🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
0. باب النكاح
نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ، قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " تَرِبَتْ يَمِينُكِ، ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد میرا (رضاعی) چچا آیا اور میرے پاس آنے کی اجازت مانگنے لگا۔ میں نے اسے اجازت نہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو میں نے آپ سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دو، وہ تمہارا چچا ہی ہے۔ عرض کیا: دودھ تو مجھے عورت نے پلایا ہے، مرد نے تو نہیں پلایا۔ فرمایا: تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو! اسے اجازت دے دو، وہ تمہارا چچا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 692]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5239، صحیح مسلم: 1445»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثنا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ح وَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثنا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنْتُ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (شادی کے لیے) سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 693]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5100، صحیح مسلم: 1447»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: ثنا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ نَبِيهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ وَهُمَا مُحْرِمَانِ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ لِيَحْضُرَهُ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ وَهُوَ أَمِيرُ الْحَجِّ، فَقَالَ أَبَانُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلا يُنْكِحُ، وَلا يَخْطُبُ" .
نبیہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے کرانا چاہی، جب کہ وہ دونوں محرم تھے۔ انہوں نے ابان بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھی شرکت کے لیے پیغام بھیجا جو امیر حج تھے۔ ابان رضی اللہ عنہ نے اسے ناپسند کیا اور کہا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم نہ اپنا نکاح کر سکتا ہے، نہ کسی اور کا نکاح کروا سکتا ہے اور نہ ہی منگنی کروا سکتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 694]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1409»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَجَّاجٌ ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفٍ وَنَحْنُ حَلالانِ" .
سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف پر مجھ سے نکاح کیا اور ہم دونوں حالت احرام میں نہیں تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 695]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1411»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 696
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" فَأَخْبَرْتُ بِهِ الزُّهْرِيَّ ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ وَهِيَ خَالَتُهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلالٌ وَهِيَ حَلالٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے یہ بات امام زہری رحمہ اللہ کو بتائی تو انہوں نے کہا: مجھے یزید بن اصم نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا، تو وہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں احرام میں نہیں تھے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا یزید بن اصم کی خالہ ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 335/6، سنن أبي داود: 1843، اسے امام مسلم رحمہ اللہ (1411) نے یزید بن اصم سے روایت کیا ہے، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4138) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد ، قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ أَوْثَقَهُمَا، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ" ، وَكَانَ سُفْيَانُ، يَقُولُ: كَانَ الْحَسَنُ خَيْرَهُمَا، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَحَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: عَنْ أَبِيهُمَا، سَمِعَ عَليًّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ لابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ المُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُم الحُمْر وَالأهْلِية.
حسن اور عبداللہ اپنے والد محمد بن علی بن حنفیہ رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے وقت نکاح متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔ سفیان کہتے تھے: ان دونوں میں سے حسن زیادہ اچھے تھے۔ ابن مقری کہتے ہیں: ایک دفعہ سفیان نے ہمیں یہی روایت بیان کی، تو ذکر کیا کہ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرما رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 697]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4216، صحیح مسلم: 1407»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ" .
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 698]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1406»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا، قَالَ لَنَا:" اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، وَالاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمَئِذٍ التَّزْوِيجُ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ، فَأَبَيْنَ إِلا أَنْ نَضْرِبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلا، قَالَ: فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: افْعَلُوا، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعِيَ بُرْدَةٌ، وَبُرْدَتُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدَتِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، قَالَ: فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي، فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا، وَكَانَ الأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا، قَالَ: فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْباب قَائِمٌ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: يَأَيُّهَا النَّاسُ، أَلا إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، أَلا فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا، وَلا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا" .
سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ) کے لیے نکلے۔ جب ہم نے عمرہ ادا کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے (متعہ) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ ان دنوں ہمارے ہاں فائدہ اٹھانے کا طریقہ شادی تھا۔ چنانچہ ہم نے عورتوں کو شادی کی پیشکش کی، تو انہوں نے انکار کر دیا، الا یہ کہ ہم اپنے اور ان کے مابین مدت مقرر کریں۔ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدت مقرر کر لیں۔ راوی کہتے ہیں: میں اور میرے چچا زاد بھائی (متعہ کے لیے) نکلے، میرے پاس ایک چادر تھی، جب کہ میرے چچا زاد بھائی کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی، لیکن میں اس سے زیادہ جوان تھا۔ ہم ایک عورت کے پاس آئے اور اس کے سامنے اپنا مقصد پیش کیا، تو اسے میری جوانی پسند آئی، جب کہ میرے چچا زاد بھائی کی چادر پسند آئی۔ وہ کہنے لگی: چادریں تو ایک جیسی ہی ہیں۔ چنانچہ میں نے اس سے شادی کر لی اور ہمارے مابین دس دن کا معاہدہ طے پایا۔ میں نے وہ رات اس (عورت) کے ہاں گزاری اور اگلے دن صبح صبح مسجد چلا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حطیم اور (بیت اللہ کے) دروازے کے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے: لوگو! میں نے تمہیں ان عورتوں سے استمتاع کی اجازت دی تھی۔ سن لیں! اللہ نے قیامت کے دن تک اس (متعہ) کو حرام کر دیا ہے۔ لہٰذا جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت موجود ہو، وہ اسے آزاد کر دے اور جو کچھ بھی اسے دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لینا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1406»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَبِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر خاوند اس سے صحبت کر لے، تو اس (بیوی) کو مہر ملے گا، کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو جائز سمجھا ہے۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کرنے لگیں (یعنی نکاح نہ کرنے دیں)، تو پھر جس کا باپ ولی نہ ہو، اس کی ولایت کا فیصلہ حاکم وقت کرے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 700]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الحميدي: 228، مسند الإمام أحمد: 47/6-165-166، سنن أبي داؤد: 2083، سنن الترمذي: 1102، سنن ابن ماجه: 1879، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ اور حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ (معجم الشیوخ: 234) نے ”حسن“ جب کہ امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (4259) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (فتح الباری لابن حجر: 191/9) امام ابن حبان رحمہ اللہ (4074، 4075)، امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الكبرى: 107/7) اور حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (التحقیق: 255/2) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (168/2) نے اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَيْسَ يَصِحُ فِي هَذَا شَيْءٌ إِلَّا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسى . (التاريخ لابن معين برواية الدوري: 236/2، الكامل في ضعفاء الرّجال لابن عدي: 1115/3، السنن الكبرى للبيهقي: 107/7) حافظ ابو موسیٰ مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: هَذَا حَدِيثُ ثَابِتٌ مَّشْهُورٌ يُحْتَجُ بِه . (اللطائف: 556-586-606) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تخریج احادیث المختصر: 205/2) نے اسے حسن کہا ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ اس حدیث کے روات کے متعلق کہتے ہیں: وَكُلُّهُمْ ثِقَةٌ حَافِظٌ . (معرفة السنن والآثار: 29/1)»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ: ثنا قَبِيصَةُ ، قَالَ: ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ" .
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 394/4-413، سنن أبي داود: 2085، سنن الترمذي: 1101، سنن ابن ماجه: 1881، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4083) امام علی بن مدینی رحمہ اللہ (المستدرک للحاکم: 170/2) امام بہیقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 198/7) امام زیلعی رحمہ اللہ (المستدرک للحاکم: 170/2) اور امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . (تخريج أحاديث المختصر: 307/2-371) مسند بزار (3111) اور سنن دارقطنی (218/3، 219، وسندہ حسن) میں ابو اسحاق سبیعی مدلس سے شعبہ بیان کر رہے ہیں، لہذا تدلیس کا اعتراض رفع ہوا، اس حدیث کا المستدرک للحاکم (172/2) میں بسند حسن ایک شاہد آتا ہے، یوں یہ روایت صحیح ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں