🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
113. باب التيمم
باب: تیمم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 208
208 صحيح حديثُ عَمَّارٍ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؛ فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ؛ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هكَذَا، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ، وَنَفَخَ فِيهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ
ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کی کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور پانی نہیں ملا (تو میں اب کیا کروں)؟ اس پر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ سفر میں تھے، ہم دونوں جنبی ہو گئے، آپ نے تو نماز نہیں پڑھی لیکن میں زمین پر لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی، پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے بس اتنا ہی کافی تھا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر انہیں پھونکا اور دونوں ہاتھوں سے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 7 كتاب التيمم: 4 باب المتيمم هل ينفخ فيهما»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 209
209 صحيح حديث أَبِي الْجُهَيْمِ الأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحرِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: أَقْبَلَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام عمیر بن عبداللہ نے کہا کہ میں اور سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا (زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے غلام عبداللہ بن یسار، ابو جھیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی) کے پاس آئے تو ابو جھیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بئرِ جمل کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، راستے میں ایک شخص آپ کو ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا (یعنی خود ابو جھیم نے)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کے قریب آئے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 7 كتاب التيمم في الحضر إذا لم يجد الماء»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا ابو جہیم بن حارث الانصاری رضی اللہ عنہ بی بن کعب کے بھانجے ہیں اور معروف صحابی ہیں۔ خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ تک زندہ رہے۔ ان کا نام عبداللہ تھا۔ بعض نے ان کا نام حارث بتایا ہے اور کہا ہے کہ ابو جہیم اور حارث کے درمیان ابن کا لفظ غلط واقع ہوا ہے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
114. باب الدليل على أن المسلم لا ينجس
باب: مسلمان نجس نہیں ہوتا اس کی دلیل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 210
210 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ فأَخَذَ بِيَدِي، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ مِنْهُ وَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ؛ فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ يَا أَبَا هِرٍّ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی اور اس وقت میں جنبی تھا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ کے ساتھ چلنے لگا، آخر آپ ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضرِ خدمت ہوا، آپ ابھی (وہیں) بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے دریافت فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے؟“ میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ! اے ابوہریرہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 24 باب الجنب يخرج ويمشي في السوق وغيره»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
115. باب ما يقول إِذا أراد دخول الخلاء
باب: پاخانہ جاتے وقت کیا کہنا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 211
211 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ، قَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (قضائے حاجت کے لیے) پاخانہ میں داخل ہوتے تو (یہ دعا) پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 9 باب ما يقول عند الخلاء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
116. باب الدليل على أن نوم الجالس لا ينقض الوُضوء
باب: بیٹھے بیٹھے سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 212
212 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَال: أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلاً فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز کے لیے تکبیر ہو چکی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں کسی شخص سے چپکے چپکے کان میں باتیں کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے جب تشریف لائے تو لوگ سو رہے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 212]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 27 باب الإمام تعرض له الحاجة بعد الإقامة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں