🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
0. باب النكاح
نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 712
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَبِيبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، يَقُولُ: أَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلاقُ، وَالرَّجْعَةُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین امور ایسے ہیں، جو قصداً کیے جائیں یا ہنسی مذاق میں کیے جائیں، واقع ہو جاتے ہیں: 1. نکاح، 2. طلاق، 3. رجعت۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 712]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 2194، سنن الترمذي: 1184، سنن ابن ماجه: 2039، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب اور امام حاکم رحمہ اللہ (198/2) نے "صحیح الاسناد" کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخيص الحبير: 210/3) نے اسے حسن کہا ہے، راوی عبدالرحمن بن حبیب بن اردک ”حسن الحدیث“ ہے، اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 713
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: ثني عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ، وَأَمْهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلافٍ، وَجَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ، وَبَعَثَ بِهَا مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ، وَلَمْ يَبْعَثْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ، وَكَانَ مَهْرُ نِسَائِهِ أَرْبَعَمِائَةِ دِرْهَمٍ" .
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، تو وہ حبشہ کے علاقے میں تھیں۔ نجاشی نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور اپنے پاس سے انہیں چار ہزار (درہم) مہر اور جہیز دیا اور انہیں شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) بھیج دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ام حبیبہ) کی طرف کوئی چیز نہیں بھیجی اور آپ کی (باقی) بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 713]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 427/6، سنن أبي داود: 2086، سنن النسائي: 3352، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (181/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ ”مدلس“ ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 714
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
مذکورہ روایت اس سند سے بھی مروی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 714]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: انظر الحديث السابق»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: تَزَوَّجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟ قَالَ: نَوَاةٌ مِنْ ذَهَبٍ" ، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: النَّوَاةُ: خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَالنَّشُّ: عِشْرُونَ دِرْهَمًا، وَالأُوقِيَّةُ: أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری عورت سے شادی کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: آپ نے انہیں مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا (دیا ہے)۔ ابن ابی نجیح کہتے ہیں: نواة پانچ درہم کو کہتے ہیں، نشّ بیس درہم کو، اور اوقیہ چالیس درہم کو کہتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 715]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5167، صحیح مسلم: 1427»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 716
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّا فِي الْقَوْمِ، إِذْ قَالَتِ امْرَأَةٌ: إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: زَوِّجْنِيهَا، قَالَ: " اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ: فَذَهَبَ وَلَمْ يَجِئْ بِشَيْءٍ وَلا بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ: أَمَعَكَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَزَوَّجَهُ بِمَا مَعَهُ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں خود کو آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں، میرے متعلق اپنے خیال کا اظہار کیجیے۔ ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا: ان سے میری شادی کروا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا کر کچھ تلاش کر لائیے، خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے۔ راوی کہتے ہیں: وہ گیا اور نہ تو لوہے کی انگوٹھی لایا اور نہ ہی کوئی اور چیز لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ کو قرآن کی کوئی سورت یاد ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی ان سورتوں کے عوض جو اسے یاد تھیں، اس کی شادی کر دی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 716]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5029، صحیح مسلم: 1425»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 717
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عہد نبوی میں ہمارا مہر دس اوقیہ ہوا کرتا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 717]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 367/2، سنن النسائي: 3350، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4097) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (175/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَدِيثُ لَهُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ: فَرَدَّهُمْ، ثُمَّ قَالَ: أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، أَرَى " لَهَا صَدَاقَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا لا وَكْسَ وَلا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ" قَالَ: فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي رَوَّاسٍ ، وَبَنُو رَوَّاسٍ حَيُّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا، جس نے کسی عورت سے شادی کی، نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ ہی اس سے مباشرت کی اور فوت ہو گیا۔ علقمہ کہتے ہیں: آپ نے ان کو واپس کر دیا، پھر کہنے لگے: میں اس بارے میں اپنی رائے ہی پیش کرتا ہوں۔ اگر درست ہوئی، تو اللہ کی طرف سے ہوگی اور اگر غلط ہوئی، تو میری طرف سے ہوگی۔ میری رائے تو یہ ہے کہ اسے اس جیسی (دیگر) خواتین کے برابر مہر ملے گا، نہ کم ہوگا، نہ زیادہ۔ وہ میراث کی حقدار بھی ہوگی اور اس پر عدت بھی ضروری ہے۔ سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو رواس کی خاتون بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا۔ بنو رواس، بنو عامر بن صعصعہ کا ایک خاندان ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 480/3، سنن أبي داود: 2115، سنن النسائي: 3359، سنن الترمذي: 1145، سنن ابن ماجه: 1891، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4099) نے صحیح کہا ہے، سند میں ابراہیم نخعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ سنن نسائی (3360) میں حسن سند کے ساتھ اس کا شاہد موجود ہے، اسے امام ابن حبان رحمہ اللہ (4101) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (180/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 719
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثنا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشِّغَارِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار (وٹہ سٹہ) سے منع فرمایا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 719]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5112، صحيح مسلم: 1415»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 720
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ نَافِعٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشِّغَارِ" ، وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار (وٹہ سٹہ) سے منع فرمایا ہے۔ شغار یہ ہوتا ہے کہ کوئی آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی مرد سے اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کرے گا اور دونوں نکاحوں میں مہر ادا نہ ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 720]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5112، صحيح مسلم: 1415»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 721
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، قَالَ: ثنا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ہی مہر بنایا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 721]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5086، صحيح مسلم: 1365»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں