🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. باب استحباب إِفاضة الماء على الرأس وغيره ثلاثا
باب: سر وغیرہ پر تین مرتبہ پانی ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 188
188 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ هُوَ وَأَبُوهُ، وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْغُسْلِ، فَقَالَ: يَكْفِيكَ صَاعٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَكْفِينِي؛ فَقَالَ جَابِرٌ: كَانَ يَكْفِي مَنْ هُوَ أَوْفَى مِنْكَ شَعَرًا، وَخَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ أَمَّنَا فِي ثَوْبٍ
سیدنا ابو جعفر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے والد (سیدنا زین العابدین رحمہ اللہ) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھے اور کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے، ان لوگوں نے آپ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایک صاع کافی ہے، اس پر ایک شخص بولا کہ یہ مجھے تو کافی نہ ہوگا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )، پھر سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے صرف ایک کپڑا پہن کر ہمیں نماز پڑھائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 188]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 3 باب الغسل بالصاع ونحوه»
وضاحت: وہ بولنے والے شخص حسن بن محمد بن حنفیہ تھے (یعنی سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پوتے) سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ان کو سختی سے سمجھایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے خلاف فضول اعتراض کرنے والوں کو سختی سے سمجھانا چاہیے اور حدیث کے مقابلے میں رائے، قیاس، تاویل سے کام لینا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
102. باب استحباب استعمال المغتسلة من الحيض فرصة من مسك في موضع الدم
باب: جو عورت حیض کا غسل کرے وہ کپڑے یا روئی کو مشک لگا کر خون کے مقام پر استعمال کرے تو مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 189
189 صحيح حديث عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ، فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، قَالَ: خُذِي فِرْصَةَ مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا قَالَ: تَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ قَالَ: سُبْحانَ اللهِ تَطَهَّرِي بِهَا فَاجْتَبَذْتُهَا إِلَيَّ، فَقُلْتُ تَتَبَعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک (انصاری) عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔“ اس نے پوچھا: اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پاکی حاصل کر۔“ اس نے دوبارہ پوچھا کہ کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ! پاکی حاصل کر۔“ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ خون لگی ہوئی جگہوں پر پھیر لیا کر۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 13 باب دلك المرأة نفسها إذا تطهرت من المحيض»
وضاحت: اس غسل کی کیفیت مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ اچھی طرح سے پاکی حاصل کر، پھر اپنے سر پر پانی ڈال تاکہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے، پھر سارے بدن پر پانی ڈال لے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
103. باب المستحاضة وغسلها وصلاتها
باب: مستحاضہ کا بیان اور اس کے غسل اور نماز کا حال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 190
190 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ، فَلاَ أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے، اس لیے میں پاک نہیں رہتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں، تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے (بدن اور کپڑے) سے خون کو دھو ڈال، پھر نماز پڑھ، پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہی (حیض کا) وقت پھر آ جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: كتاب الوضوء: 63 باب غسل الدم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 191
191 صحيح حديث عَائَشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، فَقَالَ: هذَا عِرْقٌ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں) فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ سات سال تک مستحاضہ رہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ رگ (کی وجہ سے بیماری) ہے،“ پس ام حبیبہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 26 باب عرق الاستحاضة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
104. باب وجوب قضاء الصوم على الحائض دون الصلاة
باب: حائضہ عورت پر نماز کی قضا واجب نہیں اور روزے کی قضا واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 192
192 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لَهَا: أَتَجْزِي إِحْدَانَا صَلاَتَهَا إِذَا طَهُرَتْ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ كُنَّا نَحِيضُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلاَ يَأْمُرُنَا بِهِ، أَو قَالَتْ: فَلاَ نَفْعَلُهُ
ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ جس زمانہ میں ہم حیض سے پاک رہتے ہیں کیا ہمارے لیے اسی زمانہ کی نماز کافی ہے؟ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم حروریہ ہو؟ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حائضہ ہوتی تھیں اور آپ ہمیں نماز کا حکم نہیں دیتے تھے یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا کہ ہم نماز نہیں پڑھتی تھیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 20 باب لا تقضي الحائض الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. باب تستر المغتسل بثوب ونحوه
باب: غسل کرنے والا کپڑے وغیرہ کی آڑ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
193 صحيح حديث أُمِّ هَانِىءٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبِ، قَالَتْ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، قَالَتْ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ؛ فَقَالَ: مَنْ هذِهِ فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِىءٍ بِنْتُ أَبي طَالِبٍ؛ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِىءٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً قَدْ أَجَرْتُهُ، فُلاَنَ بْنَ هُبَيْرَةَ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِىءٍ، قَالَتْ أُمُّ هَانِىءٍ: وَذَاكَ ضُحًى
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پردہ کیے ہوئے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ میں نے بتایا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی آئی ہو (خوش آمدید) ام ہانی!“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہانے سے فارغ ہو گئے تو اٹھے اور آٹھ رکعت نماز پڑھی ایک ہی کپڑے کو لپیٹ کر، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میری ماں کے بیٹے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب) کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک شخص کو ضرور قتل کرے گا حالانکہ میں نے اسے پناہ دے رکھی ہے، یہ (میرے خاوند) ہبیرہ کا فلاں بیٹا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ہانی! جسے تم نے پناہ دے دی ہم نے بھی اسے پناہ دی۔“ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ نماز چاشت تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 4 باب الصلاة في الثوب الواحد ملتحفًا به»
وضاحت: راوي حدیث: سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب عبد مناف رضی اللہ عنہا سیّدنا علی و سیّدنا جعفر رضی اللہ عنہما کی بہن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہن ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ جب مکہ فتح ہوا تو ان کا خاوند ہبیرہ نجران کی طرف دوڑ گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں آٹھ رکعت نماز چاشت ادا کی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
106. باب جواز الاغتسال عريانًا في الخلوة
باب: تنہائی میں ننگے نہانا درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 194
194 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ؛ فَقَالُوا وَاللهِ مَا يَمْنَعُ مُوسى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلاَّ أَنَّهُ آدَرُ، فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَخَرَجَ مُوسى فِي إِثْرِهِ يَقُولُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائيلَ إِلَى مُوسى، فَقَالُوا وَاللهِ مَا بِمُوسى مِنْ بَأْسٍ؛ وَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبًا بِالْحَجَرِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا، لیکن جناب موسیٰ علیہ السلام تنہا (پردہ سے) غسل فرماتے، اس پر انہوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ ان کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا، اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے، آپ کہتے جاتے تھے: «ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ» ”اے پتھر! میرا کپڑا دے، اے پتھر! میرا کپڑا دے۔“ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں، اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 20 باب من اغتسل عريانًا وحده في الخلوة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
107. باب الاعتناء بحفظ العورة
باب: ستر ڈھانپنے میں احتیاط رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 195
195 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ، وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ؛ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَللْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ؛ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذلِكَ عُرْيانًا/ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نبوت سے پہلے) کعبہ کی تعمیر کے لیے قریش کے ساتھ پتھر ڈھو رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند باندھے ہوئے تھے، آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بھتیجے! کیوں نہیں تم تہبند کھول لیتے اور اسے پتھر کے نیچے اپنے کاندھے پر رکھ لیتے؟ (تا کہ تم پر آسانی ہو جائے)۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کھول لیا اور کاندھے پر رکھ لیا، اسی وقت غش کھا کر گر پڑے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ننگے نہیں دیکھے گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 8 باب كراهية التعري في الصلاة وغيرها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
108. باب إِنما الماء من الماء
باب: پانی کا استعمال پانی نکلنے سے پہلے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 196
196 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ، فَقَالَ: نَعَمْ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ قُحِطْتَ فَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا، وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا۔“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی جلدی (کا کام) آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 34 باب من لم ير الوضوء إلا من المخرجين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 197
197 صحيح حديث أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ قَالَ: يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا ہے اسے دھو لے، پھر وضو کرے اور نماز پڑھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 29 باب غسل ما يصيب من فرج المرأة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوالمنذر تھی۔ بہت بڑے قاری اور مقری تھے۔ اسلام لانے سے قبل یہود کے بہت بڑے عالم تھے۔ جب اسلام لائے تو کاتب وحی مقرر ہوئے۔ بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور فتویٰ دیا کرتے تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جابیہ کے معرکے میں شامل ہوئے۔ بیت المقدس والوں سے ہونے والا صلح نامہ انہوں نے لکھا تھا۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے جمع قرآن میں شریک تھے۔ مدینہ منورہ میں ہی وفات پائی۔ ۱۶۴ احادیث کے راوی ہیں۔ جن میں سے تین متفق علیہ ہیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں