اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. باب جواز نوم الجنب واستحباب الوضوء له
باب: جنبی کا سونا درست ہے لیکن وضو کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 178
178 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ ابْنُ الْخطَّابِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ رات میں انہیں غسل کی ضرورت ہو جایا کرتی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ» ”وضو کر لیا کرو اور اپنی شرمگاہ دھو کر سو جاؤ۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 178]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 27 باب الجنب يتوضأ ثم ينام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 179
179 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواجِ مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں تشریف لے گئے، اس وقت آپ کی نو بیویاں تھیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 179]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 34 باب الجنب يخرج ويمشي في السوق وغيره»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
98. باب وجوب الغسل على المرأة بخروج المني منها
باب: اگر عورت کی منی نکلے تو اس پر غسل واجب ہے
حدیث نمبر: 180
180 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ؛ قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ الله إنَّ اللهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ، فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ، تَعْنِي، وَجْهَهَا، وَقَالَتْ: يَا رَسولَ اللهِ وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ قَالَ: نَعَمْ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ام سلیم (نامی ایک عورت) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ (اس لیے میں پوچھتی ہوں کہ) کیا احتلام سے عورت پر بھی غسل ضروری ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) جب عورت پانی دیکھ لے۔ (یعنی کپڑے وغیرہ پر منی کا اثر معلوم ہو)“ تو (یہ سن کر) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (شرم کی وجہ سے) اپنا چہرہ چھپا لیا اور کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، پھر کیوں اس کا بچہ اس کی صورت کے مشابہ ہوتا ہے (یعنی یہی اس کے احتلام کا ثبوت ہے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 180]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 50 باب الحياء في العلم»
وضاحت: تربت یمینک: یعنی تیرا دایاں ہاتھ خاک آلودہ ہو۔ یہ کلمہ اہل عرب کا تکیہ کلام ہے جس سے ان کا مقصد بددعا دینا نہیں ہوتا۔ (مرتب) مذکورہ حدیث میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نہایت عمدہ اسلوب کے ساتھ پہلے اللہ تعالیٰ کی خاص صفت بیان فرمائی کہ وہ حق بات کے بیان میں نہیں شرماتا۔ پھر وہ مسئلہ دریافت کیا جو بظاہر شرم سے تعلق رکھتا ہے مگر مسئلہ ہونے کی حیثیت میں اپنی جگہ دریافت طلب تھا۔ امت مسلمہ کو انصار کی عورتوں کا ممنون ہونا چاہیے کہ اگر وہ طہارت کے ان پوشیدہ مسائل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہ فرماتیں تو آج مسلمان عورت کو زندگی کے اس پہلو کے متعلق کہاں سے راہنمائی ملتی۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
99. باب صفة غسل الجنابة
باب: غسل جنابت کا طریقہ
حدیث نمبر: 181
181 صحيح حديث عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيخَلِّلُ بهَا أُصُولَ شَعَرِه، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ غُرَفٍ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ كُلِّهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو آپ پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اسی طرح وضو کرتے جس طرح نماز کے لیے آپ وضو کیا کرتے تھے، پھر پانی میں اپنی انگلیاں داخل فرماتے اور ان سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے، پھر اپنے ہاتھوں سے تین چلو سر پر ڈالتے، پھر تمام بدن پر پانی بہا لیتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 181]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 1 باب الوضوء قبل الغسل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 182
182 صحيح حديث مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: صَبَبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلاً، فَأَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى يَسَارِهِ، فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ الأَرْضَ، فَمَسَحَهَا بِالتُّرَابِ، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ، فَلَمْ يَنْفُضْ بِهَا
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو دائیں ہاتھ سے بائیں پر گرایا، اس طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر اسے مٹی سے ملا اور دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا، پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رومال دیا گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پانی کو خشک نہیں کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 182]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 7 باب المضمضة والاستنشاق في الجنابة»
وضاحت: امام ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وضو کے بعد اعضاء کے پونچھنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں آئی۔ بلکہ صحیح احادیث سے یہی ثابت ہے کہ غسل کے بعد آپ نے رومال واپس کر دیا۔ جسم مبارک کو اس سے نہیں پونچھا۔ امام نووی رحمہ اللہ نے کہا کہ اس بارے میں بہت اختلاف ہے۔ کچھ لوگ مکروہ جانتے ہیں۔ کچھ مستحب کہتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ پونچھنا اور نہ پونچھنا برابر ہے۔ ہمارے نزدیک یہی مختار ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 183
183 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوَ الْحِلاَبِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ فَبَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ الأَيْسَرِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرنا چاہتے تو «حِلَاب» کی طرح کی ایک چیز منگواتے، پھر (پانی کا چلو) اپنے ہاتھ میں لیتے اور سر کے داہنے حصے سے غسل کی ابتدا کرتے، پھر بائیں حصے کا غسل کرتے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے بیچ میں لگاتے تھے (یعنی دونوں ہاتھوں سے سر پر پانی ڈالتے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 183]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 6 باب من بدأ بالحلاب أو الطيب عند الغسل»
وضاحت: وہ برتن جو بالشت سے کم چوڑا اور گہرا ہو۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کوزے اور پیالے کے برابر برتن جس میں آٹھ رطل سما جائیں۔ (مرتب)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
100. باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة
باب: غسل جنابت میں کتنا پانی لینا بہتر ہے
حدیث نمبر: 184
184 صحيح حديث عَائِشَة، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، مِنْ قَدَحٍ يُقالُ لَهُ الْفَرَق
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے، اس برتن کو «الْفَرَقُ» ”فرق“ کہا جاتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 184]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 2 باب غسل الرجل مع امرأته»
وضاحت: الفرق: سولہ رطل پر مشتمل پیمانہ جس کا اہل مدینہ استعمال کرتے تھے۔ (سولہ رطل تقریباً پونے سات سیر کے برابر ہے)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 185
185 صحيح حديث عَائِشَة سَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوٍ مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا؛ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ (قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ)
ابو سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی (سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما) نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا، پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا، اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 185]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 3 باب الغسل بالصاع ونحوه»
وضاحت: یہ سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے رضاعی بھانجے تھے۔ اور آپ کے محرم تھے۔ ابو سلمہ سیّدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ام المومنین کے پاس گئے تو انہوں نے پردہ سے غسل فرما کر ان کو طریقہ غسل کی تعلیم فرمائی۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 186
186 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ، أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ، وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دھوتے یا (یہ کہا کہ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک (پانی استعمال فرماتے تھے) اور جب وضو فرماتے تو ایک مد (پانی) سے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 47 باب الوضوء بالمد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
101. باب استحباب إِفاضة الماء على الرأس وغيره ثلاثا
باب: سر وغیرہ پر تین مرتبہ پانی ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 187
187 صحيح حديث جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا، وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ، كِلْتَيْهِمَا
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 4 باب من أفاض على رأسه ثلاثًا»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا جبیر بن مطعم بن عدی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو محمد یا ابو عدی تھی۔ بڑے حلیم، شریف اور سخی انسان تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپس آئے تو انہوں نے آپ کو پناہ دی تھی۔ فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کیا۔ پھر مدینہ ہجرت فرمائی اور وہیں ۵۹ہجری کو وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»