🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب سِنِّ الأُضْحِيَةِ:
باب: قربانی کی عمر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1965 ترقیم شاملہ: -- 5084
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ "، قَالَ قُتَيْبَةُ: عَلَى صَحَابَتِهِ.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے انہوں نے ابوخیر سے انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں عطا کیں کہ وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیں۔ آخر میں بکری کا ایک سالہ بچہ رہ گیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کی قربانی تم کر لو۔“ قتیبہ نے (اصحابہ کے بجائے) ”علی صحابتہ آپ کے صحابیوں میں (تقسیم کر دیں۔)“ کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5084]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ساتھیوں میں تقسیم کرنے کے لیے بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کر لیں، تو ایک «عَتُودٌ» (بکری کا بچہ) رہ گئی، انہوں نے اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تم کر لو۔“ قتیبہ نے «أَصْحَابِهِ» کی جگہ «صَحَابَتِهِ» کے الفاظ کہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1965
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1965 ترقیم شاملہ: -- 5085
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا ضَحَايَا، فَأَصَابَنِي جَذَعٌ، فَقُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ أَصَابَنِي جَذَعٌ، فَقَالَ: " ضَحِّ بِهِ ".
ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے بعجہ جہنی سے انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قربانی کے کچھ جانور بانٹے تو مجھے ایک سالہ بھیڑ یا بکری ملی۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ! میرے حصے میں ایک سالہ بھیڑ یا بکری آئی ہے آپ نے فرمایا: ”اسی کی قربانی کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5085]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں قربانیاں تقسیم فرمائیں اور مجھے جذعہ ملا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو جذعہ ملا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ہی قربانی کر لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5085]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1965
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1965 ترقیم شاملہ: -- 5086
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسَمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
معاویہ بن سلام نے کہا: مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے بعجہ بن عبداللہ نے بتایا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جانور تقسیم کیے۔ اسی (سابقہ) حدیث کے ہم معنی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5086]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جانور تقسیم فرمائے، اوپر کی روایت کے ہم معنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5086]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1965
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب اسْتِحْبَابِ الضَّحِيَّةِ وَذَبْحِهَا مُبَاشَرَةً بِلاَ تَوْكِيلٍ وَالتَّسْمِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ:
باب: قربانی اپنے ہاتھ سے کرنا مستحب ہے اسی طرح بسم اللہ و اللہ اکبر کہنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1966 ترقیم شاملہ: -- 5087
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی۔ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی۔ آپ نے (قربانی کے وقت انہیں لٹا کر) ان کے رخسار پر اپنا قدم مبارک رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5087]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ” «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“”کہہ کر دو سینگوں والے گندم گوں مینڈھے قربان کیے اور اپنا پاؤں (قدم) ان کے پہلو پر رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1966
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1966 ترقیم شاملہ: -- 5088
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، قَالَ: وَسَمَّى وَكَبَّرَ ".
وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی۔ کہا: میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے تھے۔ اور میں نے دیکھا آپ نے ان کے رخسار پر قدم رکھا ہوا تھا (اور) کہا: آپ نے اللہ کا نام لیا (بسم اللہ پڑھی) اور تکبیر کہی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5088]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گندمی رنگ کے، سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی کی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم ان کی گردن پر رکھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5088]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1966
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1966 ترقیم شاملہ: -- 5089
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ: قُلْتُ: آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی: کہا: مجھے قتادہ نے بتایا کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی دی اس (پچھلی حدیث) کے مانند۔ (شعبہ نے) کہا: میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا آپ نے (خود) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا تھا؟ کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5089]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا تو نے یہ روایت براہ راست حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5089]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1966
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1966 ترقیم شاملہ: -- 5090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَيَقُولُ: بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ.
سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے مانند روایت کی مگر انہوں نے یہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ واللہ اکبر کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5090]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے «سَمَّىٰ وَكَبَّرَ» ”تسمیہ پڑھی اور تکبیر کہی“ کی بجائے «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5090]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1966
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1967 ترقیم شاملہ: -- 5091
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ حَيْوَةُ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، فَقَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ: " هَلُمِّي الْمُدْيَةَ "، ثُمَّ قَالَ: " اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ "، فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ، ثُمَّ ذَبَحَهُ، ثُمَّ قَالَ: " بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " ثُمَّ ضَحَّى بِهِ.
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو (یعنی پاؤں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں)۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر لے۔ میں نے تیز کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی، مینڈھے کو پکڑا، اس کو لٹایا، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ، اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر، پھر اس کی قربانی کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5091]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ایک سینگوں والا مینڈھا لایا جائے جس کے پیر، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں، تو اسے لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قربانی کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عائشہ! چھری لاؤ۔“ پھر فرمایا: ”اسے پتھر سے تیز کرو۔“ انہوں نے ایسا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری پکڑی اور مینڈھا پکڑ کر اسے لٹایا، پھر اسے ذبح کرنے لگے اور فرمایا: «بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» ”اللہ کے نام کے ساتھ! اے اللہ! محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد کی طرف سے قبول فرمائیے۔“ پھر اسے ذبح کر ڈالا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5091]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1967
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلاَّ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَائِرَ الْعِظَامِ:
باب: ذبح ہر چیز سے درست ہے جو خون بہائے سوائے دانت اور ناخن اور ہڈی کے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1968 ترقیم شاملہ: -- 5092
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْجِلْ أَوْ أَرْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ، فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ "، قَالَ: وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ".
یحییٰ بن سعید نے سفیان (بن سعید) سے روایت کی، کہا: مجھے میرے والد (سعید بن مسروق) نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم کل دشمن سے لڑنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلدی کر یا ہوشیاری کر جو خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا جائے اس کو کھا لے، سوا دانت اور ناخن کے۔ اور میں تجھ سے کہوں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ راوی نے کہا کہ ہمیں مال غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں، پھر ان میں سے ایک اونٹ بگڑ گیا، ایک شخص نے اس کو تیر سے مارا تو وہ ٹھہر گیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان اونٹوں میں بھی بعض بگڑ جاتے ہیں اور بھاگ نکلتے ہیں جیسے جنگلی جانور بھاگتے ہیں۔ پھر جب کوئی جانور ایسا ہو جائے تو اس کے ساتھ یہی کرو۔ (یعنی دور سے تیر سے نشانہ کرو)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5092]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کل ہماری دشمن سے ٹکر ہونے والی ہے اور ہمارے پاس چھری نہیں ہے (کہ خوراک کے لیے جانور ذبح کر سکیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی سے یا ہوشیاری سے، جس سے خون بہہ جائے اور اللہ کا نام لیا جائے، اس کو کھا لو، بشرطیکہ دانت اور ناخن نہ ہو، اور میں تمہیں ابھی بتاتا ہوں؛ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں، تو ان سے ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا، جسے ایک آدمی نے تیر مار کر روک لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان اونٹوں میں بعض جنگلی بھاگنے والے جانوروں کی طرح بھگوڑے ہوتے ہیں، جب ان میں سے کوئی تم پر غالب آ جائے (قابو میں نہ آئے) تو اس کے ساتھ اس طرح کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5092]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1968
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1968 ترقیم شاملہ: -- 5093
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلًا فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ بِهَا فَكُفِئَتْ ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ.
وکیع نے کہا: ہمیں سفیان بن سعید بن مسروق نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے، انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ تو ہمیں (غنیمت میں) بکریاں اور اونٹ حاصل ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کی اور (ان میں سے کچھ جانوروں کو ذبح کیا، ان کا گوشت کاٹا اور) ہانڈیاں چڑھا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حکم دیا اور ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا۔ پھر آپ نے (سب کے حصے تقسیم کرنے کے لیے) دس بکریوں کو ایک اونٹ کے مساوی قرار دیا۔ اس کے بعد یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5093]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے علاقے میں ذوالحلیفہ نامی جگہ پر تھے، ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں حاصل ہوئیں، لوگوں نے جلد بازی سے کام لیا، (ان کو ذبح کر دیا) اور ان سے ہانڈیوں کو جوش دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو انڈیلنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دس بکریاں، ایک اونٹ کے برابر“ قرار دیں، آگے مذکورہ بالا کا باقی حصہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5093]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1968
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں