🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
291. باب فضل النفقة والصدقة على الأقربين والزوج والأولاد والوالدين ولو كانوا مشركين
باب: والدین اولاد، اہل خانہ اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 587
587 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ، وَهِيَ رَاغِبَةٌ: أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ: نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میری والدہ (قتیلہ بنت عبدالعزی) جو مشرکہ تھیں، میرے یہاں آئیں، میں نے (ان کے متعلق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، میں نے یہ بھی کہا کہ وہ (مجھ سے ملاقات کی) بہت خواہش مند ہیں، تو کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 587]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الأذان: 29 باب الهدية للمشركين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
292. باب وصول ثواب الصدقة عن الميت إِليه
باب: میت کے ایصال ثواب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 588
588 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں، اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ملے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 588]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 95 باب موت الفجأة البغتة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
293. باب بيان أن اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف
باب: ہر نیکی صدقہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 589
589 صحيح حديث أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ قَال: فَيَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ: فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ: فَيَأْمُرُ بِالْخَيْرِ أَوْ قَالَ: بِالْمَعْرُوفِ قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ: فَيُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اگر کوئی چیز کسی کو (صدقہ کے لیے) میسر نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو یا کہا کہ نہ کر سکے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کسی حاجت مند پریشان حال کی مدد کرے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے؟ فرمایا کہ: ”پھر بھلائی کی طرف لوگوں کو رغبت دلائے یا کہا «بِالْمَعْرُوفِ» ”بھلائی“ کا کام کرے۔“ عرض کیا: اور اگر یہ بھی نہ کر سکے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر برائی سے رکا رہے کہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 589]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 33 باب كل معروف صدقة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 590
590 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ سُلاَمَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ؛ يَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَو يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلاَةِ صَدَقَةٌ، وَيُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے اس طرح کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 128 باب من أخذ بالركاب ونحوه»
وضاحت: مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان پر ہر جوڑ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ کرنا واجب ہے اس کا شکر کرنے کے لیے کہ اس نے اس کی ہڈیوں کے جوڑ بنائے جن سے وہ کچھ پکڑ اور کچھ لے، دے سکتا ہے۔ جوڑوں کے ذکر کو خاص کیا ہے کیونکہ تصرف اور حرکات و سکنات میں جوڑوں کا خاص دخل اور عمدہ کار کردگی ہے۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
294. باب في المنفق والممسك
باب: خرچ کرنے والے اور نہ کرنے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
591 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَاد فِيهِ إِلاَّ مَلَكَانَ يَنْزِلاَنِ، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا؛ وَيَقُولُ الآخَرُ: اللهُمَّ أعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں، ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے: «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا» ”اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے“ اور دوسرا کہتا ہے: «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا» ”اے اللہ! بخیل کے مال کو تلف کر دے۔““ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 27 باب قول الله تعالى (فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
295. باب الترغيب في الصدقة قبل أن لا يوجد من يقبلها
باب: صدقہ کرنے کی ترغیب دلانا قبل اس کے کہ کوئی صدقہ لینے والا باقی نہ رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
592 صحيح حديث حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ يَأتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلاَ يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، يَقُولُ الرَّجُلُ لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلاَ حَاجَةَ لِي بِهَا
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا: ”صدقہ کرو، ایک ایسا زمانہ بھی تم پر آنے والا ہے جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا اور کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں پائے گا۔ (جس کے پاس صدقہ لے کر جائے گا) وہ یہ جواب دے گا کہ اگر تم کل اسے لائے ہوتے تو میں قبول کر لیتا، آج تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 9 باب الصدقة قبل الرد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 593
593 صحيح حديث أَبِي مُوسَى رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ ثُمَّ لاَ يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ، وَيُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً يَلُذْنَ بِهِ، مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آ جائے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی کیونکہ مردوں کی کمی ہو جائے گی اور عورتوں کی زیادتی ہو گی۔“ (قیامت کے قریب یا تو عورتوں کی پیدائش بڑھ جائے گی مرد کم پیدا ہوں گے یا لڑائیوں کی کثرت سے مردوں کی قلت ہو جائے گی اور ایسا کئی دفعہ ہو چکا ہے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 9 باب الصدقة قبل الرد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
594 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُم الْمَالُ، فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ فَيَقُولَ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ: لاَ أَرَبَ لِي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت آنے سے پہلے مال و دولت کی اس قدر کثرت ہو جائے گی اور لوگ اس قدر مالدار ہو جائیں گے کہ اس وقت صاحبِ مال کو اس کی فکر ہو گی کہ اس کی زکوۃ کون قبول کرے اور اگر کسی کو دینا بھی چاہے گا تو اس کو یہ جواب ملے گا کہ مجھے اس کی حاجت نہیں ہے“ (قیامت کے قریب جب زمین اپنے خزانے اگل دے گی تب یہ حالت پیش آئے گی)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 9 باب الصدقة قبل الرد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
296. باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها
باب: حلال کمائی سے صدقہ قبول ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 595
595 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلاَ يَصْعَدُ إِلَى اللهِ إِلاَّ الطَّيِّبُ، فَإِنَّ اللهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور برابر بھی خیرات کی اور اللہ تک حلال کمائی ہی کی خیرات پہنچتی ہے تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کر لیتا ہے اور خیرات کرنے والے کے لیے اسے اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جیسے کوئی تم میں سے اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ برابر ہو جاتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 97 كتاب التوحيد: 23 باب قول الله تعالى (تعرج الملائكة والروح إليه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
297. باب الحث على الصدقة ولو بشق تمرة أو كلمة طيبة وأنها حجاب من النار
باب: ایک کھجور یا کام کی بات بھی صدقہ اور دوزخ سے آڑ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 596
596 صحيح حديث عَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بَشِقِّ تَمْرَةٍ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ ”جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی (مگر ضرور صدقہ کر کے دوزخ کی آگ سے بچنے کی کوشش کرو)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 10 اتقوا النار ولو بشق تمرة»
وضاحت: یعنی جب تم نے معلوم کر لیا ہے (صدقہ کی فضیلت کو) تو آگ سے بچو اور کسی پر ظلم نہ کرو۔ اگرچہ آدھی کھجور کے برابر ہو، یہ بھی امکان ہے کہ یہ معنی مراد ہے،یعنی جب تمہیں معلوم ہو چکا ہے کہ قیامت کے دن برے اعمال سے کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا اور تمہارے سامنے آگ موجود ہے تو اب صدقہ کو اپنے اور آگ کے درمیان ڈھال بنا لو اگرچہ وہ نصف کھجور ہو۔(مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں