اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. باب إِنما الماء من الماء
باب: پانی کا استعمال پانی نکلنے سے پہلے ہے
حدیث نمبر: 198
198 صحيح حديث عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه، قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ فَلَمْ يُمْنِ قَالَ عُثْمَانُ: يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ؛ قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص صحبت کرے اور منی نہ نکلے (تو کیا کرے)؟ انہوں نے فرمایا: ”وضو کرے جس طرح نماز کے لیے وضو کرتا ہے، اور اپنے عضو کو دھو لے۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (یہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 34 باب من لم ير الوضوء إلا من المخرجين»
وضاحت: یہ سب روایات ابتدائی عہد سے متعلق ہیں۔ اب صحبت کے بعد غسل فرض ہے خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امت کا اجماع ہے کہ جماع کرنے سے غسل واجب ہوتا ہے منی نکلے یا نہ نکلے۔ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہی حق وصواب ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ج۱ ص ۱۰۰، راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
109. باب نسخ (الماء من الماء) ووجوب الغسل بالتقاء الختانين
باب: (الماء من الماء) کا منسوخ ہونا اور دخول پر غسل کا واجب ہونا
حدیث نمبر: 199
199 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْل
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد عورت کے چہار زانو میں بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ جماع کے لیے کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 28 باب إذا التقى الختانان»
وضاحت: امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث کا معنی یہ ہے کہ غسل انزال منی پر موقوف نہیں ہے بلکہ جب بھی دخول ہوگیا دونوں پر غسل واجب ہو جائے گا۔ اور اب اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
110. باب نسخ الوضوء مما مست النار
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کا واجب ہونا منسوخ ہے
حدیث نمبر: 200
200 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 50 باب من لم يتوضأ من لحم الشاة والسويق»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 201
201 صحيح حديث عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَلْقَى السِّكِّينَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بکری کے شانے سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ نماز کے لیے بلائے گئے تو آپ نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی، نیا وضو نہیں کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 50 باب من لم يتوضأ من لحم الشاة والسويق»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو امیہ ضمری ہے احد کے دن اسلام قبول کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اکیلے ایک سریہ پر بھیجا اور نجاشی کی طرف بطور قاصد بھی بھیجا تھا۔ بیئر معونہ کے معرکہ میں گرفتار ہوئے اور عامر بن طفیل نے انہیں قید کر دیا تھا۔ اور ان کی پیشانی کے بال کاٹ کر انہیں آزاد کر دیا تھا۔ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ۶۰ہجری کو مدینہ میں وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 202
202 صحيح حديث مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَّضَّأْ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 51 باب من مضمض من السويق ولم يتوضأ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 203
203 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر کلی کی اور فرمایا: ”اس میں چکنائی ہوتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 52 باب هل يمضمض من اللبن»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
111. باب الدليل على أن من تيقن الطهارة ثم شك في الحدث فله أن يصلي بطهارته
باب: جس شخص کو طہارت کا یقین ہو پھر اس میں شک ہو تو وہ اس وضو میں نماز پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 204
204 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلاَةِ، فَقَالَ: لاَ يَنْفَتِلْ أَوْ لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ایک شخص ہے جسے یہ خیال ہوتا ہے کہ نماز میں کوئی چیز (یعنی ہوا نکلتی ہوئی) معلوم ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نماز سے) نہ پھرے یا نہ مڑے، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 4 باب لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
112. باب طهارة جلود الميتة بالدباغ
باب: مردہ جانوروں کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 205
205 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَيِّتَةً أُعْطِيَتْهَا مَولاَةٌ لمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلاَّ انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ؛ قَالَ: إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کی بکری، جو صدقہ میں کسی نے دی تھی، مری ہوئی دیکھی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس کے چمڑے کو کیوں نہیں کام میں لاتے؟“ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرام تو صرف اس کا کھانا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 61 باب الصدقة على موالي أزواج النبي صلي الله عليه وسلم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
113. باب التيمم
باب: تیمم کا بیان
حدیث نمبر: 206
206 صحيح حديث عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْض أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، أَوْ، بِذَاتِ الْجَيْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي؛ فَأَقَام رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ؛ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا: أَلاَ تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ؛ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَعاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقولَ، وَجَعَلَ يطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ، فَتَيمَّمُوا؛ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبي بَكْرِ قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَأَصَبْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ بنی المصطلق) میں تھے، جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ایک ہار کھو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہیں ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے، لیکن وہاں پانی کہیں قریب میں نہ تھا، لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کام کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے اور پانی بھی کہیں قریب میں نہیں ہے اور نہ لوگوں ہی کے ساتھ ہے؟ پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری زانو پر رکھے ہوئے سو رہے تھے، فرمانے لگے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو روک لیا حالانکہ قریب میں کہیں پانی بھی نہیں ہے اور نہ لوگوں کے پاس ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ والد ماجد رضی اللہ عنہ مجھ پر بہت خفا ہوئے اور اللہ نے جو چاہا انہوں نے مجھے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا اس وجہ سے میں حرکت بھی نہیں کر سکتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کے وقت اٹھے تو پانی کا پتہ تک نہ تھا، پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری اور لوگوں نے تیمم کیا، اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر ہم نے اس اونٹ کو ہٹایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے مل گیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: كتاب التيمم: 1 باب حدثنا عبد الله بن يوسف»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 207
207 صحيح حديث عَمَّارٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ وَأَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسى لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ المَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ وَيُصَلِّي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ (فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا) فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ أَنْ يَتَيَمَّموا الصَّعِيدَ قُلْتُ: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هذَا لِذَا قَالَ: نَعَمْ فَقَالَ أَبُو مُوسى: أَلَمْ تَسْمَع قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَر: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَما تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هكَذَا؛ فَضَرَبَ بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ، أَوْ ظَهْرَ شَمَالِهِ بِكَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا وَجْهَه فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر ایک شخص کو غسل کی حاجت ہو اور مہینہ بھر پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کر کے نماز نہ پڑھے؟ شقیق کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ وہ ایک مہینہ تک پانی نہ پائے (اور نماز موقوف رکھے)۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر سورہ مائدہ کی اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] کا کیا مطلب ہو گا کہ ”اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمم کر لو“؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو جلدی یہ حال ہو جائے گا کہ جب ان کو پانی ٹھنڈا معلوم ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم ہی کر لیں گے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے کہا: تو آپ نے جنبی کے لیے تیمم اس لیے برا جانا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا آپ کو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ قول معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا تھا، سفر میں مجھے غسل کی ضرورت ہو گئی لیکن پانی نہیں ملا اس لیے میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے صرف اتنا کرنا کافی تھا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ایک مرتبہ مارا پھر ان کو جھاڑ کر بائیں ہاتھ سے داہنے کی پشت کو مل لیا یا بائیں ہاتھ کا داہنے ہاتھ سے مسح کیا پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا کہ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ انہوں نے عمار کی بات پر قناعت نہیں کی تھی؟ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 7 كتاب التيمم: 8 باب التيمم ضربة»
وضاحت: جنابت، حیض اور نفاس کی وجہ سے (فرض غسل سے) تیمم کرنے کے جائز ہونے پر متاخرین اور خلف کا اتفاق ہے اور سلف کا بھی اتفاق تھا مگر سوائے حضرت عمر، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ م اور حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے، کہ ان سے عدم جواز کا قول منقول ہے جب کہ حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ م کا اس مسئلہ میں رجوع بھی منقول ہوا ہے باقی اس مسئلہ کے جواز میں صحیح احادیث منقول ہیں جن کے مقابلے میں کسی کی بات قابل اعتناء نہیں سمجھی جا سکتی۔ روای حدیث: حضرت عمار بن یساء رضی اللہ عنہ نے ابتداء میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سمیہ رضی اللہ عنہ تھا۔ آپ کے والد اور والدہ کو اللہ کی راہ میں بڑی اذیتیں دی گئیں۔ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرتے تو فرماتے اے یاسر کی اولاد صبر کرو یقینا تمہارا ٹھکانا جنت ہے۔ غزوہ بدر اور دیگر غزوات میں بھی شریک رہے۔ جنگ یمامہ میں حاضر ہوئے تو ان کے کان کاٹ لئے گئے۔ پھر حضرت عمر کے زمانہ میں کوفہ کے عامل رہے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»