🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلاَّ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَائِرَ الْعِظَامِ:
باب: ذبح ہر چیز سے درست ہے جو خون بہائے سوائے دانت اور ناخن اور ہڈی کے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1968 ترقیم شاملہ: -- 5094
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ ، ثُمَّ حَدَّثَنِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى فَنُذَكِّي بِاللِّيطِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَقَالَ: فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى وَهَصْنَاهُ.
اسماعیل بن مسلم اور عمر بن سعید نے سعید بن مسروق سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے، انہوں نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے عرض کی، اللہ کے رسول اللہ! کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم بانس کے چھلکے (یا تیز دھار کھپچی) سے ذبح کر سکتے ہیں؟ اور سارے واقعے سمیت حدیث بیان کی اور کہا: ایک اونٹ ہم سے بدک کر بھاگ نکلا تو ہم نے اس پر تیر چلائے یہاں تک کہ اس کو گرا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5094]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا کل دشمن سے مقابلہ ہونے والا ہے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم بانس کی پھانک سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، اس میں ہے: ہم سے ایک اونٹ بھاگ گیا، تو ہم نے اس کو تیر مارا حتیٰ کہ ہم نے اس کو زمین پر گرا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5094]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1968
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1968 ترقیم شاملہ: -- 5095
وحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْحَدِيثَ إِلَى آخِرِهِ بِتَمَامِهِ، وَقَالَ فِيهِ وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ.
زائدہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پوری بیان کی اور اس میں کہا (ہم نے عرض کی:) ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں (کی کچھیوں) سے جانور ذبح کر لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5095]
امام صاحب ایک اور سند سے یہ حدیث مکمل طور پر بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ بھی ہے: ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں؟ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5095]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1968
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1968 ترقیم شاملہ: -- 5096
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ بِهَا فَكُفِئَتْ وَذَكَرَ سَائِرَ الْقِصَّةِ.
زائدہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پوری بیان کی اور اس میں کہا: (ہم نے عرض کی،) ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں (کی کھپچیوں) سے جانور ذبح کر لیں۔ شعبہ نے سعید بن مسروق سے انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع سے انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا (ہم نے عرض کی:) اللہ کے رسول اللہ! کل ہم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں پھر حدیث بیان کی، البتہ اس میں یہ نہیں کہا: ”لوگوں نے جلد بازی کی اور ان کے گوشت سے ہانڈیاں ابالنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں الٹ دیا گیا۔“ اور انہوں نے باقی سارا قصہ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5096]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کل دشمن سے ٹکرانے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی، لیکن اس میں یہ نہیں ہے: لوگوں نے جلد بازی سے کام لیا اور ان سے ہانڈیوں کو جوش دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کو الٹ دیا گیا، باقی قصہ پورا بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5096]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1968
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلاَثٍ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ:
باب: ابتدائے اسلام میں، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ممانعت اور اس کے منسوخ ہونے اور زائد از تین دن کھانے کی حلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1969 ترقیم شاملہ: -- 5097
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْ لُحُومِ نُسُكِنَا بَعْدَ ثَلَاثٍ ".
سفیان نے کہا: ہمیں زہری نے ابوعبید سے روایت کی کہا: میں عید کے موقع پر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ ہم تین دن (گزر جانے) کے بعد اپنی قربانیوں کا گوشت کھائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5097]
ابوعبید بیان کرتے ہیں، میں نے عید میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کی، تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5097]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1969 ترقیم شاملہ: -- 5098
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: فَصَلَّى لَنَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَا تَأْكُلُوا ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابن ازہر کے مولیٰ ابوعبید نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید پڑھی کہا: اس کے بعد میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید کی نماز پڑھی انہوں نے خطبے سے پہلے ہمیں نماز پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو تین راتوں سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے اس لیے (تین راتوں کے بعد یہ گوشت) نہ کھاؤ۔ ان تین دنوں میں کھا کر اور تقسیم کر کے ختم کر دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5098]
ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابوعبید بیان کرتے ہیں، میں عید میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا، پھر میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ پڑھی، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ قربانی کے گوشت کو تین راتوں سے زائد کھاؤ، اس لیے مت کھاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5098]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1969 ترقیم شاملہ: -- 5099
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن شہاب کے بھتیجے صالح اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5099]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے زہری رحمہ اللہ ہی کی سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5099]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1970 ترقیم شاملہ: -- 5100
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَأْكُلْ أَحَدٌ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ".
لیث نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنی قربانی کے گوشت میں سے تین دن کے بعد (کچھ) نہ کھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5100]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایک بھی اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زائد نہ کھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5100]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1970 ترقیم شاملہ: -- 5101
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ابن جریج اور ضحاک بن عثمان دونوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5101]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، جیسا کہ لیث نے بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1970 ترقیم شاملہ: -- 5102
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبد : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ "، قَالَ سَالِمٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَأْكُلُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: بَعْدَ ثَلَاثٍ.
ابن ابی عمر اور عبدبن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: عبدالرزاق نے کہا: معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی، انہوں نے سالم سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس بات سے) منع کیا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھایا جائے۔ سالم نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تین دن سے اوپر قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اور ابن ابی عمر نے (تین دن سے اوپر کے بجائے) ”تین کے بعد“ کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5102]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قربانیوں کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے“، حضرت سالم (ابن عمر رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما قربانیوں کا گوشت تین دن سے زائد نہیں کھاتے تھے، ابن ابی عمر رحمہ اللہ کی روایت میں «فَوْقَ ثَلَاثٍ» کی بجائے «بَعْدَ ثَلَاثٍ» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5102]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1971 ترقیم شاملہ: -- 5103
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ ، فَقَالَتْ: صَدَقَ, سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادَّخِرُوا ثَلَاثًا ثُمَّ تَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَ الْأَسْقِيَةَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟ "، قَالُوا: نَهَيْتَ أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَقَالَ: " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا ".
عبداللہ بن ابی بکر نے حضرت عبداللہ بن واقد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین (دن رات) کے بعد قربانیوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا: میں نے یہ بات عمرہ (بنت عبدالرحمان بن سعد انصاریہ) کو بتائی عمرہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بادیہ کے کچھ گھرانے (بھوک اور کمزوری کے سبب) آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جہاں لوگ قربانیوں کے لیے موجود تھے (قربان گاہ میں) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن تک کے لیے گوشت رکھ لو۔ جو باقی بچے (سب کا سب) صدقہ کر دو۔“ دوبارہ جب اس (قربانی) کا موقع آیا تو لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! لوگ تو اپنی قربانی (کی کھالوں) سے مشکیں بناتے ہیں اور اس کی چربی پگھلا کر ان میں سنبھال رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مطلب؟“ انہوں نے کہا: یہ (صورتحال ہم اس لیے بتا رہے ہیں کہ) آپ نے منع فرمایا تھا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت (وغیرہ استعمال نہ کیا جائے۔) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو تمہیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آئے تھے۔ اب (قربانی کا گوشت) کھاؤ رکھو اور صدقہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5103]
عبداللہ بن واقد نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا، (ابن واقد کے شاگرد) عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا تذکرہ حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا سے کیا، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے سنا کہ عید الاضحیٰ کے دن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کچھ بادیہ نشین گھرانے آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن کے لیے ذخیرہ کر لو اور باقی صدقہ کر دو۔“ جب اس کے بعد عید آئی تو صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے مشکیزے بناتے ہیں اور ان سے چربی پگھلاتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو بس آنے والی جماعت کی آمد کی خاطر منع کیا تھا، کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ بھی کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5103]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1971
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں