صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2138. (397) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ بَعْضَ الْحِجْرِ مِنَ الْبَيْتِ، لَا جَمِيعَهُ
اس بات کا بیان کہ حطیم کا کچھ حصّہ بیت اللہ شریف کا جزو ہے، سارا حطیم بیت اللہ شریف کا حصّہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 3020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ، لَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أُدْخِلَ فِيهِ مَا أَخْرَجُوا مِنْهُ فِي الْحِجْرِ، فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ نَفَقَتِهِ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَأَلْصَقْتُهُ بِالأَرْضِ، وَوَضَعْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ" ، قَالَ: فَكَانَ ذَاكَ الَّذِي دَعَا ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى هَدْمِهِ، وَبِنَائِهِ، قَالَ: فَشَهِدْتُهُ حِينَ هَدْمَهُ وَبَنَاهُ، فَاسْتَخْرَجَ أَسَاسَ الْبَيْتِ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ مَتَلائِكَةً، قَالَ أَبِي: فَقُلْتُ لَيَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَطُوفُ مَعَهُ: أَرِنِي مَا أَخْرَجُوا مِنَ الْحِجْرِ مِنْهُ، قَالَ: أُرِيكَهُ الآنَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهِ، قَالَ: هَذَا الْمَوْضِعُ، قَالَ أَبِي: فَحَرَزْتُهُ نَحْوًا مِنْ سِتَّةِ أَذْرُعٍ، وَهَكَذَا رَوَى مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ .
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”اے عائشہ، اگر تمھاری قوم نئی نئی جاہلیت سے نکل کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت الشریف کو گرا کر حطیم کا وہ حصّہ اس میں شامل کردیتا جو انھوں نے باہر نکال دیا تھا کیونکہ اُن کا خرچ کم پڑ گیا تھا اس لئے وہ اسے تعمیر نہ کر سکے تھے۔ میں بیت اللہ شریف کے دو دروازے بناتا۔ ایک مشرق کی جانب اور ایک مغرب کی جانب اور اسے زمین کے برابر تعمیر کرتا۔ اور میں اسے حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر بناتا، راوی کہتا ہے کہ آپ کے اس فرمان کی وجہ سے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے (اپنے عہد حکومت میں) بیت الله شریف کو گرا کر اسے ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر تعمیر کردیا۔ جناب یزید بن رومان کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیت اللہ شریف کو گرا کر تعمیر کیا تو میں ان کے ساتھ موجود تھا اُنھوں نے بیت اللہ شریف کی بنیادیں نکالیں تو وہ بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح تھیں۔ جناب جریر کہتے ہیں کہ میں نے یزید بن رومان سے کہا جبکہ میں اس وقت ان کے ساتھ طواف کر رہا تھا، مجھے حطیم کا وہ حصّہ دکھاؤ جو قریش نے بیت اللہ کی تعمیر سے نکال دیا تھا؟ اُنھوں نے کہا کہ میں ابھی تمہیں وہ حصّہ دکھاتا ہوں۔ جب وہ اس حصّے کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ یہ ہے وہ جگہ۔ جناب جریر کہتے ہیں کہ میں نے اسے ناپا تو وہ تقریبا چھ ہاتھ جگہ تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3020]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 126، 1583، 1584، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1336، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2726، 2742، 3018، 3019، 3020، 3021، 3022، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3815، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1770، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2900، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1875، والترمذي فى (جامعه) برقم: 875، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24935»
حدیث نمبر: 3021
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: قَالَ يَزِيدُ: قَدْ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدْمَهُ، حَدَّثَنَاهُ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَرِوَايَةُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ قَدْ سَمِعَ الْخَبَرَ مِنْهُمَا جَمِيعًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی جناب یزید کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ شریف کو گرایا تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یزید بن ہارون کی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ یزید بن رومان نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن زبیر اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما دونوں سے سنی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3021]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 126، 1583، 1584، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1336، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2726، 2742، 3018، 3019، 3020، 3021، 3022، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3815، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1770، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2900، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1875، والترمذي فى (جامعه) برقم: 875، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24935»
حدیث نمبر: 3022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازِقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: كَانَتِ الْكَعْبَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَبْنِيَّةً بِالرَّضْمِ لَيْسَ فِيهِ مَدَرٌ، وَكَانَتْ قَدْرُ مَا يَقْتَحِمُهَا الْعَنَاقُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ، وَقَالَ: فَلَمَّا كَانَ جَيْشُ الْحُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ، فَذَكَرَ حَرِيقَهَا فِي زَمَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلا حَدَاثَةُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، فَإِنَّهُمْ تَرَكُوا مِنْهَا سَبْعَةَ أَذْرُعٍ فِي الْحِجْرِ ضَاقَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ وَالْخَشَبُ" ، وَقَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً طَوِيلَةً
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جاہلیت میں بیت اللہ شريف خالص پتھروں کے ساتھ تعمیر کیا ہوا تھا اس میں گارا وغیرہ نہیں لگایا گیا تھا۔ اور اس کی اونچائی صرف اتنی تھی کہ بکری کا بچّہ پھلانگ سکتا تھا۔ پھر انھوں نے کعبہ شریف کی تعمیر کے بارے میں مکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ جب حصین بن نمیر کا لشکر حملہ آور ہوا اور اُس نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں بیت اللہ شریف کو جلا دیا تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیشک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر تمھاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں کعبہ شریف کو گرا دیتا (نئی تعمیر میں حطیم کو شامل کر دیتا) کیونکہ قریش کے پاس خرچ اور لکڑی کم ہوگئی تھی تو انھوں نے حطیم کا سات ہاتھ حصّہ تعمیر سے نکال دیا تھا۔ جناب ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر طویل قصّہ بیان کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3022]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 126، 1583، 1584، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1336، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2726، 2742، 3018، 3019، 3020، 3021، 3022، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3815، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1770، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2900، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1875، والترمذي فى (جامعه) برقم: 875، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24935»
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بَكْرٍ يَعْنِي مُحَمَّدًا ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ: وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ مَرْوَانَ فِي خِلافَتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ: بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ: مَاذَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَإِنِّي لَوْلا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمُكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي فَلأُرِيكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ" ، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
جناب عبداللہ بن عبيد بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان کے عہد حکومت میں حارث بن عبد اللہ کے پاس ایک قاصد کی حیثیت سے حاضر ہوئے تو عبد الملک نے کہا کہ میرا خیال نہیں کہ حضرت ابوخبیب عبداللہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ حدیث سنی ہوگی جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے سنی ہے، حارث کہتے ہیں کہ کیوں نہیں وہ حدیث تو میں نے بھی اماں جی سے سنی ہے۔ اس نے پوچھا، تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ اماں جی فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”بیشک تیری قوم نے بیت اللہ کی بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا (کیونکہ ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے حلال مال ختم ہوگیا تھا) اور اگر یہ لوگ نئے نئے شرک سے نکل کر مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو بیشک میں ان کا چھوڑا ہوا حصّہ دوبارہ تعمیر کرا دیتا لہٰذا اگر میرے بعد تیری قوم اس حصّے کو بیت اللہ شریف کی بنیادوں میں شامل کرنے کا ارادہ کرے تو آؤ میں تمھیں وہ جگہ دکھا دوں جو انھوں نے بیت اللہ سے نکال دی تھی۔ تو آپ نے اماں جی کو تقریبا سات ہاتھ جگہ دکھائی۔ یہ روایت عبد الله بن عبید کی ہے۔ انھوں نے مکمّل قصّہ بیان کیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3023]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، 1333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2741، 3023، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9150»
2139. (398) بَابُ إِبَاحَةِ الْعُمْرَةِ فِي ذِي الْحِجَّةِ بَعْدَ مُضِيِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.
ایامِ تشریق گزر جانے کے بعد ذوالحجہ ہی میں عمرہ کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 3024
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ:" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ" ، قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَحْلِقُونَ فِي الْحَجِّ، ثُمَّ يَعْتَمِرُونَ عِنْدَ النَّفَرِ، فَيَقُولُ: مَا يَحْلِقُ هَذَا، فَنَقُولُ لأَحَدِهِمْ: أَمِرَّ الْمُوسَى عَلَى رَأْسِكَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے سر کے بال منڈوائے تھے۔ جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ لوگ حج کے موقع پر سر کے بال منڈواتے تھے، پھرمنیٰ سے واپس روانہ ہوتے وقت عمرہ ادا کرتے تھے تو کہتے، اب یہ کیا مونڈے گا؟ تو ہم ایک دوسرے سے کہتے کہ اپنے سر پراسترا پھیرلو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3024]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1726، 4410، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1304، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2930، 3024، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1771، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4100، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1980، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4983»
2140. (399) بَابُ الْعُمْرَةِ فِي ذِي الْحِجَّةِ مِنَ التَّنْعِيمِ لِمَنْ قَدْ حَجَّ ذَلِكَ الْعَامَ
حج کرنے کے بعد ذوالحجہ ہی کے مہینے میں مقام تنعیم سے احرام باندھ کر عمرہ کیا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: Q3025
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْعُمْرَةَ غَيْرُ جَائِزَةٍ إِلَّا مِنَ الْمَوَاقِيتِ الَّتِي وَقَّتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ، فَقَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، الْأَخْبَارَ بِتَمَامِهَا.
ان لوگوں کے قول کے خلاف جو کہتے ہیں کہ عمرہ کا احرام صرف انہی مقامات سے باندھنا ضروری ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما دیے ہیں، آپ نے فرمایا تھا کہ مدینہ والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں اور دوسری جگہ رہنے والوں کے بھی میقات آپ نے بیان کردیے ہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q3025]
حدیث نمبر: 3025
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا أَشْهَبُ ، أَنَّ اللَّيْثَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ عَائِشَةَ مِنَ التَّنْعِيمِ فِي ذِي الْحِجَّةِ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذوالحجہ ہی میں مقام تنعیم سے عمرہ کروایا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3025]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
حدیث نمبر: 3026
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ عَائِشَةَ مِنَ التَّنْعِيمِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو وادی محصب میں قیام والی رات تنعیم مقام سے عمرہ کروایا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3026]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
2141. (400) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْعُمْرَةَ مِنَ الْمِيقَاتِ أَفْضَلُ مِنْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ إِذْ هِيَ أَكْثَرُ نَصَبًا وَأَفْضَلُ نَفَقَةً،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ میقات سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ کرنا مقام تنعیم سے احرام باندھ کر عمرہ کرنے کی نسبت زیادہ افضل اور ثواب کا حامل ہے۔
حدیث نمبر: Q3027
وَمَا كَانَ أَكْثَرُ نَصَبًا وَأَفْضَلُ نَفَقَةً فَالْأَجْرُ عَلَى قَدْرِ النَّصَبِ وَالنَّفَقَةِ.
کیونکہ اس میں مشقت اور خرچہ زیادہ ہے۔ اللہ کی راہ میں جتنی مشقت اٹھائیں گے اور جتنا زیادہ مال خرچ کریںگے اتنا ہی اجر و ثواب بھی زیادہ ہوگا [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q3027]
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: ابْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ . ح وحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، وَعَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالتَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ:" انْتَظِرِي فَإِذَا طَهُرْتِ، فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي مِنْهُ، ثُمَّ الْقِنَا بِجَبَلِ كَذَا وَكَذَا" ، قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ:" كُدًى، وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ أَوْ قَدْرِ نَفَقَتِكِ"، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي خَبَرِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ:" وَلَكِنَّهُ عَلَى قَدْرِ نَفَقَتِكِ وَنَصَبِكِ"، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، لوگ دو دو نیک اعمال (حج اور عمرہ) ادا کرکے جارہے ہیں اور میں ایک ہی عمل ادا کرکے واپس جاؤں گی؟ آپ نے فرمایا: ”انتظار کرو جب تم حیض سے پاک ہو جاؤ تو مقام تنعیم چلی جانا، وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کر لینا پھر فلاں فلاں پہاڑ کے پاس ہمیں مل جانا۔ جناب قاسم کہتے ہیں کہ میرے خیال میں کدیٰ پہاڑ کا نام لیا تھا۔ لیکن تمہیں اس عمرے کا ثواب تمھاری مشقّت اور خرچے کے حساب سے ہوگا۔ یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جناب حسین بن حسن کی روایت میں ہے کہ ”لیکن تمہیں اس عمرے کا ثواب اتنا ہی ملیگا جتنا تم اس سفر میں خرچ کروگی اور جتنی مشقّت برداشت کروگی۔ یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3027]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1787، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3027، بدون ترقيم، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4219، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8734، 8739، 8740، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24793، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13175»