🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
226. باب نزول السكينة لقراءة القرآن
باب: قراء ت قرآن کی برکت سے تسکین کا اترنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 458
458 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ، وَفِي الدَّارِ الدَّابَّةُ، فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، فَسَلَّمَ، فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ غَشِيَتْهُ؛ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ اقْرَأْ فُلاَن فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی (سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ) نے (نماز میں) سورہ کہف کی تلاوت کی، اسی گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا، گھوڑے نے اچھلنا کودنا شروع کر دیا (سیدنا اسید رضی اللہ عنہ نے ادھر خیال نہ کیا، اس کو خدا کے سپرد کیا)، اس کے بعد جب انہوں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے ان کے سارے گھر پر سایہ کر رکھا ہے، اس واقعہ کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن پڑھتا ہی رہتا کیونکہ یہ سکینت ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی (یا یہ کہا) نازل ہو رہی تھی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 458]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
وضاحت: سکینہ کا مختار معنی یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء میں سے ایک چیز ہے جس میں اطمینان اور رحمت پائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ فرشتے بھی اترتے ہیں۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 459
459 صحيح حديث أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ، إِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ، فَسَكَتَ فَسَكَتَتْ، فَقَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَسَكَتَ وَسَكَتَتِ الْفَرسُ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا، فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِيبَهُ، فَلَمَّا اجْتَرَّهُ، رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ حتَّى مَا يَرَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى، وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبًا، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ، فَخَرَجَتْ حَتَّى لاَ أَرَاهَا قَالَ: وَتَدْرِي مَا ذَاكَ قَالَ: لاَ؛ قَالَ: تِلْكَ الْمَلاَئِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا، لاَ تَتَوَارَى مِنْهُمْ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات کے وقت میں ﴿سورة البقرة﴾ کی تلاوت کر رہا تھا اور میرا گھوڑا میرے پاس ہی بندھا ہوا تھا، اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو میں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا، پھر میں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا، اس مرتبہ بھی جب میں نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا، تیسری مرتبہ میں نے جب تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا، میرے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، میں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا، پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا، صبح کے وقت یہ واقعہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے، تلاوت بند نہ کرتے (تو بہتر تھا)۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا، میں نے سر اوپر اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا، پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے، پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی؟“ سیدنا اسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے، تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے، اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے، وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 459]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 15 باب نزول السكينة والملائكة عند قراءة القرآن»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو یحییٰ تھی۔ جاہلیت اور اسلام ہر دو ادوار میں شریف اور بزرگ شمار ہوتے تھے۔ اوس قبیلہ کے رؤسا میں سے تھے۔ عرب میں عقل مند اور صاحب رائے مشہور تھے۔ آپ کے اور سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ ہوا تھا۔ قرآن کے پڑھنے میں بڑے خوش الحان تھے۔ بیعت عقبہ ثانیہ میں حاضر تھے۔ احد میں شریک ہوئے، بڑے زخم کھائے، جب تمام لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو یہ ثابت قدم رہے۔ ۱۸ احادیث کے راوی ہیں۔ مدینہ میں ۲۰ ہجری کو وفات پائی اور بقیع غرقد میں دفن ہوئے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
227. باب فضيلة حافظ القرآن
باب: حافظ قرآن کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 460
460 صحيح حديث أَبِي مُوسى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ؛ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ، لاَ رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ؛ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطعْمُهَا مُرٌّ؛ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے، اور اس کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور مزہ میٹھا ہوتا ہے، اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو ریحانہ (پھول) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے، اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 460]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 30 باب ذكر الطعام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
228. باب فضل الماهر بالقرآن والذي يتتعتع فيه
باب: قرآن پڑھنے میں ماہر کا بیان اور اس کا بیان جو اٹک اٹک کر قرآن پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 461
461 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُو حَافِظٌ لَهُ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ، وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ، فَلَهُ أَجْرَانِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ بھی ہے، مکرم اور نیک لکھنے والے (فرشتوں) جیسی ہے اور جو شخص قرآن مجید بار بار پڑھتا ہے، پھر بھی وہ اس کے لیے دشوار ہے تو اسے دوگنا ثواب ملے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 461]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 80 سورة عبس»
وضاحت: بعض لوگوں کی زبان پر قرآن پاک کے الفاظ جلدی نہیں چڑھتے اور ان کو بار بار مشق کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان ہی کے لیے دو گنا ثواب ہے۔ کیونکہ وہ کافی مشقت کے بعد قراء ت قرآن میں کامیاب ہوتے ہیں۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
229. باب استحباب قراءة القرآن على أهل الفضل والحذاق فيه وإن كان القارئ أفضل من المقروء عليه
باب: مرتبہ میں افضل و برتر قاری کا اپنے سے کم رتبہ کے سامنے تلاوت قرآن کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 462
462 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُبَيٍّ: إِنَّ الله أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ (لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا) قَالَ: وَسَمَّانِي قَالَ: نَعمْ فَبَكَى
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة البينة: 1] سناؤں۔“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس پر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرطِ مسرت سے رونے لگے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 462]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 16 باب مناقب أبي بن كعب رضى الله عنه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
230. باب فضل استماع القرآن وطلب القراءة من حافظه للاستماع والبكاء عند القراءة والتدبر
باب: قرآن سننے، حافظ سے اس کی فرمائش کرنے اور بوقت قرات رونے اور غور کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 463
463 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ قَالَ: قُلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي قَالَ: فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتُ (فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هؤلاَءِ شَهِيدًا) قَالَ لِي: كُفَّ أَوْ أَمْسِكْ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے سامنے کیا تلاوت کروں جبکہ آپ پر تو قرآن مجید نازل ہی ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ کسی اور سے سنوں۔“ راوی نے بیان کیا کہ میں نے سورہ نساء پڑھی اور جب میں اس آیت ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] پر پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ۔“ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «كُفَّ» فرمایا یا «أَمْسِكْ»، راوی کو شک ہے) میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ( «كُفَّ» اور «أَمْسِكْ» ہر دو کے ایک ہی معنی ہیں یعنی ”رک جاؤ“) آیت میں محشر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت کا ذکر ہے جب آپ اپنی امت پر گواہی کے لیے پیش ہوں گے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 463]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 35 باب البكاء عند قراءة القرآن»
وضاحت: آیت مبارکہ میں میدان محشر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت کا ذکر ہے جب آپ اپنی امت پر گواہی کے لیے پیش ہوں گے۔ آیت کا ترجمہ اس طرح ہے کہ ”پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواہ ہم لائیں گے اور تجھے (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔“ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 464
464 صحيح حديث ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنَّا بِحِمْصَ، فَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا هكَذَا أُنْزِلَتْ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَحْسَنْتَ وَوَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ، فَقَالَ: أَتَجْمَعُ أَنْ تُكَذِّبَ بِكِتَابِ اللهِ وَتَشْرَبَ الْخَمْرَ فَضَرَبَهُ الْحَدَّ
علقمہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہم حمص میں تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ یوسف پڑھی تو ایک شخص بولا کہ اس طرح نہیں نازل ہوئی تھی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تھی اور آپ نے میری قرأت کی تحسین فرمائی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس معترض کے منہ سے شراب کی بدبو آ رہی ہے تو فرمایا کہ اللہ کی کتاب کے متعلق جھوٹا بیان اور شراب پینے جیسے گناہ ایک ساتھ کرتا ہے؟ پھر انہوں نے اس پر حد جاری کروائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 8 باب القرّاء من أصحاب النبي صلي الله عليه وسلم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
231. باب فضل الفاتحة وخواتيم سورة البقرة والحث على قراءة الآيتين من آخر البقرة
باب: سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 465
465 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ
سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ایسی ہیں کہ جو شخص رات میں انہیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 465]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى 12 باب حدثنى خليفة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
232. باب فضل من يقوم بالقرآن ويعلمه، وفضل من تعلم حكمة من فقه أو غيره فعمل بها وعلمها
باب: قرآن پر عمل کرنے اور اس کے سکھانے والے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 466
466 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْقُرْانَ فَهُوَ يَتْلوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالاً فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشک کے قابل تو دو ہی آدمی ہیں: ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کی تلاوت دن رات کرتا رہتا ہے، اور دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے دن رات خرچ کرتا رہا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 466]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 97 كتاب التوحيد: 45 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم رجل آتاه الله القرآن فهو يقوم به»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 467
467 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالاً فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”حسد (رشک) صرف دو باتوں میں جائز ہے۔ ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو، اور وہ اس دولت کو راہِ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت (کی دولت) سے نوازا ہو۔ وہ اس کے ذریعہ فیصلے کرتا ہو، اور (لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 467]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 15 باب الاغتباط في العلم والحكمة»
وضاحت: شارحین حدیث لکھتے ہیں کہ حدیث میں حسد کے لفظ سے غبطہ یعنی رشک کرنا مراد ہے۔ کیونکہ حسد بہرحال مذموم ہے جس کی شرع نے کافی مذمت کی ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں