🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
823. باب من فضائل عبد الله بن مسعود وأمه رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1600
1600 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: ذُكِرَ عَبْدُ اللهِ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: ذَاكَ رَجُلٌ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقولُ: اسْتَقْرِئوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللهِ مَسْعُودٍ (فَبَدَأَ بِهِ) ، وَسَالِم مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے یہاں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا، تو انہوں نے کہا: میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا، کیونکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”چار اشخاص سے قرآن سیکھو، عبداللہ بن مسعود“، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی کی، ”اور ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 26 باب مناقب سالم مولى أبي حذيفة رضي الله عنه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
824. باب من فضائل أُبَيّ بن كعب وجماعة من الأنصار رضی اللہ عنہ
باب: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور انصار کی ایک جماعت کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1601
1601 صحيح حديث أَنَسِ رضي الله عنه، قَالَ: جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ: كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ؛ أُبَيٌّ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو زَيْدٍ، وَزَيْدُ ابْنُ ثَابِتٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار آدمی، جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوزید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1601]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 17 باب مناقب زيد بن ثابت رضي الله عنه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1602
1602 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالكٍ رضي الله عنه، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُبَيٍّ: إِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا قَالَ: وَسَمَّانِي قَالَ: نَعَمْ فَبَكَى
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو سورۂ ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة البينة: 1] سناؤں“، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس پر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرطِ مسرت سے رونے لگے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1602]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 16 باب مناقب أبي بن كعب رضي الله عنه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
825. باب من فضائل سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ
باب: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1603
1603 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعد بن معاذ کی موت پر عرش ہل گیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 12 باب مناقب سعد بن معاذ رضي الله عنه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1604
1604 صحيح حديث الْبَرَاءِ رضي الله عنه، قَالَ: أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنَ لِينِهَا فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ خَيْرٌ مِنْهَا، أَوْ أَلْيَنُ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں ایک ریشمی حلہ آیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی اور نزاکت پر تعجب کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”تمہیں اس کی نرمی پر تعجب ہے؟ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال (جنت میں) اس سے کہیں بہتر ہیں“ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) ”اس سے کہیں زیادہ نرم و نازک ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1604]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 12 باب مناقب سعد بن معاذ رضي الله عنه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1605
1605 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: أْهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةُ سُنْدُسٍ، وَكَانَ يَنْهى عَنِ الْحَرِيرِ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هذَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیے کے طور پر پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استعمال سے مردوں کو منع فرماتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بڑی حیرت ہوئی کہ کتنا عمدہ ریشم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس پر حیرت ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 28 باب قبول الهدية من المشركين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
826. باب من فضائل عبد الله بن عمرو بن حرام والد جابر رضی اللہ عنہ
باب: حضرت جابر کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1606
1606 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما، قَالَ: جِيءَ بِأَبِي، يَوْمَ أُحُدٍ، قَدْ مُثِّلَ بِهِ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سُجِّيَ ثَوْبًا فَذَهَبْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ، فَنَهَانِي قَوْمِي، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُفِرَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَائِحَةٍ، فَقَالَ: مَنْ هذِهِ فَقَالُوا: ابْنَةُ عَمْرِو أَوْ أُخْتُ عَمْرِو، قَالَ: فَلِمَ تَبْكِي أَوْ لاَ تَبْكِي، فَمَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رفِعَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کی لاش احد کے میدان سے لائی گئی، (مشرکوں نے) آپ کی صورت تک بگاڑ دی تھی۔ نعش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی گئی، اوپر سے ایک کپڑا ڈھکا ہوا تھا، میں نے چاہا کہ کپڑے کو ہٹاؤں لیکن میری قوم نے مجھے روکا، پھر دوبارہ کپڑا ہٹانے کی کوشش کی، اس مرتبہ بھی میری قوم نے مجھ کو روک دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے جنازہ اٹھایا گیا، اس وقت کسی زور زور سے رونے والے کی آواز سنائی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ لوگوں نے کہا کہ یہ عمرو کی بیٹی یا (یہ کہا کہ) عمرو کی بہن ہیں (نام میں سفیان کو شک ہوا تھا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتی کیوں ہیں؟“ یا یہ فرمایا: ”روؤ نہیں کہ ملائکہ برابر اپنے پروں کا سایہ کیے رہے ہیں جب تک کہ اس کا جنازہ اٹھایا گیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 35 باب حدثنا علي بن عبد الله»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
827. باب من فضائل أبي ذر رضی اللہ عنہ
باب: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1607
1607 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لأَخِيهِ: ارْكَبْ إِلَى هذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمِاءِ وَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي فَانْطَلَقَ الأَخُ حَتَّى قَدِمَهُ، وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، فَقَالَ لَهُ: رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلاَقِ، وَكَلاَمًا، مَا هُوَ بِالشِّعْرِ فَقَالَ: مَا شَفَيْتَنِي مِمَّا أَرَدْتُ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ، فِيهَا مَاءٌ، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ، حَتَّى أَدْرَكَهُ بَعْضُ اللَّيْلِ فَرآهُ عَلِيٌّ، فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَظَلَّ ذلِكَ الْيَوْمَ، وَلاَ يَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَمْسى فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ، فَقَالَ: أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ، فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ، لاَ يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ، فَعَادَ عَلِيٌّ مِثْلَ ذلِكَ، فَأَقَامَ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ: أَلاَ تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ قَالَ: إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنَّنِي، فَعَلْتُ فَفَعَلَ، فَأَخْبَرَهُ قَالَ: فَإِنَّهُ حَقٌّ، وَهُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي، فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتَّبِعْنِي، حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي فَفَعَلَ، فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ مَعَهُ، فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ، وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ لأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ثُمَّ قَامَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ وَأَتَى الْعَبَّاسُ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ قَالَ: وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ، وَأَنَّ طَرِيقَ تِجَارِكُمْ إِلَى الشَّامِ فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ لِمِثْلِهَا، فَضَرَبُوهُ، وثَارُوا إِلَيْهِ، فَأَكَبَّ الْعَبَّاسُ عَلَيْهِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا: مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے، میرے لیے معلومات حاصل کر کے لا، اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں، پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی؛ آخر انہوں نے خود توشہ باندھا، پانی سے بھری ہوئی ایک پرانی مشک ساتھ لی اور مکہ آئے، مسجد حرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا، کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے، علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آرام کیجیے؛ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنی مشک اور توشہ اٹھایا اور مسجد حرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی، تیسرا دن جب ہوا تو علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا: کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری رہنمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے انہیں اپنے خیالات کی خبر دی۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں، اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔ اگر میں (راستے میں) کوئی ایسی بات دیکھوں جس سے مجھے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا (کسی دیوار کے قریب) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے، اس وقت تم میرا انتظار نہ کرنا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے (تو پھر ہمارے پاس آ جانا)۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمۂ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجد حرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی سارا مجمع ٹوٹ پڑا اور اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا۔ اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر قریش سے کہا: افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے۔ اس طرح سے ان کو ان سے بچایا۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد حرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی۔ اس دن بھی عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑ گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 33 باب إسلام أبي ذر رضي الله عنه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
828. باب من فضائل جرير بن عبد الله رضی اللہ عنہ
باب: حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1608
1608 صحيح حديث جَرِيرٍ رضي الله عنه، قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں اسلام لایا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (پردہ کے ساتھ) مجھے (اپنے گھر میں داخل ہونے سے) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو دیکھتے، خوشی سے مسکرانے لگتے۔ ایک دفعہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ میں گھوڑے کی سواری پر اچھی طرح نہیں جم پاتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا دستِ مبارک مارا، اور دعا کی: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ”اے اللہ! اسے گھوڑے پر جما دے اور دوسروں کو سیدھا راستہ بتانے والا بنا دے اور خود اسے بھی سیدھے راستے پر قائم رکھیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 162 باب من لا يثبت على الخيل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1609
1609 صحيح حديث جَرِيرٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ، يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمَائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ قَالَ: وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتهَا كَأَنَّها جَمَلٌ أَجْوَفُ، أَوْ أَجْرَبُ قَالَ: فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا، خَمْسَ مَرَّاتٍ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ؟» ذوالخلصہ کو (برباد کر کے) مجھے راحت کیوں نہیں دے دیتے۔“ یہ ذوالخلصہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا اور اسے ”کعبۃ الیمانیہ“ کہتے تھے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں قبیلہ احمس کے ایک سو پچاس سواروں کو لے کر چلا، یہ سب حضرات بڑے اچھے گھوڑ سوار تھے لیکن میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر (اپنے ہاتھ مبارک سے) مارا، میں نے انگشت ہائے مبارک کا نشان اپنے سینے پر دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ”اے اللہ! گھوڑے کی پشت پر اسے ثبات عطا فرمانا، اور اسے دوسروں کو ہدایت کی راہ دکھانے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنانا۔“ اس کے بعد سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور ذوالخلصہ کی عمارت کو گرا کر اس میں آگ لگا دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر بھجوائی۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد (ابوارطاۃ حصین بن ربیعہ) نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا، جب تک ہم نے ذوالخلصہ کو ایک خالی پیٹ والے اونٹ کی طرح نہیں بنا دیا، یا (انہوں نے کہا) خارش والے اونٹ کی طرح (مراد ویرانی سے ہے)۔“ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور قبیلہ کے تمام لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکتوں کی دعا فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1609]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 154 باب حرق الدور والنخيل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں