🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
218. باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه
باب: رات کی نماز میں دعا اور قیام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
438 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسِ، أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتَهُ، فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَواتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا؛ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ؛ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری۔ میں تکیے کے عرض (یعنی گوشہ) کی طرف لیٹ گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ نے (معمول کے مطابق) تکیے کی لمبائی پر سر رکھ کر آرام فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے۔ اور جب آدھی رات ہو گئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد آپ بیدار ہوئے اور اپنی نیند کو دور کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے آنکھیں ملنے لگے۔ پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیتیں [سورة آل عمران: 190-200] پڑھیں، پھر ایک مشک کے پاس جو (چھت میں) لٹکا ہوا تھا آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضو کیا، خوب اچھی طرح، پھر کھڑے ہو کر اس طرح کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا۔ پھر جا کر میں بھی آپ کے پہلوئے مبارک میں کھڑا ہو گیا۔ آپ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ پھر آپ نے دو رکعت پڑھیں۔ اس کے بعد پھر دو رکعت پڑھیں، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت پڑھ کر اس کے بعد آپ نے ایک رکعت وتر پڑھے اور لیٹ گئے۔ پھر جب مؤذن آپ کے پاس آیا تو آپ نے اٹھ کر دو رکعت معمولی (طور پر) پڑھیں۔ پھر باہر تشریف لا کر صبح کی نماز پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 36 باب قراءة القرآن بعد الحدث وغيره»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
439 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتْ صَلاَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يَعْنِي بِاللَّيْلِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 10 باب كيف كانت صلاة النبي صلی اللہ علیہ وسلم وكم كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يصلى من الليل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
440 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَواتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَواتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَواتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ؛ اللهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْلي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلهِي لاَ إِلهَ إِلاَّ أَنْتَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھنے اٹھتے تو کہتے: ” «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا نور ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے سب کا رب ہے، تو سچ ہے، تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول سچا ہے، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے اور دوزخ سچ ہے، سارے انبیاء سچے ہیں اور قیامت سچ ہے، اے اللہ! میں تیرے سامنے ہی جھکا، تجھ پر ہی ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیرے ہی سامنے اپنا جھگڑا پیش کرتا اور تجھ سے اپنا فیصلہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت کر دے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی جو میں نے چھپا کر کیے اور جو ظاہر کیے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں“۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 97 كتاب التوحيد: 35 باب قول الله تعالى (يريدون أن يبدلوا كلام الله»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
219. باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل
باب: تہجد میں لمبی قراء ت کا مستحب ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
441 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمْ يَزَلْ قَائمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ؛ قِيلَ لَهُ: وَمَا هَمَمْتَ قَالَ: هَمَمْت أَنْ أَقْعُدَ وَأَذَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ رات میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا، ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے بتلایا: میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 9 باب طول القيام في صلاة الليل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
220. باب ما روي فيمن نام الليل أجمع حتى أصبح
باب: اس آدمی کا بیان جو پوری رات صبح تک سوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
442 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَهُ حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ أَوْ قَالَ: فِي أُذُنِهِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حاضر خدمت تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا جو رات بھر دن چڑھے تک پڑا سوتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسا شخص ہے جس کے دونوں کانوں (یا کہا) کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 11 باب صفة إبليس وجنوده»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 443
443 صحيح حديث عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لَيْلَةً، فَقَالَ: أَلاَ تُصَلِّيَانِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: (وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟“ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا، ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر ہاتھ مار کر (سورہ کہف کی یہ آیت) پڑھ رہے تھے: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] ”آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 5 باب تحريض النبي صلی اللہ علیہ وسلم على صلاة الليل والنوافل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 444
444 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاَثَ عُقَدٍ؛ يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ، عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِن اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ الله انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلاَّ أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ افسوں بھی پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے، پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر (نماز (فرض یا نفل)) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند، خوش مزاج رہتا ہے، ورنہ سست اور بد باطن رہتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 444]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 12 باب عقد الشيطان على قافية الرأس إذا لم يصل بالليل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
221. باب استحباب صلاة النافلة في بيته وجوازها في المسجد
باب: نفل نماز مسجد میں پڑھنا بھی جائز ہے لیکن گھر میں پڑھنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 445
445 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاَتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں بھی نمازیں پڑھا کرو اور انہیں بالکل مقبرہ نہ بنا لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 445]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 52 باب كراهية الصلاة في المقابر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 446
446 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لاَ يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ جیسی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 446]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 66 باب فضل ذكر الله عز وجل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 447
447 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْزَةً، مِنْ حَصِيرٍ، في رَمَضَانَ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الْمَكْتُوبَة
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں بوریے کا ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی رات اس میں نماز پڑھی، صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی)، پھر برآمد ہوئے اور فرمایا: ”تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنا ضروری ہے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 81 باب صلاة الليل»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو سعید اور ابو حارثہ تھی۔ بہت بڑے امام اور علم فرائض میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ مدینے کے مفتی تھے۔ کاتب وحی تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ حج پر جاتے تو انہیں مدینے میں اپنا جانشین بنا کر جاتے تھے۔ ہجرت کے موقعہ پر گیارہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ سورتوں کی تلاوت فرمائی تو انہوں نے ان سورتوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوت حافظہ پر تعجب کیا۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پندرہ دنوں میں سریانی زبان لکھنا اور پڑھنا سیکھی تھی۔ سیّدنا ابو بکر صدیق اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کے موقع پر جو کمیٹی قائم کی تھی آپ اس کے سربراہ تھے۔ آپ نے ۵۶ برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں ۴۵ھ کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں