🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
210. باب استحباب صلاة الضحى وأن أقلها ركعتان
نماز چاشت کا بیان اور یہ کم از کم دو رکعت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 418
418 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلاَثٍ، لاَ أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ: صَوْمِ ثَلاَثَةِ أَيَّامِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلاَةِ الضُّحى، وَنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے میرے محبوب دوست صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں: ”ہر مہینہ میں تین دن کے روزے، چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 418]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 33 باب صلاة الضحى في الحضر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
211. باب استحباب ركعتي سنة الفجر والحث عليهما
باب: فجر کی سنت کی فضیلت و رغبت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 419
419 صحيح حديث حَفْصَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، إِذَا اعْتَكَفَ الْمُؤَذِّنُ لِلصُّبْحِ، وَبَدَا الصُّبْحُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب مؤذن صبح کی اذان صبحِ صادق کے طلوع ہونے کے بعد دے چکا ہوتا تو آپ اذان اور تکبیر کے بیچ نماز قائم ہونے سے پہلے دو ہلکی سی رکعات پڑھتے (یہ فجر کی سنتیں ہوتی تھیں آپ سفر اور حضر ہر جگہ لازماً ان کو ادا فرماتے تھے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 419]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 12 باب الأذان بعد الفجر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 420
420 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو ہلکی سی رکعات پڑھتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 420]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 12 باب الأذان بعد الفجر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 421
421 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ هَلْ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی (فرض) نماز سے پہلے کی دو (سنت) رکعات کو بہت مختصر رکھتے تھے، آپ نے ان میں سورہ فاتحہ بھی پڑھی یا نہیں، میں یہ بھی نہیں کہہ سکتی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 421]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 28 باب ما يقرأ في ركعتي الفجر»
وضاحت: یہ مبالغہ ہے۔ یعنی بہت ہلکی پھلکی پڑھا کرتے تھے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ آپ ان میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 422
422 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی نفل نماز کی، فجر کی دو رکعات سے زیادہ پابندی نہیں کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 422]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 27 باب تعاهد ركعتي الفجر ومن سماها تطوعا»
وضاحت: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سنتوں پر مداومت فرمائی ہے۔ اس لیے سفرو حضر کہیں بھی ان ترک کرنا اچھا نہیں ہے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
212. باب فضل السنن الراتبة قبل الفرائض وبعدهن وبيان عددهن
باب: فرائض سے پہلے اور بعد سنتوں کی فضیلت اور تعداد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 423
423 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛ فَأَمَّا الْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ، فَفِي بَيْتِهِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت سنت، ظہر کے بعد دو رکعت سنت، مغرب کے بعد دو رکعت سنت، عشاء کے بعد دو رکعت سنت اور جمعہ کے بعد دو رکعت سنت پڑھی ہیں اور مغرب اور عشاء کی سنتیں آپ گھر میں پڑھتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 423]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 29 باب التطوع بعد المكتوبة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
213. باب جواز النافلة قائما وقاعدا وفعل بعض الركعة قائما وبعضها قاعدا
باب: نفل کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے پڑھنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 424
424 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ جَالِسًا، حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا، فَإِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلاَثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً، قَامَ فَقَرَأَهُنَّ ثُمَّ رَكَعَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی کسی نماز میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر قرآن پڑھتے تھے، لیکن جب تیس چالیس آیتیں رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے پھر ان کو پڑھ کر رکوع کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 424]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 16 باب قيام النبي صلی اللہ علیہ وسلم بالليل في رمضان وغيره»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 425
425 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَيَقْرأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا، وَهْوَ قَائمٌ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ، يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذلِكَ، فَإِذَا قَضَى صَلاَتَهُ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَى تَحَدَّثَ مَعِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائمَةً اضْطَجَعَ
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرأت بیٹھ کر کرتے، جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع اور سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے، نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ بھی لیٹ جاتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 20 باب: إذا صلى قاعدا ثم صح أو وجد خفة تمّم ما بَقِي»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
214. باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الليل وأن الوتر ركعة، وأن الركعة صلاة صحيحة
باب: نماز شب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی رکعات کی تعداد، ایک وتر کا بیان اور ایک رکعت صحیح نماز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 426
426 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، كيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي
سیدنا ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں (رات کو) کتنی رکعات پڑھتے تھے؟ آپ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا کوئی اور؛ پہلے آپ چار رکعت پڑھتے، ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا! پھر آپ چار رکعت اور پڑھتے، ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا! پھر تین رکعات پڑھتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ رضی اللہ عنہا، میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 426]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 16 باب قيام النبي صلی اللہ علیہ وسلم بالليل في رمضان وغيره»
وضاحت: ان ہی گیارہ رکعات کو تراویح قرار دیا گیا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان اور غیر رمضان میں بروایات صحیحہ یہی گیارہ رکعات ثابت ہیں۔ رمضان شریف میں یہ نماز تراویح کے نام سے موسوم ہوئی اور غیر رمضان میں تہجد کے نام سے پکاری گئی۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 427
427 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً؛ مِنْهَا الْوِتْرُ، وَرَكْعَتَا الْفَجْرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعات پڑھتے تھے، وتر اور فجر کی دو سنت رکعات اسی میں ہوتیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 427]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 10 باب كيف كان صلاة النبي صلی اللہ علیہ وسلم وكم كان النبي يصلي من الليل»
وضاحت: وتر سمیت یعنی دس رکعت تہجد کی دو دو کرکے پڑھتے۔ پھر ایک رکعت پڑھ کر سب کو طاق کر لیتے۔ یہ گیارہ رکعت تہجد اور وتر کی تھی۔پھر دو فجر کی سنتیں ملا کر تیرہ رکعت ہوئیں۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں