🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2111. ‏(‏370‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ فِي تَرْكِ رَمْيِ الْجِمَارِ يَوْمًا،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایام تشریق کے دنوں میں رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کرلیں اور دوسرے دن جانور چرائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2979
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِرُعَاةِ الإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ، يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ، أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفَرَةِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو الْبَدَّاحِ هُوَ ابْنُ عَاصِمِ بْنُ عَدِيٍّ، وَمَنْ قَالَ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ نَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ هَذَا هُوَ الْعَجْلانِيُّ صَاحِبُ قِصَّةِ اللِّعَانِ الْمَذْكُورُ فِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو منیٰ سے باہر راتیں گزارنے کی اجازت دی تھی، وہ قربانی والے دن کنکریاں ماریںگے، پھر وہ عید کے دوسرے یا تیسرے دن (دو دن کی اکٹھی کنکریاں ماریںگے، پھر روانگی کے دن جمرات پر کنکریاں ماریںگے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ابوالبداح سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں اور جس راوی نے ابوالبداح بن عدی سے بیان کیا ہے تو اس نے ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کر دی ہے۔ سیدنا عاصم بن عدی عجلانی رضی اللہ عنہ ہیں جن کا لعان کا قصّہ حضرت سہل بن سعد کی روایت میں مذکور ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2979]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2112. ‏(‏371‏)‏ بَابُ وَقْتِ النَّفْرِ مِنْ مِنًى آخِرَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ‏.‏
ایام تشریق کے آخری دن منیٰ سے روانگی کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2980
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَرَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ، فَطَافَ بِهِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ بَصْرِيٌ لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَرَأَ عَلَيَّ أَبُو مُوسَى هَذَا، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر عصر مغرب اور عشاء کی نمازیں وادی محصب میں پڑھیں پھر آپ کچھ دیر سو گئے پھر آپ سوار ہوکر بیت اللہ شریف پہنچے اور طواف وداع کیا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، اسے صرف عمرو بن حارث نے بیان کیا ہے امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب ابوموسیٰ نے اس حدیث کی قراءت مجھے سنائی۔ وہ فرماتے ہیں کہ احمد بن صالح نے یہ روایت ابن وہب کی سند سے مجھے لکھ کر ارسال کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2980]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1756، 1764، وابن الجارود فى "المنتقى"، 542، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 962، 2980، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3884، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4190، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1915، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9841، والبزار فى (مسنده) برقم: 7229، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8755»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2113. ‏(‏372‏)‏ بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ اسْتِنَانًا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏.‏
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں وادی محصب میں ٹھہرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ بِمِنًى: " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا الْخَيْفَ بَنِي كِنَانَةَ" ، قَالَ لَنَا بُنْدَارٌ: حِينَ تَقَاسَمُوا، وَإِنَّمَا هُوَ: حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ، وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفُوا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لا يُنَاكِحُوهُمْ، وَلا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسَلِّمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا، جبکہ ہم ابھی منیٰ میں تھے ہم کل خیف بنی کنانہ میں پڑاؤ ڈالیں گے ان شاء اللہ۔ جناب بندار کی روایت میں ہے جب انھوں نے قسمیں اُٹھائی تھیں بلکہ صحیح لفظ یہ ہیں کہ جہاں پر انھوں نے کفر پر اتحاد کی قسمیں اُٹھائی تھیں۔ اور یہ واقعہ اس طرح ہے کہ قریش اور کنانہ نے خیف یعنی وادی محصب میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف آپس میں قسمیں اُٹھائی تھیں کہ وہ ان سے شادی بیاہ نہیں کریںگے اور ان کے خاندان سے خرید وفروخت نہیں کریںگے حتّیٰ کہ وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کردیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2981]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1589، 1590، 3882، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1314، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2981، 2982، 2983، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4188، وأبو داود فى (سننه) برقم: بدون ترقيم، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9837، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7360»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2982
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُمْ قَالُوا: أَنْ لا تُنَاكِحُوهُمْ، وَلا يَكُونُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُمْ شَيْءٌ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الرَّبِيعُ، وَيُونُسُ: حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ، وَقَالَ بَحْرٌ: حِينَ أَقْسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت کی مثل بیان کرتے ہیں۔ اس میں یہ الفاظ ہیں انھوں نے آپس میں قسمیں اُٹھائیں کہ وہ بنی ہاشم اور بنی مطلب سے رشتہ داریاں نہیں کریںگے اور نہ ان کے ساتھ کوئی اور معاملہ کریںگے حتّیٰ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے دشمنوں کے حوالے کردیں جناب ربیع اور یونس کی روایت میں ہے کہ انھوں نے آپس میں کفر پر قسمیں کھائیں، جناب بحر کی روایت میں ہے کہ جب انھوں نے کفر پر قسمیں اُٹھائیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2982]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1589، 1590، 3882، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1314، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2981، 2982، 2983، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4188، وأبو داود فى (سننه) برقم: بدون ترقيم، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9837، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7360»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2114. ‏(‏373‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ أَعْلَمَهُمْ وَهُوَ بِمِنًى أَنْ يَنْزِلَ بِالْأَبْطَحِ‏.‏
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو منیٰ ہی میں بتادیا تھا کہ آپ وادی ابطح میں ٹھہریں گے۔ اور سیدنا ابو رافع کے اس قول سے ان کی مراد
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ وادی ابطح میں لگایا تھا اور آپ نے مجھے خیمہ لگانے کا حُکم نہیں دیا تھا۔ بس آپ تشریف لائے اور خیمے میں فروکش ہوگئے۔ یعنی آپ نے مجھے اس جگہ خیمہ لگانے کا حُکم نہیں دیا تھا۔ حضرت ابورافع کا یہ مطلب نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وادی ابطح میں خیمہ لگا ہو نے کی وجہ سے اُترے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2983]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1589، 1590، 3882، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1314، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2981، 2982، 2983، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4188، وأبو داود فى (سننه) برقم: بدون ترقيم، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9837، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7360»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2984
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْرَ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى: " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ" ، يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ سَوَاءً، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سُؤَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ يَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ إِنَّمَا هُوَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَمَّا آخِرُ الْقِصَّةِ:" لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ"، فَهُوَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، وَمَعْمَرٌ، فِيمَا أَحْسِبُ وَاهِمًا فِي جَمْعِهِ الْقِصَّتَيْنِ فِي هَذَا الإِسْنَادِ، وَقَدْ بَيَّنْتُ عِلَّةَ هَذَا الْخَبَرِ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے روانگی کا ارادہ کرتے وقت فرمایا: ”ہم کل ان شاء اللہ، خیف بنی کنانہ میں اُتریں گے جہاں انھوں نے کفر پر اتحاد کی باہمی قسمیں اُٹھائی تھیں۔ “ آپ کی مراد وادی محصب تھی۔ پھر بقیہ روایت اوپر والی روایت کی مثل بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کہ آپ اپنے حج میں کل (مکّہ مکرّمہ میں) کہاں اُتریں گے۔ یہ روایت امام زہری نے ابوسلمہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ جبکہ اس روایت کے آخر میں مذکورہ یہ قصّہ کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوگا اور نہ کوئی کا فرکسی مسلمان کا وارث بنے گا، یہ علی بن حسین کی عمرو بن عثمان کے واسطے سے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مروی ہے۔ میرے خیال میں معمر راوی کو وہم ہوا ہے اور اس واقعات کو اس سند کے ساتھ یکجا کردیا ہے۔ میں روایت کی علت کتاب الکبیر میں بیان کردی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2984]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم تخريجه برقم: 2981.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2985
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ، قَالَ:" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلا؟ ثُمَّ قَالَ:" نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ، وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لا يُنَاكِحُوهُمْ، وَلا يُبَايِعُوهُمْ، وَلا يُؤْوُوهُمْ" ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" لا يَرِثُ الْكَافِرَ الْمُسْلِمُ، وَلا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ"
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجة الوداع میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، کل آپ مکّہ مکرّمہ میں کہاں تشریف فرما ہوںگے، آپ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی مکان چھوڑا بھی ہے؟“ پھر فرمایا: ”ہم کل خیف بنی کنانہ میں اُتریں گے جہاں قریش نے کفر پر اتحاد کی قسمیں کھائی تھیں۔ اور وہ اس طرح کہ بنو کنانہ اور قریش نے بنی ہاشم کے خلاف آپس میں یہ عہد کیا تھا کہ ان کے ساتھ نہ نکاح کریںگے اور نہ خرید و فروخت کریںگے اور نہ انھیں پناہ دیںگے۔“ امام زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ خیف ایک وادی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہے اور نہ کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث بنے گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2985]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1588، 3058، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1351، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1891، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1026، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2985، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5149، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2962، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2107، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 135، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9838، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3028، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22161، والحميدي فى (مسنده) برقم: 551»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2986
ثنا بِخَبَرِ ابْنِ رَافِعٍ الَّذِي ذَكَرْتُ، نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ عَبْدِ الْجَبَّارِ: ثنا سُفْيَانُ، وَقَالَ نَصْرٌ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: " ضَرَبْتُ قُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْطَحِ، وَلَمْ يَأْمُرْنِي أَنْ أَنْزِلَ الأَبْطَحَ، فَجَاءَ فَنَزَلَ" ، هَذَا حَدِيثُ نَصْرٍ، وَقَالَ عَلِيٌّ: قَالَ أَبُو رَافِعٍ: لَمْ يَأْمُرْنِي أَنْ أَنْزِلَ الأَبْطَحَ، وَإِنَّمَا جِئْتُ فَضَرَبْتُ قُبَّتَهُ، فَجَاءَ فَنَزَلَ، وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَضْرِبَ قُبَّتَهُ، إِنَّمَا ضَرَبْتُ قُبَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْطَحِ، فَنَزَلَ، وَزَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ عَلَى ثِقَلٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلُهُ حِينَ جَاءَ مِنَ الْمَدِينَةِ بِأَعْلَى مَكَّةَ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَجِئْتُ فَضَرَبْتُ قُبَّتَهُ، فَجَاءَ فَنَزَلَ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ وادی ابطح میں لگا دیا۔ آپ نے مجھے وادی ابطح میں اُترنے کا حُکم نہیں دیا تھا پھر آپ تشریف لائے تو آپ اس خیمے میں فروکش ہوئے یہ روایت جناب نصر کی ہے اور جناب علی بن خشرم کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے وادی ابطح میں اُترنے کا حُکم نہیں دیا تھا بلکہ میں خود ہی آیا تو میں نے آپ کا خیمہ لگا دیا۔ پھر آپ بھی تشریف لے آئے اور خیمے میں فروکش ہوگئے۔ جناب عبدالجبار کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیمہ نصب کرنے کا حُکم نہیں دیا تھا۔ بلکہ میں نے خود ہی وادی ابطح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ لگادیا تو آپ اس میں تشریف فرما ہوگئے۔ جناب عبدالجبار نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ وہ آپ کے سامان کے نگران تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منوّرہ سے تشریف لائے تھے تو آپ نے مکّہ مکرّمہ کی بالائی جانب قیام کیا تھا۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ پس میں وادی ابطح میں آیا تو میں نے آپ کا خیمہ لگا دیا۔ پھر آپ بھی آ گئے اور اس میں تشریف فرما ہوگئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2986]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1313، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2986، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2009، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9845، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24399، والحميدي فى (مسنده) برقم: 559، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13503، والطبراني فى(الكبير) برقم: 916»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2115. ‏(‏374‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَزَلَ بِالْأَبْطَحِ لِيَكُونَ أَسْمَعَ لِخُرُوجِهِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی ابطح میں صرف اس لئے اترے تھے تاکہ آپ کی روانگی آسان ہو اگرچہ آپ نے منیٰ ہی میں صحابہ کرام کو بتادیا تھا کہ آپ وادی ابطح میں اتریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2987
وَإِنْ كَانَ قَدْ أَعْلَمَهُمْ وَهُوَ بِمِنًى أَنَّهُ نَازِلٌ بِهِ مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نُزُولَهُ لَيْسَ مِنْ سُنَنِ الْحَجِّ الَّذِي يَكُونُ تَارِكُهُ عَاصِيًا، أَوْ يُوجِبُ تَرْكُ نُزُولِهِ هَدْيًا‏.‏
اس بات کی دلیل کے بیان کے ساتھ کہ وادی ابطح میں اترنا حج کے لازمی افعال میں سے نہیں ہے کہ اس کو چھوڑنے والا گناہ گار ہو یا اس میں نہ اترنے پرایک قربانی کرنا کفّارہ واجب ہوتا ہو [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2987]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2987
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ، فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وادی ابطح میں صرف اس لئے اُترے تھے کیونکہ یہاں سے (مدینہ منوّرہ) روانہ ہونا آسان تھا لہٰذا جو شخص چاہے اس وادی میں اُترے اور جو چاہے نہ اترے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2987]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1765، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1311، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2987، 2988، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3896، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4192، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 923، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3067، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9843، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24777»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں