اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
222. باب أمر من نعس في صلاته أو استعجم عليه القرآن أو الذكر بأن يرقد أو يقعد حتى يذهب عنه ذلك
باب: اونگھ کے وقت نماز پوری کر کے سو جانے کی اجازت
حدیث نمبر: 448
448 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ؛ فَقَالَ: مَا هذَا الْحَبْلُ قَالُوا: هذَا حَبْلٌ لِزَيْنَبَ، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَت فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَحُلُّوهُ، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، آپ کی نظر ایک رسی پر پڑی جو دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی، دریافت فرمایا: ”یہ رسی کیسی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے باندھی ہے، جب وہ (نماز میں کھڑی کھڑی) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک رہتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ یہ رسی نہیں ہونی چاہیے، اسے کھول ڈالو۔ تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ جب تک دل لگے نماز پڑھے، جب تھک جائے تو بیٹھ جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 18 باب ما يكره من التشديد في العبادة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 449
449 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، قَالَ: مَنْ هذِهِ قَالَتْ: فُلاَنَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا، قَالَ: مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لاَ يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) میرے پاس آئے، اس وقت ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: فلاں عورت، اور اس کی نماز (کے اشتیاق اور پابندی) کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیر جاؤ (سن لو کہ) تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ہے، خدا کی قسم! (ثواب دینے سے) اللہ نہیں اکتاتا مگر تم (عمل کرتے کرتے) اکتا جاؤ گے اور اللہ کو دین (کا) وہی (عمل) زیادہ پسند ہے جس کی ہمیشہ پابندی کی جا سکے (اور انسان بغیر اکتائے اسے انجام دے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 32 باب أحب الدين إلى الله أدومه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 450
450 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لاَ يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُب نَفْسَهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آ جائے تو چاہیے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند کا اثر اس سے ختم ہو جائے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ اللہ سے مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 450]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 53 باب الوضوء من النوم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
223. باب الأمر بتعهد القرآن وكراهة قول نسيت آية كذا وجواز قول أنسيتها
باب: قرآن کی نگہبانی کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 451
451 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا، آيَةً أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری کو رات کے وقت مسجد میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”اللہ اس آدمی پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جنہیں میں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے چھوڑ رکھا تھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 451]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 27 باب من لم ير بأسا أن يقول سورة البقرة وسورة كذا وكذا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 452
452 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے، اگر وہ اس کی نگرانی رکھے تو وہ اسے روک سکے گا، ورنہ وہ رسی توڑ کر بھاگ جائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 452]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 23 باب استذكار القرآن وتعاهده»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 453
453 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِئْسَ مَا لأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ نُسِّيَ؛ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت برا ہے کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں (کہنا چاہیے) کہ مجھے بھلا دیا گیا اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو کیونکہ انسانوں کے دلوں سے دور ہو جانے میں وہ اونٹ کے بھاگنے سے بھی بڑھ کر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 453]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 23 باب استذكار القرآن وتعاهده»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 454
454 صحيح حديث أَبِي مُوسى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الإِبِلِ فِي عُقُلِهَا
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید کا پڑھتے رہنا لازم پکڑ لو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ اونٹ کے اپنی رسی تڑا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے بھاگتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 454]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 23 باب استذكار القرآن وتعاهده»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
224. باب استحباب تحسين الصوت بالقرآن
باب: خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 455
455 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ يَأْذَنِ اللهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِلنَّبِيِّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرَآنِ يُرِيدُ يَجْهَرُ بِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے کوئی چیز اتنی توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن بہترین آواز کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 19 باب من لم يتغن بالقرآن»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 456
456 صحيح حديث أبِي مُوسى رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: يَا أَبَا مُوسى لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! تمہیں سیدنا داؤد علیہ السلام جیسی بہترین آواز عطا کی گئی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 31 باب حسن الصوت بالقراءة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
225. باب ذكر قراءة النبي صلی اللہ علیہ وسلم سورة الفتح يوم فتح مكة
باب: فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورۂ فتح پڑھنا
حدیث نمبر: 457
457 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَافَتِهِ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْح، يُرَجِّعُ، قَالَ: لَوْلاَ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ حَوْلِي لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر اپنے اونٹ پر سوار ہیں اور خوش الحانی کے ساتھ ﴿سورة الفتح﴾ کی تلاوت فرما رہے ہیں، سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے گھیر لیں تو میں بھی اسی طرح تلاوت کر کے دکھاتا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنایا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 457]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 48 باب أين ركز النبي صلی اللہ علیہ وسلم الراية يوم الفتح»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیعت رضوان والے صحابہ میں سے ہیں۔ خود فرماتے ہیں کہ میں اس دن ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کی ٹہنیاں دور کی تھیں۔ پہلے مدینے میں رہے پھر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بصرہ میں بھیج دیا تھا کہ وہاں لوگوں کو علم و فقہ سکھائیں۔ متعدد احادیث کے راوی ہیں۔ ۵۹ ہجری کو بصرہ میں وفات پائی اور سیّدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»