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی اپنی رخصت کو قبول کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2027
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ ، وَزَعَمَ عُمَارَةُ أَنَّهُ رَضِيَ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُتْرَكَ مَعْصِيَتُهُ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اُس کی رخصتوں کو اختیار کیا جائے جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اُس کی نافرمانی ترک کر دی جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2027]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 950، 2027، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2742، 3568، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5498، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5971، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 27003، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 5302»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسافر کو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا اختیار دینے کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2028
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ , وَكَانَ رَجُلا يَسْرُدُ الصَّوْمَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ بِالْخِيَارِ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ , وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ"
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا اور وہ مسلسل روزے رکھتے تھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اختیار ہے تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور اگر تم چاہو تو روزہ چھوڑ دو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2028]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1942، 1943، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1121، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3560، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2305، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2402، والترمذي فى (جامعه) برقم: 711، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1662، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8253، 8254، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24833»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2029
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنَّهُمَا سَافَرَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، فَلا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ , وَلا الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا بَابٌ طَوِيلٌ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
سیدنا ابوسعید خدری اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھ لیتا اور چھوڑنے والا چھوڑدیتا۔ پھر روزہ چھوڑنے والا روزے دار پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور نہ روزے دار روزہ چھوڑنے والے پر کوئی عیب لگاتا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ باب بڑا طویل ہے۔ میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کر دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2029]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1116، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2029، 2030، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3558، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2308، والترمذي فى (جامعه) برقم: 712، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8261، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11242»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں