اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
297. باب الحث على الصدقة ولو بشق تمرة أو كلمة طيبة وأنها حجاب من النار
باب: ایک کھجور یا کام کی بات بھی صدقہ اور دوزخ سے آڑ ہے
حدیث نمبر: 597
597 صحيح حديث عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَسَيُكَلِّمُهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَيْسَ بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ فَلاَ يَرَى شَيْئًا قدَّامَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ وَعَنْهُ أَيْضًا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقُوا النَّارَ، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ؛ ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ، ثَلاَثًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ہر ہر فرد سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس طرح کلام کرے گا کہ اللہ کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا، پھر وہ دیکھے گا تو اس کے آگے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا اور اس کے سامنے آگ ہو گی، پس تم میں سے جو شخص بھی چاہے کہ وہ آگ سے بچے تو وہ راہِ خدا میں خیر خیرات کرتا رہے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ہی ممکن ہو۔“ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے بچو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ پھیر لیا، پھر فرمایا: ”جہنم سے بچو۔“ اور پھر اس کے بعد چہرہ مبارک پھیر لیا، پھر فرمایا: ”جہنم سے بچو۔“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، ہم نے اس سے یہ خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہنم کو دیکھ رہے ہیں، پھر فرمایا: ”جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے ہو سکے اور جسے یہ بھی نہ ملے تو اسے (لوگوں میں) کسی اچھی بات کہنے کے ذریعے سے ہی (جہنم سے) بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 49 باب من نوقش الحساب عذِّب»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو وھب اور ابو طریف تھی۔ آپ کے والد حاتم کی سخاوت آج بھی ضرب المثل ہے۔ ساتویں سال کے وسط میں وفد کی شکل میں تشریف لائے تھے۔ پہلے راسخ العقیدہ نصرانی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا احترام اور عزت کی۔ جب لوگ مرتد ہوئے تو یہ اسلام پر ثابت قدم رہے تھے۔ اور اپنی قوم کی زکوٰۃ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پہنچائی۔ عراق کی فتح میں شامل تھے پھر کوفہ میں رہے اور جنگ صفین میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ۶۶ہجری میں ۱۲۰سال کی عمر میں وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
298. باب الحمل أجرة يتصدق بها والنهي الشديد عن تنقيص المتصدق بقليل
باب: مزدور کو بھی صدقہ کرنا چاہیے اور بہت تھوڑا صدقہ کرنے والے (مخلص) کی تنقیص کرنے کی شدید مذمت
حدیث نمبر: 598
598 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ كُنَّا نَتَحَامَلُ؛ فَجَاءَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِأَكْثَرَ مِنْهُ؛ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: إِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هذَا، وَمَا فَعَلَ هذَا الآخَرُ إِلاَّ رِئَاءً فَنَزَلَتْ (الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ) الآيَةَ
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں خیرات کرنے کا حکم ہوا تو ہم مزدوری پر بوجھ اٹھاتے (اور اس کی مزدوری صدقہ میں دے دیتے) چنانچہ ابو عقیل رضی اللہ عنہ سے مزدوری سے آدھا صاع خیرات لے کر آئے اور ایک دوسرے صحابی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اس سے زیادہ لائے اس پر منافقوں نے کہا کہ اللہ کو اس (یعنی ابو عقیل) کے صدقہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اس دوسرے (عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے تو محض دکھاوے کے لیے اتنا بہت سا صدقہ دیا ہے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی کہ ﴿یہ ایسے لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں نفلی صدقہ دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور خصوصاً ان لوگوں پر جنہیں بجز ان کی محنت مزدوری کے کچھ نہیں ملتا یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اللہ بھی ان (مذاق اڑانے والوں) سے تمسخر کرے گا، ان کے لیے دردناک عذاب ہے﴾ [سورة التوبة: 79] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 9 سورة التوبة: 11 باب قوله (الذين يلمزون المطوعين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
299. باب فضل المنيحة
باب: دودھ والا جانور مفت دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 599
599 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نِعْمَ الْمَنِيحَةُ اللِّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً، وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ، تَغْدُو بِإِنَاءٍ وَتَرُوحُ بِإِنَاءٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی عمدہ ہے ہدیہ اس دودھ دینے والی اونٹنی کا جس نے ابھی حال ہی میں بچہ جنا ہو اور دودھ دینے والی بکری کا جو صبح و شام اپنے دودھ سے برتن بھر دیتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 35 باب فضل المنيحة»
وضاحت: منیحہ عربوں کی اصطلاح میں دودھ دینے والی اونٹنی یا کسی بھی ایسے جانور کو کہتے تھے جو کسی دوسرے کو کوئی تحفہ کے طور پر دودھ پینے کے واسطے دے دے۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
300. باب مثل المنفق والبخيل
باب: سخی اور بخیل کی مثال
حدیث نمبر: 600
600 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إلى ثُديِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا؛ فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كَلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّى تَغْشَى أَنَامِلَهُ، وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ؛ وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ، وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ هكَذَا فِي جَيْبِهِ، فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلاَ تَتَوَسَّعُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان کی کہ: ”دو آدمیوں جیسی ہے جو لوہے کے جبے (ہاتھ، سینہ اور حلق تک) پہنے ہوئے ہیں۔ صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کے جبے میں کشادگی ہو جاتی ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتا ہے اور قدم کے نشانات کو ڈھک لیتا ہے، اور بخیل جب بھی کبھی صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اسے اور چمٹ جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے“۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اپنی مبارک انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر کے بتا رہے تھے کہ: ”تم دیکھو گے کہ وہ اس میں وسعت پیدا کرنا چاہے گا لیکن وسعت پیدا نہیں ہو گی“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 9 باب جيب القميص من عند الصدر وغيره»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
301. باب ثبوت أجر المتصدق وإِن وقعت الصدقة في يد غير أهلها
باب: صدقہ دینے والے کو ثواب ہے اگرچہ صدقہ کسی غیر مستحق کو پہنچے
حدیث نمبر: 601
601 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ؛ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ، تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ؛ فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدَيْ زَانِيَةٍ؛ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ، تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ؛ فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ؛ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ؛ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدَيْ غَنِيٍّ؛ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ، تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ، وَعَلَى زَانِيَةٍ، وَعَلَى غَنِيٍّ فَأُتِيَ، فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ عَلَى سَارِقٍ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعِفَّ عَنْ سَرِقَتِهِ، وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ عَنْ زِنَاهَا، وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے (بنی اسرائیل میں سے) کہا کہ مجھے ضرور صدقہ (آج رات) دینا ہے، چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور (ناواقفی سے) ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا، صبح ہوئی تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ آج رات کسی نے چور کو صدقہ دے دیا، اس شخص نے کہا: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے“، (آج رات) میں پھر ضرور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ دوبارہ صدقہ لے کر نکلا اور اس مرتبہ ایک فاحشہ کے ہاتھ میں دے آیا، جب صبح ہوئی تو پھر لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج رات کسی نے فاحشہ عورت کو صدقہ دے دیا، اس شخص نے کہا: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے“، میں زانیہ کو اپنا صدقہ دے آیا، اچھا آج رات پھر ضرور صدقہ نکالوں گا، چنانچہ اپنا صدقہ لیے ہوئے وہ پھر نکلا اور اس مرتبہ ایک مالدار کے ہاتھ پر رکھ دیا، صبح ہوئی تو لوگوں کی زبان پر ذکر تھا کہ ایک مالدار کو کسی نے صدقہ دے دیا ہے، اس شخص نے کہا: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے ہے“، میں اپنا صدقہ لاعلمی سے چور، فاحشہ اور مالدار کو دے آیا۔ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) بتایا گیا کہ جہاں تک چور کے ہاتھ میں صدقہ چلے جانے کا سوال ہے تو اس میں اس کا امکان ہے کہ وہ چوری سے رک جائے، اسی طرح فاحشہ کو صدقہ کا مال مل جانے پر اس کا امکان ہے کہ وہ زنا سے رک جائے اور مالدار کے ہاتھ میں پڑ جانے کا یہ فائدہ ہے کہ اسے عبرت ہو اور پھر جو اللہ عزوجل نے اسے دیا ہے وہ خرچ کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 601]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 14 باب إذا تصدق على غني وهو لا يعلم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
302. باب أجر الخازن الأمين والمرأة إِذا تصدقت من بيت زوجها غير مفسدة بإذنه الصريح أو العرفي
باب: خازن، امانت دار اور عورت کو صدقہ کا ثواب ملنا جب وہ اپنے شوہر کی اجازت سے خواہ صاف اجازت ہو یا دستور کے مطابق اجازت ہو صدقہ دے
حدیث نمبر: 602
602 صحيح حديث أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الأَمِينُ الَّذِي يُنْفِذُ، وَرُبَّمَا قَالَ: يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلاً مُوَفَّرًا، طَيِّبًا بِهِ نَفْسُهُ، فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خازن مسلمان امانت دار جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے، اور بعض دفعہ فرمایا: وہ چیز پوری طرح دیتا ہے جس کا اسے سرمایہ کے مالک کی طرف سے حکم دیا گیا، اور اس کا دل بھی اس سے خوش ہے، اور اسی کو دیتا ہے جسے دینے کے لیے مالک نے کہا تھا، تو وہ دینے والا بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 25 باب أجر الخادم إذا تصدق بأمر صاحبه غير مفسد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 603
603 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذلِكَ، لاَ يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عورت اپنے شوہر کے مال سے کچھ خرچ کرے اور اس کی نیت شوہر کی پونجی برباد کرنے کی نہ ہو تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور شوہر کو بھی اس کا ثواب ملے گا کہ اسی نے کمایا ہے اور خزانچی کا بھی یہی حکم ہے، ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 17 باب من أمر خادمه بالصدقة ولم يناول بنفسه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 604
604 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَصُومُ الْمَرْأَةُ، وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ، إِلاَّ بإِذْنِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر شوہر گھر پر موجود ہے تو کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 84 باب صوم المرأة بإذن زوجها تطوعًا»
وضاحت: نفلی روزہ نفل عبادت ہے اور خاوند کی اطاعت عورت کے لیے فرض ہے۔ اس لیے نفلی عبادت سے پہلے فرض کی ادائیگی ضروری ہے۔ شوہر دن میں اگر اپنی بیوی سے ملاپ چاہے تو عورت کو نفلی روزہ ختم کرنا ہو گا۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 605
605 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهُ نِصْف أَجْرِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کے حکم کے بغیر (دستور کے مطابق) اللہ کے راستے میں خرچ کر دے تو اسے بھی آدھا ثواب ملتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 605]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 69 كتاب النفقات: 5 باب نفقة المرأة إذا غاب عنها زوجها نفقة الولد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
303. باب من جمع الصدقة وأعمال البر
باب: صدقہ کے ساتھ ساتھ دیگر نیک اعمال کرنا
حدیث نمبر: 606
606 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللهِ هذَا خَيْرٌ؛ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِفَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رضي الله عنه: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، يَا رَسُولَ اللهِ مَا عَلَي مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ: نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں دو چیزیں خرچ کرے گا اسے فرشتے جنت کے دروازوں سے بلائیں گے کہ «يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ» ”اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے“، پھر جو شخص نمازی ہوگا اسے نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا، جو مجاہد ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو روزہ دار ہوگا اسے «بَابُ الرَّيَّانِ» ”بابِ ریان“ سے بلایا جائے گا اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والا ہوگا اسے زکوٰۃ کے دروازہ سے بلایا جائے گا“، اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ! جو لوگ ان دروازوں (میں سے کسی ایک دروازہ) سے بلائے جائیں گے مجھے ان سے بحث نہیں، آپ یہ فرمائیں کہ کیا کوئی ایسا شخص بھی ہوگا جسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہی میں سے ہوں گے“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 606]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 4 باب الريان للصائمين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»