🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
214. باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الليل وأن الوتر ركعة، وأن الركعة صلاة صحيحة
باب: نماز شب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی رکعات کی تعداد، ایک وتر کا بیان اور ایک رکعت صحیح نماز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 428
428 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، كَيْفَ كَانَ صَلاَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَتْ: كَانَ يَنَامُ أَوَّلَهُ، وَيَقُومُ آخِرَهُ، فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ اغْتَسَلَ، وَإِلاَّ تَوَضَّأَ وَخَرَجَ
اسود رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز کس طرح پڑھتے تھے؟ آپ نے بتلایا کہ شروع رات میں سو رہتے، آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد کی نماز پڑھتے، اس کے بعد بستر پر آ جاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے، اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل کرتے، ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 428]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 15 باب من نام أول الليل وأحيا آخره»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 429
429 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ: الدَّائمُ، قُلْتُ: مَتَى كَانَ يَقُومُ قَالَتْ: كَانَ يَقُومُ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ
سیدنا مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا عمل زیادہ پسند تھا؟ آپ نے جواب دیا کہ جس پر ہمیشگی کی جائے (خواہ وہ کوئی بھی نیک کام ہو)، میں نے دریافت کیا کہ آپ (رات میں نماز کے لیے) کب کھڑے ہوتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ جب مرغ کی آواز سنتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 429]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 7 باب من نام عند السحر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 430
430 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا أَلْفَاهُ عِنْدِي إِلاَّ نَائمًا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے اپنے یہاں سحر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ لیٹے ہوئے پایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 430]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 7 باب من نام عند السحر»
وضاحت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ تہجد سے فارغ ہو کر آپ قبل فجر سحر کے وقت تھوڑی دیر آرام فرمایا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہایہی بیان فرما رہی ہیں۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 431
431 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وانْتَهى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر صبح کے قریب پہنچے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 431]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 14 كتاب الوتر: 2 باب ساعات الوتر»
وضاحت: اس کی مزید تفسیر وہ حدیث کرتی ہے جو ابو داؤد میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ میں بھی وتر پڑھے اور درمیان میں بھی اور آخر میں بھی۔ لیکن موت کے قریب سحری کے وقت پڑھتے تھے۔ یہاں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آپ کا ابتدائی اور درمیانی وقت کا عمل جواز کے بیان کے لیے ہو اور آخر وقت کا عمل فضیلت بتانے کے لیے ہو۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
215. باب صلاة الليل مثنى مثنى والوتر ركعة من آخر الليل
باب: رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور وتر رات کے آخر میں ایک رکعت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 432
432 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مثنى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ، صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب کوئی صبح ہو جانے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 14 كتاب الوتر 1 باب ما جاء في الوتر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 433
433 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اجْعَلُوا آخِرَ صَلاَتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر رات کی تمام نمازوں کے بعد پڑھا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 433]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 14 كتاب الوتر: 4 باب ليجعل آخر صلاته وترا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
216. باب الترغيب في الدعاء والذكر في آخر الليل والإجابة فيه
باب: دعا رات کے آخری حصہ میں قبول ہوتی ہے اور آخری پہر ذکر کی ترغیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 434
434 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرِ، يَقولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا پروردگار بلند و برکت والا ہر رات کو اس وقت آسمانِ دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے، وہ فرماتا ہے: کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں؟ کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 14 باب الدعاء والصلاة في آخر الليل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
217. باب الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح
باب: قیام رمضان کی ترغیب اور وہ تراویح ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
435 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا واحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لیے قیام (نماز تراویح) کرے، اس کے اگلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 27 كتاب الإيمان: 27 باب تطوع قيام رمضان من الإيمان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
436 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاَتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّوا بِصَلاَتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ؛ فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ، لكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت اٹھ کر مسجد میں نماز پڑھی اور چند صحابہ بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، صبح کو ان صحابہ نے دوسرے لوگوں سے اس کا ذکر کیا، چنانچہ (دوسرے دن) اس سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، دوسری صبح کو اس کا چرچا اور زیادہ ہوا، پھر کیا تھا تیسری رات بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو ان صحابہ نے آپ کے پیچھے نماز شروع کر دی، چوتھی رات جو آئی تو مسجد میں نمازیوں کی کثرت سے تل رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی، لیکن آج رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز نہیں پڑھائی اور فجر کی نماز کے بعد لوگوں سے خطاب کیا، پہلے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! مجھے تمہاری اس حاضری سے کوئی ڈر نہیں لیکن میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے پھر تم سے یہ ادا نہ ہو سکے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 436]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 29 باب من قال في الخطبة بعد الثناء أما بعد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
218. باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه
باب: رات کی نماز میں دعا اور قیام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
437 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى حَاجَتَهُ، غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ وُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ، وَقَدْ أَبْلَغَ، فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْقبُهُ، فَتَوَضَّأْتُ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلاَتُهُ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَآذَنَهُ بِلاَلٌ بِالصَّلاَةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأ؛ وَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا قَالَ كُرَيْبٌ (الرَّاوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ) وَسَبْعٌ فِي التَّابُوتِ، فَلَقَيْتُ رَجُلاً مِنْ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَكَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعَرِي وَبَشَرِي، وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک رات سویا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے اپنی حوائجِ ضروریہ پوری کرنے کے بعد اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ دھوئے اور پھر سو گئے، اس کے بعد آپ کھڑے ہو گئے اور مشکیزہ کے پاس گئے اور آپ نے اس کا منہ کھولا، پھر درمیانہ وضو کیا (نہ مبالغہ کے ساتھ نہ معمولی اور ہلکے قسم کا، تین تین مرتبہ سے) کم دھویا البتہ پانی ہر جگہ پہنچا دیا، پھر آپ نے نماز پڑھی، میں بھی کھڑا ہوا اور آپ کے پیچھے ہی رہا کیونکہ میں اسے پسند نہیں کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھیں کہ میں آپ کا انتظار کر رہا تھا، میں نے بھی وضو کر لیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا، آپ نے میرا کان پکڑ کر دائیں طرف کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی اقتدا میں) تیرہ رکعت نماز مکمل کی، اس کے بعد آپ سو گئے اور آپ کی سانس میں آواز پیدا ہونے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تھے تو آپ کی سانس میں آواز پیدا ہونے لگتی تھی، اس کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کی اطلاع دی، چنانچہ آپ نے (نیا وضو) کیے بغیر نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ کہتے تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر، میری نظر میں نور پیدا کر، میرے کان میں نور پیدا کر، میرے دائیں طرف نور پیدا کر، میرے بائیں طرف نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔“ کریب (راوی حدیث) نے بیان کیا کہ تابوت میں سات (نور) تھے، پھر میں نے سیدنا عباس کے ایک صاحبزادے سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے ان کے متعلق بیان کیا کہ ”میرے پٹھے، میرا گوشت، میرا خون، میرے بال اور میرا چمڑا (ان سب میں نور بھر دے)“ اور دو چیزوں کا اور ذکر کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 10 باب الدعاء إذا انتبه من الليل»
وضاحت: راجح قول کے مطابق یہ سات چیزیں کریب کے پاس لکھی موجود تھیں جو اسے اس وقت یاد نہیں تھیں۔ یعنی ہڈیاں اور مغز اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ شائد چربی اور ہڈیاںمراد ہیں۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں