اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
237. باب معرفة الركعتين اللتين كان يصليهما النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد العصر
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر کے بعد کی دو رکعت کا بیان
حدیث نمبر: 478
478 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَكْعَتَانِ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُهُمَا سِرًّا وَلاَ عَلاَنِيَةً؛ رَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ دو رکعات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں فرمایا، پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے، صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 33 باب ما يصلي بعد العصر من الفوائت ونحوها»
وضاحت: عصر کے بعد دو رکعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھیں۔ امت کے لیے آپ نے عصر کے بعد نفل نمازوں سے منع فرمایا ہے۔ (راز)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے لیکن وفد عبدالقیس کی وجہ سے آپ کی ظہر کی بعد والی دو سنتیں رہ گئی تھیں تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد کا وقت درحقیقت نہی کا وقت ہے اور اس میں کوئی نماز پڑھنا منع ہے لیکن اگر کوئی سببی نماز ہو تو وہ پڑھی جا سکتی ہے جیسے کوئی قضا نماز، نماز جنازہ، تحیۃ المسجد وغیرہ۔ باقی ان دو رکعات پر ہمیشگی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکی روایت میں موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب ایک کام ایک دفعہ کر لیتے تو پھر اس پر ہمیشگی فرماتے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
238. باب استحباب ركعتين قبل صلاة المغرب
باب: نماز مغرب سے پہلے دو رکعت کے پڑھنے کا مستحب ہونا
حدیث نمبر: 479
479 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ الْمُؤذِّنُ إِذَا أَذَّنَ، قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذلِكَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ شَيْءٌ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ (عہد رسالت میں) جب مؤذن اذان دیتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ستونوں کی طرف لپکتے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ سے باہر تشریف لاتے تو لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے ملتے، یہ جماعت مغرب سے پہلے کی دو رکعات تھیں اور (مغرب میں) اذان اور تکبیر میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 14 باب كم بين الأذان والإقامة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
239. باب بين كل أذانين صلاة
باب: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے
حدیث نمبر: 480
480 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ كلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو اذانوں (اذان و تکبیر) کے بیچ میں نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے،“ پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی پڑھنا چاہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 16 باب بين كل أذانين صلاة لمن شاء»
وضاحت: اذان اور تکبیر میں کچھ نہ کچھ وقفہ ضرور ہونا چاہیے۔ کم از کم اتنا ضرور کہ کوئی شخص دو رکعت سنت پڑھ سکے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
240. باب صلاة الخوف
باب: نمازخوف کا بیان
حدیث نمبر: 481
481 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، فَجَاءَ أُولئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَامَ هؤلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَقَامَ هؤلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کے ساتھ نماز (خوف) پڑھی اور دوسری جماعت اس عرصہ میں دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی، پھر یہ جماعت اپنے دوسرے ساتھیوں کی جگہ (نماز پڑھ کر) چلی گئی تو دوسری جماعت آئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت کے ساتھ سلام پھیرا، آخر اس جماعت نے کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری کی اور پہلی جماعت نے بھی کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 481]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 31 باب غزوة ذات الرقاع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 482
482 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: يَقُومُ الإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ، وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ، وُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ يَذْهَبُ هؤلاَءِ إِلَى مَقَامِ أُولئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَهُ ثِنْتَانِ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (نمازِ خوف میں) امام قبلہ رو ہو کر کھڑا ہو گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گی، اس عرصہ میں مسلمانوں کی دوسری جماعت دشمن کے مقابلے پر کھڑی ہو گی، ان ہی کی طرف منہ کیے ہوئے امام اپنے ساتھ والی جماعت کو پہلے ایک رکعت نماز پڑھائے گا، (ایک رکعت پڑھنے کے بعد پھر) یہ جماعت کھڑی ہو جائے گی اور خود (امام کے بغیر) اسی جگہ ایک رکوع اور دو سجدے کر کے دشمن کے مقابلے پر جا کر کھڑی ہو جائے گی جہاں دوسری جماعت پہلے سے موجود تھی، اس کے بعد امام دوسری جماعت کو ایک رکعت نماز پڑھائے گا، اس طرح امام کی دو رکعت پوری ہو جائیں گی اور یہ دوسری جماعت ایک رکوع اور دو سجدے خود کرے گی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى: 31 باب غزوة ذات الرقاع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 483
483 صحيح حديث خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ شَهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَّى صَلاَةَ الْخَوْفِ؛ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ، وَطَائِفَةٌ وُجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى [ص:162] بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائمًا، وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وُجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمِ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلاَتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ
صالح بن خوات رحمہ اللہ نے ایک ایسے صحابی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں شریک تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف پڑھی، اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ پہلے ایک جماعت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی، اس وقت دوسری جماعت (مسلمانوں کی) دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت کو، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف میں کھڑی تھی، ایک رکعت (نمازِ خوف) پڑھائی اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے، اس جماعت نے اس عرصہ میں اپنی نماز پوری کر لی اور واپس آ کر دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد دوسری جماعت آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی دوسری رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی اور (رکوع و سجدہ کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ میں بیٹھے رہے، پھر ان لوگوں نے جب اپنی نماز (جو باقی رہ گئی تھی) پوری کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى: 31 باب غزوة ذات الرقاع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 484
484 صحيح حديث جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَةِ، فَاخْتَرَطَهُ، فَقَالَ: تَخَافُنِي قَالَ: لاَ قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ: اللهُ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ؛ وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع میں تھے، پھر ہم ایک ایسی جگہ آئے جہاں بہت گھنے سایہ کا درخت تھا، وہ درخت ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیا کہ آپ وہاں آرام فرمائیں، بعد میں مشرکین میں سے ایک شخص آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی، اس نے وہ تلوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کھینچ لی اور پوچھا: کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”نہیں“، اس پر اس نے پوچھا: آج میرے ہاتھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ“، پھر صحابہ نے اسے ڈانٹا دھمکایا اور نماز کی تکبیر کہی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک جماعت کو دو رکعت نمازِ خوف پڑھائی، جب وہ جماعت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے) ہٹ گئی تو آپ نے دوسری جماعت کو بھی دو رکعت نماز پڑھائی، اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت نماز ہوئی لیکن مقتدیوں کی صرف دو دو رکعت۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى: 31 باب غزوة ذات الرقاع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»