اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
287. باب الترغيب في الصدقة
باب: صدقہ دینے کی رغبت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 577
577 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، اسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ؛ فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا، يَأْتِي عَلَيَّ لَيْلَةٌ أَوْ ثَلاَثٌ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلاَّ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلاَّ أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللهِ هكَذَا وَهكَذَا وَهكَذَا وَأَرَانَا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الأَكْثَرُونَ هُمُ الأَقَلُّونَ إِلاَّ مَنْ قَالَ هكَذَا وَهكَذَا، ثُمَّ قَالَ لِي: مَكَانَكَ، لاَ تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّى أَرْجِعَ فَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَذْهَبَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ تَبْرَحْ، فَمَكُثْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لَكَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ، فَقُمْتُ؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ، أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لاَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے وقت مدینہ منورہ کی کالی پتھروں والی زمین پر چل رہا تھا کہ احد پہاڑ دکھائی دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! مجھے پسند نہیں کہ اگر احد پہاڑ کے برابر بھی میرے پاس سونا ہو اور مجھ پر ایک رات بھی اس طرح گزر جائے یا تین رات کہ اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس باقی بچے، سوائے اس کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے محفوظ رکھ لوں، میں اس سارے سونے کو اللہ کی مخلوق میں اس اس طرح تقسیم کر دوں گا“، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کی کیفیت ہمیں اپنے ہاتھ سے لپ بھر کر دکھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”میں حاضر ہوں اور آپ کی بندگی و خدمت کے لیے تیار ہوں اے اللہ کے رسول!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ جمع کرنے والے ہی (ثواب کی حیثیت سے) کم حاصل کرنے والے ہوں گے، سوائے اس کے جو اللہ کے بندوں پر مال اس اس طرح یعنی کثرت کے ساتھ خرچ کرے“، پھر فرمایا: ”یہیں ٹھہرے رہو ابوذر! یہاں سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک میں واپس نہ آ جاؤں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے، اس کے بعد میں نے آواز سنی اور مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی پریشانی نہ پیش آگئی ہو، اس لیے میں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے) جانا چاہا لیکن فوراً ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آیا کہ ”یہاں سے نہ ہٹنا“، چنانچہ میں وہیں رک گیا، (جب آپ تشریف لائے تو) میں نے عرض کی: میں نے آواز سنی تھی اور مجھے خطرہ ہو گیا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی پریشانی نہ پیش آ جائے، پھر مجھے آپ کا ارشاد یاد آیا اس لیے میں یہیں ٹھہر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے، میرے پاس آئے تھے اور مجھے خبر دی ہے کہ میری امت کا جو شخص بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو“۔) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 577]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 3 باب من أجاب بلبيك وسعديك»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 578
578 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ، وَلَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ؛ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ، فَالْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: مَنْ هذَا قُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ، جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَه قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلاَّ مَنْ أَعْطَاهُ اللهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً؛ فَقَالَ لِي: اجْلِسْ ههُنَا قَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ، فَقَالَ لِي: اجْلِسْ ههُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لاَ أَرَاهُ، فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللُّبْثَ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ، وَهُوَ يَقُولُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ، مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، قَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ: نَعَمْ قَالَ، قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ: نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک روز میں رات کے وقت باہر نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے میں سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ اس وقت کوئی رہے، اس لیے میں چاند کے سائے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے تو مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: ابوذر! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! یہاں آؤ۔“ بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ (دنیا میں) زیادہ مال و دولت جمع کیے ہوئے ہیں، قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور انہوں نے اسے دائیں، بائیں، آگے، پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو۔“ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے) بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں بیٹھ جاؤ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور فرمایا: ”یہاں اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک میں تمہارے پاس لوٹ کر آؤں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رہے اور دیر تک وہیں رہے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے تھے: ”چاہے چوری کی ہو، چاہے زنا کیا ہو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے، اس پتھریلی زمین کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے؟ میں نے تو کسی دوسرے کو آپ سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے، پتھریلی زمین (حرہ) کے کنارے وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ اپنی امت کو خوش خبری سنا دو کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا، میں نے عرض کیا: اے جبریل! خواہ اس نے چوری کی ہو اور زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے پھر عرض کیا: خواہ اس نے چوری کی ہو، زنا کیا ہو؟ جبریل نے کہا: ہاں، خواہ اس نے شراب ہی پی ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 578]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 13 باب المكثرون هم المقلون»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
288. باب في الكنازين للأَموال والتغليظ عليهم
باب: مال جمع کرنے والوں پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 579
579 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى مَلإٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ خَشِنُ الشَّعَرِ وَالثِّيَابِ وَالْهَيْئَةِ، حَتَّى قَامَ عَلَيْهِمْ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، ثُمَّ يُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفِهِ، وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيِهِ يَتَزَلْزَلُ ثُمَّ وَلَّى فَجَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ وَتَبِعْتُهُ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، وَأَنَا لاَ أَدْرِي مَنْ هُوَ؛ فَقُلْتُ لَهُ: لاَ أُرَى الْقَوْمَ إِلاَّ قَدْ كَرِهُوا الَّذِي قُلْتَ، قَالَ: إِنَّهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئًا، قَالَ لِي خَلِيلِي قَالَ: قُلْتُ مَنْ خَلِيلُكَ قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتُبْصِرُ أُحُدًا قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَى الشَّمْسِ مَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ، وَأَنَا أُرَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يرْسِلُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ إِلاَّ ثَلاَثَةَ دَنَانِيرَ وَإِنَّ هؤُلاَءِ لاَ يَعْقِلُونَ، إِنَّمَا يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا، لاَ وَاللهِ لاَ أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا، وَلاَ أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْقَى اللهَ
سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں سخت بال، موٹے کپڑے اور موٹی جھوٹی حالت میں ایک شخص آیا اور کھڑے ہو کر سلام کیا اور کہا کہ: ”خزانہ جمع کرنے والوں کو اس پتھر کی بشارت ہو جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور ان کی چھاتی کی بھٹنی پر رکھ دیا جائے گا جو کندھے کی طرف سے پار ہو جائے گا اور کندھے کی پتلی ہڈی پر رکھا جائے گا تو سینے کی طرف پار ہو جائے گا، اس طرح وہ پتھر برابر ڈھلکتا رہے گا“، یہ کہہ کر وہ صاحب چلے گئے اور ایک ستون کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ چلا اور ان کے قریب بیٹھ گیا، اب تک مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ صاحب کون ہیں، میں نے ان سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بات قوم نے پسند نہیں کی، انہوں نے کہا: یہ سب تو بے وقوف ہیں، مجھ سے میرے خلیل نے کہا تھا (میں نے پوچھا کہ آپ کے خلیل کون ہیں؟ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ”اے ابوذر! کیا احد پہاڑ تو دیکھتا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ اس وقت میں نے سورج کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ کتنا دن ابھی باقی ہے کیونکہ مجھے (آپ کی بات سے) یہ خیال گزرا کہ آپ اپنے کسی کام کے لیے مجھے بھیجیں گے، میں نے جواب دیا کہ جی ہاں (احد پہاڑ میں نے دیکھا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو میں اس کے سوا پسند نہیں کرتا کہ صرف تین دینار بچا کر باقی تمام کا تمام (اللہ کے راستے میں) دے ڈالوں“۔ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا کہ) ان لوگوں کو کچھ معلوم نہیں، یہ دنیا جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں، ہرگز نہیں، خدا کی قسم! نہ میں ان کی دنیا ان سے مانگتا ہوں اور نہ دین کا کوئی مسئلہ ان سے پوچھتا ہوں تاآنکہ میں اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 579]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 4 باب ما أدى زكاته فليس بكنز»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
289. باب الحث على النفقة وتبشير المنفق بالخلف
باب: سخاوت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 580
580 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ وَقَالَ: يَدُ اللهِ مَلأَى، لاَ تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّموَاتِ وَالأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْمِيزَان يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اے میرے بندو) (میری راہ میں) خرچ کرو تو میں بھی تم پر خرچ کروں گا۔“ اور فرمایا: ”اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات اور دن کے مسلسل خرچ سے بھی اس میں کمی نہیں ہوتی۔“ اور فرمایا: ”تم نے دیکھا نہیں جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے مسلسل خرچ کیے جا رہا ہے، لیکن اس کے ہاتھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی، اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں میزانِ عدل ہے جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 580]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 11 سورة هود: 2 باب قوله وكان عرشه على الماء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
290. باب الابتداء في النفقة بالنفس ثم أهله ثم القرابة
باب: پہلے اپنے اوپر، پھر گھر والوں پر، پھر اقرباء پر خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 581
581 صحيح حديث جَابِرٍ، قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ غُلاَمًا عنْ دُبُرٍ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُ، فَبَاعَهُ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِثَمَنِهِ إِلَيْهِ
«مُدَبَّر» سے مراد یہ ہے کہ غلام کی آزادی اپنی موت سے مشروط کر لیتا ہے۔ چونکہ غلام کے علاوہ اس کا مال نہیں تھا، اس لیے اسے بیچ دیا اور پھر دیکھا کہ اس نے تمام مال خرچ کر دیا ہے جس کے سبب ہلاکت میں واقع ہو رہا تھا، اس لیے اس کے قول کو باطل قرار دیا اور اسے توڑ دیا۔ (مرتب رحمہ اللہ) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 581]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 32 باب بيع الإمام على الناس أموالهم وضياعهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
291. باب فضل النفقة والصدقة على الأقربين والزوج والأولاد والوالدين ولو كانوا مشركين
باب: والدین اولاد، اہل خانہ اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں
حدیث نمبر: 582
582 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ؛ قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هذِهِ الآيَة (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ للهِ؛ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ؛ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَخْ ذلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا، یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] یعنی ”تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو“ یہ سن کر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے، اس لئے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لئے خیرات کرتا ہوں، اس کی نیکی اور اس کے ذخیرۂ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں، اللہ کے حکم سے جہاں آپ مناسب سمجھیں اسے استعمال کیجئے، راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوب یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے، یہ تو بہت ہی نفع بخش ہے اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے ڈالو“، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا، چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں کو دے دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 582]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة على الأقارب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 583
583 صحيح حديث مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً لَهَا فَقَالَ لَهَا: وَلَوْ وَصَلْتِ بَعْضَ أَخْوالِكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر وہ تمہارے ننھیال والوں کو دی جاتی تو تمہیں زیادہ ثواب ملتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 583]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 16 باب بمن يُبدأ بالهدية»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 584
584 صحيح حديث زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ قَالَتْ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَكَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَى عَبْدِ اللهِ، وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا، فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللهِ، سَلْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَيْتَامِي فِي حَجْرِي مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ: سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى الْبَابِ، حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي؛ فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلاَلٌ، فَقُلْنَا: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي وَقُلْنَا: لاَ تُخْبِرْ بِنَا فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَنْ هُمَا قَالَ: زَيْنَبُ قَالَ: أَيُّ الزَّيَانِبِ قَالَ: امْرَأَة عَبْدِ اللهِ، قَالَ: نَعَمْ لَهَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ وأَجْرُ الصَّدَقَةِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”صدقہ کرو خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو۔“ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنا صدقہ اپنے شوہر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور چند یتیموں پر بھی جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں، اس لیے انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ کیا وہ صدقہ بھی مجھ سے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں جو میری سپردگی میں ہیں؟ لیکن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو، آخر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں (جو سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا تھیں)۔ پھر ہمارے سامنے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گزرے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیجیے کہ کیا وہ صدقہ مجھ سے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنے زیر تحویل چند یتیم بچوں پر خرچ کر دوں؟ ہم نے بلال رضی اللہ عنہ سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا، وہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دو عورتیں مسئلہ دریافت کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں کون ہیں؟“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ زینب نام کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی زینب؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! بے شک درست ہے اور انہیں دو گنا ثواب ملے گا، ایک قرابتداری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 584]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 48 باب الزكاة على الزوج والأيتام في الحجر»
وضاحت: ٭سیدہ زینب بنت معاویہ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے خاوند اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت لی ہے۔ متعدد احادیث کی راویہ ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 585
585 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هكَذَا وَهكَذَا، إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ قَالَ: نَعَمْ لَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا مجھے ابو سلمہ (ان کے پہلے شوہر) کے لڑکوں کے بارے میں ثواب ملے گا اگر میں ان پر خرچ کروں؟ میں انہیں اس محتاجی میں دیکھ نہیں سکتی، وہ میرے بیٹے ہی تو ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہیں ہر اس چیز کا ثواب ملے گا جو تم ان پر خرچ کرو گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 585]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 69 كتاب النفقات: 14 باب وعلى الوارث مثل ذلك:»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 586
586 صحيح حديث أَبِي مِسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ، وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا، كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں پر اللہ کا حکم ادا کرنے کی نیت سے خرچ کرے تو اس میں بھی اس کو صدقے کا ثواب ملتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 586]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 69 كتاب النفقات: 1 باب في فضل النفقة على الأهل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»