اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
233. باب بيان أن القرآن على سبعة أحرف وبيان معناه
باب: قرآن کا سات لہجوں میں اترنا اور اس کا مفہوم
حدیث نمبر: 468
468 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَة الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، وَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ هذَا يَقْرَأُ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا؛ فَقَالَ لِي: أَرْسِلْهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ: اقْرَأْ فَقَرَأَ، قَالَ: هكَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ لِي: اقْرَأْ فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان ایک دفعہ اس قراءت سے پڑھتے سنا جو اس کے خلاف تھی جو میں پڑھتا تھا، حالانکہ یہ قراءت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی، قریب تھا کہ میں انہیں پکڑ لیتا لیکن میں نے انہیں مہلت دی کہ وہ (نماز سے) فارغ ہو لیں، اس کے بعد میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو پکڑا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا، میں نے آپ سے کہا کہ میں نے انہیں اس قراءت کے خلاف پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے سکھائی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”پہلے انہیں چھوڑ دے۔“ پھر ان سے فرمایا: ”اچھا اب تم قراءت سناؤ۔“ انہوں نے اپنی وہی قراءت سنائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح نازل ہوئی تھی۔“ اس کے بعد مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم بھی پڑھو۔“ میں نے بھی پڑھ کر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی فرمایا: ”اسی طرح نازل ہوئی تھی۔ قرآن سات قراءتوں میں نازل ہوا ہے، تم کو جس میں آسانی ہو اسی طرح سے پڑھ لیا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 44 كتاب الخصومات: 4 باب الخصوم بعضهم في بعض»
وضاحت: سات قراء توں سے مراد حرکات کا اختلاف ہے کہ: (۱)معنی اور صورت میں تبدیلی نہ ہو۔ (۲) صرف معنی میں تبدیلی ہو۔ یا حروف کا اختلاف۔ (۳)معنی میں تبدیلی ہو صورت میں نہیں۔ (۴)یا صورت میں تبدیلی ہو معنی میں نہیں۔ (۵)یا دونوں میں تبدیلی ہو۔ یا (۶)تقدیم و تاخیر میں اختلاف ہو۔ (۷) یا زیادتی اور نقصان میں اختلاف واقع ہو۔ اس بارے میں مکمل بحث فتح الباری (کتاب فضائل القرآن: ۵۔ باب انزل القرآن علی سبعہ احرف) میں دیکھیں کیونکہ شارح نے اس بارے میں بڑی وضاحت اور تفصیل بیان کی ہے جو شائد مجموعی طور پر کسی اور کتاب میں موجود نہیں ہے۔ (مرتبؒ) راوي حدیث: امیرالمومنین خلیفہ راشد سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو حفص تھی۔ عام الفیل سے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے۔ بڑے دلیر اور حق و عدل کے پیکر مجسم تھے۔ آپ کے قبول اسلام سے مسلمان اعلانیہ بیت اللہ میں نماز پڑھنے لگے۔ آپ مرادِ رسول تھے۔ آپ کے زمانہ خلافت میں اسلامی سلطنت کو جو عروج حاصل ہوا، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ نے ایران کے آتش پرستوں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ باطل کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے۔ ۲۳ ہجری کو صبح کی نماز میں ابو لولو المجوسی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس ملعون کی یاد میں ایرانیوں نے باقاعدہ مزار بنایا۔ جس پر وہ جشن مناتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 469
469 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَى حَرْفٍ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل نے قرآن مجید مجھے (عرب کے) ایک ہی محاورے کے مطابق پڑھ کر سکھایا تھا لیکن میں اس میں برابر اضافہ کی خواہش کا اظہار کرتا رہا تاآنکہ عرب کے سات محاوروں پر اس کا نزول ہوا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 469]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 6 باب ذكر الملائكة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
234. باب ترتيل القراءة واجتناب الهذّ وهو الإفراط في السرعة وإباحة سورتين فأكثر في ركعة
باب: قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور ایک رکعت میں دو سے زیادہ سورتیں پڑھنے کا حکم
حدیث نمبر: 470
470 صحيح حديث ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ [ص:158] قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ في رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ، سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ
ابو وائل رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے رات ایک رکعت میں مفصل کی سورت پڑھی، آپ نے فرمایا کہ کیا اس طرح (جلدی جلدی) پڑھی جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں؟ میں ان ہم معنی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے، آپ نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا، ہر رکعت کے لیے دو دو سورتیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 106 باب الجمع بين السورتين في الركعة»
وضاحت: سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا مفصل سے محکم مراد ہیں یعنی سورۂ فتح سے آخر قرآن تک کی سورتیں مراد ہیں۔ انہیں مفصل کا نام اس لیے دیا گیا کیونکہ ان میں بسم اللہ وغیرہ کے ذریعے کثیر فاصلے موجود ہیں۔ نظائر سے مراد سورتیں ہیں جن میں پند و نصائح اور حکم وقصص جیسے معانی بیان ہیں۔ ان میں آیات کی تعداد میں موافقت ہے۔ ان میں الرحمن، اور النجم، اقتربت اور الحاقہ، الذاریات اور الطور، الواقعہ اور نٓ۔ سئل سائل اور النازعات ویل للمطففین اور عبس مدثر اور مزمل، ہل اتی اور لا اقسم، عم یتسالون اور المرسلات، اذا الشمس کورت اور الدخان شامل ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
235. باب ما يتعلق بالقراءات
باب: قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 471
471 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ﴿فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [سورة القمر: 17] پڑھا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 471]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 54 سورة اقتربت الساعة: 2 باب تجرى بأعيننا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 472
472 صحيح حديث أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ إِبْرَاهيمَ، قَالَ: قَدِمَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَطَلَبَهُمْ فَوَجَدَهُمْ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَقْرَأُ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُلُّنَا؛ قَالَ: فَأَيُّكُمْ أَحْفَظُ فَأَشَارُوا إِلَى عَلْقَمَةَ؛ قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَهُ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى قَالَ عَلْقَمَةُ: وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى؛ قَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هكَذَا، وَهؤلاَءِ يُرِيدُونِي عَلَى أَنْ أَقْرَأَ (وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى) ، وَاللهِ لاَ أُتَابِعُهُمْ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کچھ شاگرد سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں (شام) آئے، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے انہیں تلاش کیا اور پا لیا، پھر ان سے پوچھا کہ تم میں کون سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کے مطابق قرأت کر سکتا ہے؟ شاگردوں نے کہا کہ ہم سب کر سکتے ہیں۔ پھر پوچھا کسے ان کی قرأت زیادہ محفوظ ہے؟ سب نے سیدنا علقمہ رحمہ اللہ کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے دریافت کیا کہ انہیں سورہ ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [سورة الليل: 1] کی قرأت کرتے کس طرح سنا ہے؟ علقمہ رحمہ اللہ نے کہا کہ «وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَىٰ» ”نر اور مادہ۔“ (بغیر «مَا خَلَقَ» ”اس نے پیدا کیا“ کے)۔ انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح قرأت کرتے ہوئے سنا ہے: ” «وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَىٰ» “ لیکن یہ لوگ (یعنی شام والے) چاہتے ہیں کہ میں ﴿وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 3] پڑھوں، اللہ کی قسم! میں ان کی پیروی نہیں کروں گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 472]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 92 سورة والليل: 7 باب وما خلق الذكر والأنثى»
وضاحت: علماء نے کہا ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر جہاں اور کئی باتیں مخفی رہ گئیں ان میں یہ قراء ت بھی تھی۔ ان کو دوسری قراء ت کی خبر نہیں ہوئی یعنی وما خلق الذکر والانثی، کی جو اخیر قراء ت اور متواتر تھی۔ اور اسی لیے مصحف عثمانی میں قائم کی گئی۔ (وحیدی) راوي حدیث: سیّدنا عویمر بن عامر رضی اللہ عنہ پنی کنیت ابودرداء کے ساتھ مشہور ومعروف ہیں۔ بدر والے دن مسلمان ہوئے اور غزوۂ احد میں شامل ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جو پہاڑ پر موجود ہیں انہیں پیچھے بھگا دو تو انہوں نے اکیلے ہٹا دیا۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک صرف چار اشخاص نے قرآن جمع کیا تھا۔ جو ابودرداء، معاذ، زید بن ثابت اور ابو زید تھے۔ آپ ۸۹ احادیث کے راوی ہیں۔ ابن سعد نے بیان کیا ہے کہ آپ نے بتیس ہجری کو دمشق میں وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
236. باب الأوقات التي نهى عن الصلاة فيها
باب: نماز کے ممنوعہ اوقات
حدیث نمبر: 473
473 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میرے سامنے چند معتبر حضرات نے گواہی دی، جن میں سب سے زیادہ معتبر میرے نزدیک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”فجر کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 30 باب الصلاة بعد الفجر حتى ترتفع الشمس»
وضاحت: دن اور رات میں کچھ وقت ایسے ہیں جن میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ سورج نکلتے وقت ٹھیک دو پہر میں (جب سورج سر پر ہو) اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک اور فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک۔ ہاں اگر کوئی فرض نماز قضا ہوگئی ہو تو اس کا پڑھ لینا جائز ہے۔ اور فجر کی سنتیں بھی اگر نماز سے پہلے نہ پڑھی جا سکی ہوں تو ان کو بھی فجر کے فرضوں کے بعد پڑھا جا سکتا ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 474
474 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز سورج بلند ہونے تک نہ پڑھی جائے، اسی طرح عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 31 باب لا يتحرى الصلاة قبل غروب الشمس»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 475
475 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَحَرَّوْا بِصَلاَتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَهَا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز پڑھنے کے لیے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 30 باب الصلاة بعد الفجر حتى ترتفع الشمس»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 476
476 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَغِيبَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج کا اوپر کا کنارہ نکل آئے تو نماز نہ پڑھو جب تک وہ پوری طرح ظاہر نہ ہو جائے، اور جب غروب ہونے لگے تب بھی اس وقت تک کے لیے نماز چھوڑ دو جب تک بالکل غروب نہ ہو جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 11 باب صفة إبليس وجنوده»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
237. باب معرفة الركعتين اللتين كان يصليهما النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد العصر
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر کے بعد کی دو رکعت کا بیان
حدیث نمبر: 477
477 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ أَزْهَرَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالُوا: اقْرأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ، وَقُلْ لَهَا: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَضْرِبُ النَّاسَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْهُمَا قَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي؛ فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ، قُولِي لَهُ: تَقُولُ لَكَ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللهِ سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتأْخِرِي عَنْهُ فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَإِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَهُمَا هَاتَانِ
سیدنا کریب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہم نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہم سب کا سلام کہنا اور اس کے بعد عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کرنا، انہیں یہ بھی بتا دینا کہ ہمیں خبر ہوئی ہے کہ آپ یہ دو رکعات پڑھتی ہیں، حالانکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعات سے منع کیا ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان رکعات کے پڑھنے پر لوگوں کو مارا بھی تھا۔ کریب نے بیان کیا کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور پیغام پہنچایا، اس کا جواب آپ نے یہ دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کرو، چنانچہ میں ان حضرات کی خدمت میں واپس ہوا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو نقل کر دی، انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا انہی پیغامات کے ساتھ جن کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں بھیجا تھا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ”آپ عصر کے بعد نماز پڑھنے سے روکتے تھے“ لیکن ایک دن میں نے دیکھا کہ عصر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ دو رکعات پڑھ رہے ہیں، عصر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے (اور دو رکعت ادا کرنے لگے)، میرے پاس انصار کے قبیلہ بنو حرام کی چند عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اس لیے میں نے ایک باندی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور میں نے اس سے کہہ دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک طرف ہو کر یہ پوچھے کہ ام سلمہ کہتی ہے کہ ”یا رسول اللہ! آپ تو ان دو رکعات سے منع کرتے تھے حالانکہ میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ خود انہیں پڑھتے ہیں؟“ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ کریں تو تم پیچھے ہٹ جانا۔ باندی نے پھر اسی طرح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو (آپ نے ام سلمہ سے) فرمایا: ”اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کے متعلق پوچھا، بات یہ ہے کہ میرے پاس عبدالقیس کے کچھ لوگ آ گئے تھے اور ان کے ساتھ بات کرنے کی وجہ سے ظہر کے بعد دو رکعات نہیں پڑھ سکا تھا، سو یہ وہی دو رکعت ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 22 كتاب السهو: 8 باب إذا كُلِّم وهو يصلي فأشار بيده واستمع»
وضاحت: نمازی سے کوئی بات کرے اور وہ سن کر اشارے سے کچھ جواب دے دے تو نماز فاسد نہ ہوگی جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوابی اشارہ اس حدیث سے ثابت ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»