اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
203. باب جواز صلاة النافلة على الدابة في السفر حيث توجهت
باب: سواری پر نفل نماز پڑھنا چاہے اس کا رخ کدھر بھی ہو
حدیث نمبر: 408
408 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: اسْتَقْبَلْنَا أَنَسًا حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّأمِ فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ، وَوَجْهُهُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ، يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَقَالَ: لَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ لَمْ أَفْعَلْهُ
انس بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب شام سے (حجاج کی خلیفہ سے شکایت کر کے) واپس ہوئے تو ہم ان سے مقامِ عین التمر میں ملے، ہم نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا چہرہ قبلہ سے بائیں طرف تھا، اس پر میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو قبلہ کے علاوہ دوسری طرف رخ کر کے نماز پڑھتے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی ایسا نہ کرتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 10 باب صلاة التطوع على الحمار»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
204. باب جواز الجمع بين الصلاتين في السفر
باب: سفر میں نمازوں کا جمع کرنا
حدیث نمبر: 409
409 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب کی نماز دیر سے پڑھتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 6 يصلى المغرب ثلاثا في السفر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 410
410 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر، عصر کا وقت آنے تک نہ پڑھتے، پھر کہیں (راستے میں) ٹھہرتے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھتے، لیکن اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھتے پھر سوار ہوتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 16 باب إذا ارتحل بعدما زاغت الشمس صلى الظهر ثم ركب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
205. باب الجمع بين الصلاتين في الحضر
باب: مقیم کے لیے نمازوں کا جمع کرنا
حدیث نمبر: 411
411 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت ایک ساتھ (ظہر اور عصر) اور سات رکعت ایک ساتھ (مغرب اور عشاء) ملا کر پڑھیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 30 باب من لم يتطوع بعد المكتوبة»
وضاحت: امام بخاری رحمہ اللہ نے اس احادیث سے یہ نکالا ہے کہ سنتوں کا ترک کرنا جائز ہے۔ اور سنت بھی یہی ہے کہ (نمازیں) جمع کرے تو سنتیں نہ پڑھے۔(مولانا وحید الزماں)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
206. باب جواز الانصراف من الصلاة عن اليمين والشمال
باب: نماز پڑھ کے دائیں بائیں دونوں طرف مڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 412
412 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ لاَ يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلاَتِهِ، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ (سلام پھیرنے کے بعد) دائیں طرف ہی لوٹنا اپنے لیے ضروری قرار دے لے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 195 باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال»
وضاحت: جب مباح کام لازم قرار دینے سے شیطان کا حصہ سمجھا جائے تو جو کام مکروہ یا بدعت ہے اس کو کوئی لازم قرار دے لے اور اس کے نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ستائے تو اس پر شیطان کا کیا تسلط ہے، سمجھ لینا چاہیے۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
207. باب كراهة الشروع في نافلة بعد شروع المؤذن
باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل مکروہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 413
413 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلاً، وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَثَ بِهِ النَّاسُ، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصُّبْحَ أَرْبَعًا الصُّبْحَ أَرْبَعًا
سیدنا مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے نمازی پر پڑی جو تکبیر کے بعد دو رکعت نماز پڑھ رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگ اس شخص کے ارد گرد جمع ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا صبح کی چار رکعات پڑھتا ہے؟ کیا صبح کی چار رکعات ہو گئیں؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 38 باب إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة»
وضاحت: امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تکبیر سن لینے کے بعد نمازی کے لیے فجر کی سنتیں پڑھنا یا کسی اور نفل نماز کا ادا کرنا حلال نہیں ہے۔ چاہے وہ مسجد میں ہو یا باہر۔ اگر ایسا کیا تو (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا) نا فرمان ہوا۔ اہل ظاہر کا یہی فتویٰ ہے اور امام ابن حزم رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور سلف سے اسی مسئلہ کو نقل کیا ہے۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
208. باب استحباب تحية المسجد بركعتين وكراهة الجلوس قبل صلاتهما وأنها مشروعة في جميع الأوقات
باب: مسافر کے لیے مسجد میں دو رکعت پڑھے بغیر بیٹھنا مکروہ ہے اور تحیۃ المسجد تمام اوقات میں پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 414
414 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ
سیدنا ابو قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 60 باب إذا دخل المجلس فليركع ركعتين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
209. باب استحباب الركعتين في المسجد لمن قدم من سفر أول قدومه
باب: مسافر کو مسجد میں آکر پہلے دو رکعت پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 415
415 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بي جَمَلِي وَأَعْيَا، فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: جَابِرٌ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: مَا شَأْنُكَ قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي وَأَعْيَا وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: الآنَ قَدِمْتَ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (ذات الرقاع یا تبوک) میں تھا، میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا، اتنے میں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”جابر!“ میں نے عرض کیا: حضور! حاضر ہوں، فرمایا: ”کیا بات ہوئی؟“ میں نے کہا کہ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ہے، چلتا ہی نہیں، اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں، میں دوسرے دن صبح کو پہنچا، پھر ہم مسجد آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے پر ملے، آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا ابھی آئے ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا: ”پھر اپنا اونٹ چھوڑ دے اور مسجد میں جا کے دو رکعت نماز پڑھ۔“ میں اندر گیا اور نماز پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 415]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 34 باب شراء الدواب والحمير»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
210. باب استحباب صلاة الضحى وأن أقلها ركعتان
نماز چاشت کا بیان اور یہ کم از کم دو رکعت ہے
حدیث نمبر: 416
416 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ، وَمَا سَبَّحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحى قطُّ، وَإِنِّي لأُسَبِّحُهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کام کو چھوڑ دیتے اور آپ کو اس کا کرنا پسند ہوتا، اس خیال سے ترک کر دیتے (ایسا نہ ہو) کہ دوسرے صحابہ بھی اس پر (آپ کو دیکھ کر) عمل شروع کر دیں اور اس طرح وہ کام ان پر فرض ہو جائے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی لیکن میں پڑھتی ہوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 416]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 5 باب تحريض النبي صلی اللہ علیہ وسلم على صلاة الليل والنوافل من غير إيجاب»
وضاحت: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکو شاید وہ قصہ معلوم نہ ہوگا جس کو ام ہانی نے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن چاشت کی نماز پڑھی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشگی کے ساتھ کبھی نہیں پڑھی۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 417
417 صحيح حديث أُمِّ هَانِيءٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَنْبَأَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحى غَيْرُ أُمِّ هَانِيءٍ ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صلاةً أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
سیدنا ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا، ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات پڑھی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 417]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 12 باب من تطوع في السفر في غير دبر الصلوات وقبلها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»