صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2119. (378) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَرَ الصَّلَاةَ بِالْأَبْطَحِ بَعْدَمَا نَفَرَ مِنْ مِنًى،
اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے روانگی کے بعد وادی ابطح میں قصر نماز ادا کی تھی
حدیث نمبر: 2996
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، وَكَانَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: هَلْ أَقَمْتَ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ:" أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منوّرہ سے مکّہ مکرّمہ کی طرف سفر پر نکلے آپ ہمیں مدینہ منوّرہ واپس آنے تک دو دو رکعات ہی پڑھاتے رہے۔ جناب یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نےسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تم مکّہ مکرّمہ میں کچھ دن ٹھہرے تھے؟ اُنھوں نے فرمایا کہ ہم مکّہ مکرّمہ میں دس دن ٹھہرے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2996]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1081، 4297، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 693، وابن الجارود فى "المنتقى"، 248، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 956، 2996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2746، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1437، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1233، والترمذي فى (جامعه) برقم: 548، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1077، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5472، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13145»
2120. (379) بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِدْلَاجِ بِالِارْتِحَالِ مِنَ الْحَصْبَةِ، اقْتِدَاءً بِفِعْلِ الْمُصْطَفَى- عَلَيْهِ السَّلَامُ-.
نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے اخیر رات میں محصب سے واپسی کے لئے سفر کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2997
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قَالَ الأَسْوَدُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدْلِجًا مِنَ الأَبْطَحِ، وَهُوَ يَصْعَدُ وَأَنَا أَنْزِلُ، أَوْ يَنْزِلُ وَأَنَا أَصْعَدُ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں (عمرہ کرکے فارغ ہونے کے بعد) رات کے آخری پہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی ابطح میں اُس وقت ملی جب آپ (مکّہ مکرّمہ کی طرف) چڑھ رہے تھے اور میں وادی میں اُتر رہی تھی یا آپ اُتررہے تھے اور میں چڑھائی چڑھ رہی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2997]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2997، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4191، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3068، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25131، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4555، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13502»
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ فِي الْخَبَرِ: " فَأَذِنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ يَعْنِي مِنَ الْمُحَصَّبِ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ، فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ، فَرَكِبَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ اس روایت میں یہ الفاظ بیان کیے آپ نے وادی محصب میں اپنے صحابہ کو روانگی کا حُکم دیا تو لوگ چل پڑے۔ پھر آپ صبح کی نماز کے وقت بیت اللہ شریف کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کا طواف کیا پھر باہر آ کر سواری پر بیٹھے پھر آپ مدینہ منوّرہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، 317، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1204، وابن الجارود فى "المنتقى"، 463، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، 2605، 2607، 2784، 2788، 2789، 2790، 2904، 2905، 2936، 2948، 2954، 2998، 3002، 3028، 3029، 3076، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 242، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357»
2121. (380) بَابُ الْأَمْرِ بِطَوَافِ الْوَدَاعِ بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ
طوافِ وداع کرنے کا حُکم اس سلسلے میں مروی حدیث کے الفاظ عام ہیں مگر ان کی مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُمِرَ النَّاسَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) حُکم دیا گیا ہے کہ وہ مکّہ مکرّمہ میں آخری کام بیت اللہ کا طواف کریں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1755، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1327، وابن الجارود فى "المنتقى"، 544، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2999، 3000، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3897، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1757، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4170، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2002، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3070، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9848، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1961، والحميدي فى (مسنده) برقم: 511»
حدیث نمبر: 3000
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَنْفِرْ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ ہر طرف سے واپس چلے جاتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا کہ تم میں سے کوئی شخص آخری بار طواف (وداع) کیے بغیر واپس نہ جائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1755، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1327، وابن الجارود فى "المنتقى"، 544، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2999، 3000، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3897، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1757، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4170، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2002، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3070، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9848، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1961، والحميدي فى (مسنده) برقم: 511»
2122. (381) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّفْظَةَ الَّتِي ذَكَرْتُهَا فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَفْظٌ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی گزشتہ حدیث کے الفاظ عام ہیں اور اس سے مراد خاص ہے۔
حدیث نمبر: Q3001
وَالدَّلِيلُ [عَلَى] أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: " لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ "، خَلَا الْحَيِضَ، بِذِكْرِ لَفْظَةٍ عَامٌّ مُرَادُهَا خَاصٌّ فِي ذِكْرِ الْحَيْضِ.
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”کوئی بھی شخص آخری بار بیت اللہ شریف کا طواف کیے بغیر واپس نہ جائے“ سے آپ کی مراد حائضہ عورتوں کے علاوہ لوگ ہیں لیکن اس سلسلے میں وارد حدیث میں حائضہ عورت کا ذکر عام ہے اور مراد خاص ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q3001]
حدیث نمبر: 3001
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " مَنْ حَجَّ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ، إِلا الْحُيَّضَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جو شخص حج کرے تو وہ مکّہ مکرّمہ میں آخری کام بیت اللہ شریف کا طواف کرے، سوائے حائضہ عورتوں کے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں طواف وداع نہ کرنے کی رخصت دی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3001]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1761، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3001، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3899، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1730، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4182، 4183، والترمذي فى (جامعه) برقم: 944، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1976، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3071، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2690، 2691، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5869»
2123. (382) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا رَخَّصَ لِلْحُيَّضِ فِي النَّفْرِ بِلَا وَدَاعٍ إِذَا كُنَّ قَدْ أَفَضْنَ قَبْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ حِضْنَ.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو بغیر طواف وداع کیے روانگی کی اجازت اس وقت دی ہے جب وہ اس سے پہلے طواف افاضہ کرچکی ہوں پھر انہیں حیض آیا ہو
حدیث نمبر: 3002
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، إِنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟" فَقُلْتُ: إِنَّهَا حَاضَتْ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ، قَالَ:" فَلا إِذًا فَلْتَنْفِرْ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کرتی ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی۔ آپ نے پوچھا: ”کیا وہ ہمیں روانگی سے روک دیگی“ میں نے عرض کیا کہ انھیں طواف افاضہ کرنے کے بعد حیض آیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں۔ انھیں روانہ ہونا چاہیے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3002]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، 317، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1204، وابن الجارود فى "المنتقى"، 463، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، 2605، 2607، 2784، 2788، 2789، 2790، 2904، 2905، 2936، 2948، 2954، 2998، 3002، 3028، 3029، 3076، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 242، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357»
2124. (383) بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ وَالذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ فِيهَا.
کعبہ میں داخل ہونا اور وہاں اللہ کا ذکر کرنا اور دعا مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 3003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ يُنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ :" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا" ، قُلْتُ: نَوَاحِيهَا أَزْوَايَاهَا، قَالَ:" بَلْ فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ"
جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے امام عطاء سے پوچھا، کیا آپ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ ہمیں بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کا حُکم دیا گیا ہے اور بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہونے کا تمھیں حُکم نہیں دیا گیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیت اللہ شریف میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے اُنھیں یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کی تمام جوانب میں دعائیں مانگیں میں نے پوچھا کہ جوانب سے اس کے کونے مراد ہیں؟ اُنھوں نے فرمایا، بلکہ بیت اللہ شریف کے ہر قبلہ کی جانب دعائیں کیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3003]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1330، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 432، 3003، 3004، 3005، 3006، 3015، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1769، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2909، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2264، 3860، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22168»
2125. (384) بَابُ وَضْعِ الْوَجْهِ وَالْجَبِينِ عَلَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنَ الْكَعْبَةِ عِنْدَ دُخُولِهَا وَالذِّكْرِ وَالِاسْتِغْفَارِ
بیت اللہ کے اندر داخل ہو کر کعبہ کی دیوار پر چہرہ اور پیشانی رکھنا اور ذکر الٰہی و استغفار کرنا
حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَأَمَرَ بِلالا فَأَجَافَ الْبَابَ، وَالْبَيْتُ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، فَمَضَى حَتَّى أَتَى الأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْبَابَ بَابَ الْكَعْبَةِ، وَجَلَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَ، ثُمَّ قَامَ حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ، فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَجَسَدَهُ عَلَى الْكَعْبَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى كُلِّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْكَعْبَةِ فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِالْمَسْأَلَةِ وَالاسْتِغْفَارِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلا وَجْهَ الْكَعْبَةِ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ، وَقَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا تو اُنھوں نے دروازہ بند کردیا اُس وقت بیت اللہ شریف چھ ستونوں پر قائم تھا۔ آپ کعبه شریف کے دروازے کے قریبی دوستونوں کے پاس جا کر بیٹھ گئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اللہ تعالی سے دعائیں مانگیں اور بخشش طلب کی۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور کعبہ شریف کی پچھلی دیوار کے سامنے آ گئے، آپ نے اپنا چہرہ مبارک اور جسم مبارک کعبہ شریف کی دیوار پر رکھا اور اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کی اپنے لئے مغفرت و بخشش کا سوال کیا، پھر آپ کعبہ شریف کے ہر ہر کونے میں گئے، اس کی طرف مُنہ کرکے تکبیریں پڑھیں «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله، سُبْحَانَ اللَٰه، الحَمْدُ لِلَٰه» پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق اس کی شان بیان کی اور اس سے التجائیں کیں اور استغفار کیا۔ پھر آپ نے کعبہ شریف سے باہر نکل کر کعبہ شریف کے سامنے دو رکعات ادا کیں، اور فرمایا: ”يہ قبلہ ہے، يہ قبلہ ہے“۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3004]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1330، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 432، 3003، 3004، 3005، 3006، 3015، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1769، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2909، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2264، 3860، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22168»