صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2099. (358) بَابُ سُنَّةِ الصَّلَاةِ بِمِنًى
منیٰ میں نماز پڑھنے کے مسنون طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے منیٰ میں دو رکعات ادا کیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں دو رکعات ہی ادا کیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1082، 1655، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 694، وابن الجارود فى "المنتقى"، 540، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2963، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2758، 3893، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1449، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5410، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4621»
2100. (359) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا صَلَّى بِهَا رَكْعَتَيْنِ؛ لِأَنَّهُ كَانَ مُسَافِرًا غَيْرَ مُقِيمٍ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعات اس لئے ادا کیں کیونکہ آپ مسافر تھے، مقیم نہیں تھے۔ کیونکہ آپ مدینہ منوّرہ کے رہائشی تھے۔
حدیث نمبر: Q2964
إِذْ هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَإِنَّمَا قَدِمَ مَكَّةَ حَاجًّا لَمْ يُقِمْ بِهَا إِقَامَةً يَجِبُ عَلَيْهِ إِتْمَامَ الصَّلَاةِ.
بلاشبہ آپ مکّہ مکرّمہ میں حج کے لئے آئے تھے اور آپ نے مکّہ مکرّمہ میں اتنے دن قیام نہیں کیا تھا کہ جس سے پوری نماز پڑھنا آپ کے لئے واجب ہو جاتا۔ امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں بروایت یحییٰ بن ابی اسحاق کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منوّرہ) واپس لوٹنے تک (سفر حج میں) برابر دو رکعتیں پڑھتے رہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2964]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضر کی نماز چار رکعات اور سفر میں دو رکعات فرض کی ہے۔ اس طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صراحت فرمادی کہ منیٰ میں مقیم شخص پر چار رکعات نماز فرض ہے جس طرح کے کسی دوسری جگہ پر مقیم شخص پرفرض ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2964]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، حديث انس رضی الله عنه: تقدم برقم: 956 ـ حديث ابن عباس رضی الله عنهما، تقدم برقم: 304»
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث کہ ابتدا میں جب نماز فرض ہوئی تو دو رکعات فرض ہوئی تھی۔ پھر حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا (اور وہ چار رکعات ہوگئیں جبکہ مسافر کی نماز دو رکعات پڑھنا باقی رہیں) یہ حدیث بھی صراحت کرتی ہے کہ مقیم شخص پرمنیٰ میں مکمّل نماز واجب ہے وہ قصر نماز نہیں پڑھ سکتا جبکہ وہ مقیم ہو اور مسافر نہ ہو۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب الصلاة میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت کا معنی بیان کردیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایات میں واضح دلیل موجود ہے کہ اہل مکّہ اور مکّہ مکرّمہ میں مقیم ہونے والے شخص پر واجب ہے کہ وہ منیٰ میں مکمّل نماز ادا کریں کیونکہ وہ اب مقیم ہوچکے ہیں، مسافر نہیں رہے اور مقیم پر چار رکعات نماز فرض ہے۔ اس لئے کسی غیر مسافر شخص، عدم جنگ کی وجہ سے خوفزدہ نہ ہونے والے شخص، اہل مکّہ اور مکّہ مکرّمہ میں باہر سے آ کر مقیم ہو جانے والے شخص کے لئے نماز قصر کرنا جائز ہیں جبکہ وہ منیٰ کی طرف جائیں اور اُن کی نیت واپس مکّہ مکرّمہ آنے کی ہو، اس طرح وہ مسافر نہیں ہوںگے لہٰذا اُن کے لئے منیٰ میں نماز قصر کرنا جائز نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2965]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم برقم: 303۔»
2101. (360) بَابُ فَضْلِ يَوْمِ الْقَرِّ وَهُوَ أَوَّلُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.
ایام تشریق کے پہلے دن (یوم القر) کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2966
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ"
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی کے نزدیک عظیم ترین دن قربانی کا دن اور یوم القر (قربانی کا دوسرا دن) ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2966]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2866، 2917، 2966، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2811، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7617، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4083، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1765، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10324، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19381»
2102. (361) بَابُ بَدْءِ رَمْيِ النَّبِيِّ الْجِمَارَ، وَالْعِلَّةِ الَّتِي رَمَاهَا بَدْءًا قَبْلَ عَوْدٍ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمرات پر کنکریاں مارنے کی ابتدا کا بیان اور اس علت کا بیان جس کی بنا پر آپ نے منیٰ آتے ہی کنکریاں ماریں
حدیث نمبر: 2967
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّرَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ بِهِ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ، فَانْفَرَجَ لَهُ ثَبِيرٌ، فَدَخَلَ مِنًى فَأَرَاهُ الْجِمَارَ، ثُمَّ أَرَاهُ عَرَفَاتٍ، فَتَتَبَّعَ الشَّيْطَانُ لِنَبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، فَرَمَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ تَبِعَ لَهُ فِي الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ تَبِعَ لَهُ فِي جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، فَذَهَبَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل عليه السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ کو مناسک ححج دکھانے کے لئے لے گئے چنانچہ آپ کے لئے ثبیر پہاڑ سے راستہ کھل گیا تو آپ منیٰ میں داخل ہوئے۔ جبرائیل عليه السلام نے آپ کو جمرات دکھائے۔ پھر آپ کو عرفات دکھایا۔ پس شیطان جمرات کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آ گیا۔ تو آپ نے اُس کو سات کنکریاں ماریں حتّیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر دوسرے جمرے کے پاس آئے وہ آپ کے پیچھے آ گیا تو آپ نے اُسے پھر سات کنکریاں ماریں جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر وہ جمرہ عقبہ کے پاس آپ کے پیچھے آیا تو آپ نے اُسے سات کنکریاں ماریں حتّیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر فرار ہو گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2967]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2967، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9797، 9798، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2839»
2103. (362) بَابُ وَقْتِ رَمْيِ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ.
ایام تشریق میں جمرات کو کنکریاں مارنے کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2968
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلامُ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ" ، وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: زَادَ الأَشَجُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی والے دن چاشت کے وقت کنکریاں مارتے تھے، اور باقی دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد رمی کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2968]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
حدیث نمبر: 2969
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُوَارٍ يَعْنِي حُمَيْدًا الْكُوفِيَّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: لا أَرْمِي حَتَّى تُرْفَعَ الشَّمْسُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ الزَّوَالِ، فَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَعِنْدَ الزَّوَالِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنْ كَانَ ابْنُ خُوَارٍ حَفِظَ عَطَاءً مِنْ هَذَا الإِسْنَادِ
جناب ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں تو سورج بلند ہونے سے پہلے رمی نہیں کرتا بیشک سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی والے دن زوال سے پہلے رمی کرتے تھے اور بعد والے دنوں میں زوال شمس کے بعد کنکریاں مارتے تھے۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، اگر ابن خوار نے اس سند میں امام عطاء کا واسطہ یاد رکھا ہو (لیکن سند میں امام عطاء کا ذکر نہیں ہے۔ ممکن ہے کاتب سے یہ کلمہ رہ گیا ہو)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2969]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
2104. (363) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ رَمْيَ الْجِمَارِ إِنَّمَا أَرَادَ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ لَا لِلرَّمْيِ فَقَطْ.
اس بات کا بیان کہ جمرات کو کنکریاں مارنے کا اصل مقصود اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ہے۔ صرف کنکریاں مارنا مقصود نہیں ہے
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور جمرات کی رمی اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2970]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 503، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2738، 2882، 2970، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1691، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1888، والترمذي فى (جامعه) برقم: 902، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1895، 1896، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9748، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24989»
2105. (364) بَابُ التَّكْبِيرِ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ يَرْمِي بِهَا رَامِي الْجِمَارِ،
جمرات پر رمی کرتے وقت ہر کنکری کے ساتھ اللهُ أَكْبَرُ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: Q2971
وَالْوُقُوفِ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ مَعَ تَطْوِيلِ الْقِيَامِ وَالتَّضَرُّعِ، وَتَرْكِ الْوُقُوفِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ بَعْدَ رَمْيِهَا أَيَّامَ مِنًى.