المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
0. باب النكاح
نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 682
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سَمَوْءَلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَحَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَاعْتُرِضَ عَنْهَا، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصِيبَهَا، فَطَلَّقَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا، فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا وَهُوَ زَوْجُهَا الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا قَبْلَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنْ تَزْوِيجِهَا، فَقَالَ: " لا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ" .
سیدنا عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رفاعہ بن سموال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی تمیمہ بنت وہب کو طلاق دے دی۔ عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا۔ عورت کی طرف سے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ پر نکتہ چینی کی گئی تو وہ اس سے جماع نہ کر سکے اور ہاتھ لگائے بغیر ہی اسے طلاق دے دی۔ تمیمہ کے پہلے خاوند رفاعہ نے دوبارہ ان سے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفاعہ کو ان سے شادی کرنے سے روک دیا اور فرمایا: وہ اس وقت تک آپ کے لیے حلال نہیں جب تک وہ جماع کا ذائقہ نہ چکھ لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 682]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: الجامع لابن وهب: 266، مسند الروياني: 1466، السنن الكبرى للبيهقي: 375/7، اس حدیث کے بارے میں حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ مُّسْنَدٌ (التمهيد: 221/13) امام مالک رحمہ اللہ (531) وغیرہ نے اسے ”مرسل“ بھی ذکر کیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 683
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي طَلاقًا بِنْتُ مِنْهُ، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَإِنَّهُ عَلَيْهِ مثل هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی: رفاعہ نے مجھے ایسی طلاق دی ہے کہ میں اس سے علیحدہ ہو گئی ہوں اور میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کر لی ہے، مگر اس کا عضو کپڑے کی جھالر کی طرح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر فرمانے لگے: آپ رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہیں؟ اس وقت تک نہیں جا سکتیں جب تک کہ وہ آپ کا اور آپ اس کا مزہ نہ چکھ لیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 683]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2639، صحیح مسلم: 1433»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 684
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ: أنا مُعَلًّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ هُوَ الْمُخَرِّمِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت کی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 684]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 323/2، مسند البزار (كشف الأستار)1442، العلل لابن أبي حاتم الرازي: 413/1، ح: 1237، السنن الكبرى للبيهقي: 208/7، امام بخاری رحمہ اللہ: فرماتے ہیں: هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ الْمُخَرَّمِيُّ صَدُوقٌ ثِقَةٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيُّ ثِقَةٌ وَكُنْتُ أَظُنَّ أَنَّ عُثْمَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ . (العلل الكبير للترمذي:437/1) علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (اعلام الموقعین لابن القیم: 45/3) اور حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ (تنقیح التحقیق: 363/4) نے اس کی سند کو ”جید“ کہا ہے، حافظ ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ (اعلام الموقعین: 119/5) نے اس کی سند کو حسن کہا ہے، اس باب میں سنن ابن ماجہ (1936) السنن الكبرى للبيهقي (208/7) اور المستدرک للحاکم (198/2، 199) میں بسند حسن سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت آتی ہے، اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے "صحیح الاسناد" اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے، حافظ عبد الحق اشبیلی رحمہ اللہ (الاحکام الوسطی: 153/3) نے اس کی سند کو حسن کہا ہے، تو حافظ ابن القطان الفاسی رحمہ اللہ (بیان الوہم والایہام: 504/3) ان کی موافقت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ولم یبین المانع من صحتہ“، علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حَدِيثٌ جَيْدٌ وَّ إِسْنَادُهُ حَسَنٌ (إعلام الموقعين لابن القيم: 46/3)، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنير: 664/7) نے اسے حسن اور علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ (نصب الراية: 239/3) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 685
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا دَاودُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ: ثنا عَامِرٌ ، قَالَ: ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، أَوِ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، لا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى، وَلا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی کی موجودگی میں بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے اور بھتیجی کی موجودگی میں پھوپھی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ خالہ کی موجودگی میں بھانجی کے ساتھ نکاح سے منع کیا ہے اور بھانجی کی موجودگی میں خالہ کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ بڑے رشتے والی کی موجودگی میں چھوٹے رشتے والی سے اور چھوٹے رشتے والی کی موجودگی میں بڑے رشتے والی سے نکاح نہیں کرنا چاہیے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 685]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 426/2، سنن أبي داود: 2065، سنن النسائي: 3298، سنن الترمذي: 1126، امام بخاری رحمہ اللہ (5018) نے اسے معلق ذکر کیا ہے، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4117) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنير: 597/7) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 686
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلاهُ وَأَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کر لی، وہ زانی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 686]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 301/3، سنن أبي داود: 2078، سنن الترمذي: 1111، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے "حسن" کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (194/2) نے "صحیح الاسناد" اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل راوی جمہور محدثین کے نزدیک ”ضعیف“ ہے، جیسا کہ حافظ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ضَعِيفٌ عِنْدَ الْأَكْثَرِينَ . (المجموع شرح المهذب: 155/1) حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْأَكْثَرِينَ . (مجمع الزوائد: 134/1) سنن ابن ماجہ (1960) میں اس کا ایک شاہد بھی آتا ہے، اس میں مندل بن علی عنزی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . (مجمع الزوائد: 317/2) اس میں ابن جریج کی تدلیس بھی ہے: سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نِكَاحُ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ زِنَا، وَيُعَاقَبُ الَّذِي زَوَّجَهُ . (مصنف ابن أبي شيبة: 261/4، واللفظ له، السنن الكبرى للبيهقي: 127/7، وسنده حسن)»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 687
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلادَةُ" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رضاعت بھی ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جنہیں ولادت (نسب) حرام کرتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 687]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2646، صحیح مسلم: 1444»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 688
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أنا يَحْيَى، أَنَّ عَمْرَةَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: " نزل فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، وَهِيَ تُرِيدُ مَا يُحْرَمُ مِنَ الرَّضَاعِ" ، قَالَتْ عَمْرَةُ: ثُمَّ ذَكَرَتْ عَائِشَةُ، قَالَتْ: نزل بَعْدُ خَمْس.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قرآن مجید میں دس دفعہ مکمل دودھ پینے سے حرمتِ رضاعت کا حکم نازل ہوا تھا۔ عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: بعد میں پانچ بار دودھ پینے کا حکم نازل ہوا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 688]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1452»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 689]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1450»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 690
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَأَنَا فُضُلٌ وَإِنَّمَا كُنَّا نَرَاهُ وَلَدًا وَكَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ تَبَنَّاهُ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا، فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ" ، فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَأْمُرُ أَخَوَتِهَا وَبَنَاتِ أَخَوَتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ يَرَاهَا، وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا، وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَوَاللَّهِ مَا نَدْرِي لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ دُونَ النَّاسِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگیں: سالم مولیٰ ابو حذیفہ ہمارے پاس آتا ہے، جب کہ میں تنہائی والے لباس میں ہوتی ہوں۔ ہم اسے بیٹا ہی تصور کرتے تھے، کیونکہ ابو حذیفہ نے اسے اسی طرح منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو بنایا ہوا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللہِ﴾ (الأحزاب: 5) (منہ بولے بیٹوں کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف نسبت کرکے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ تم سالم کو (اپنا) دودھ پلا دو۔ چنانچہ انہوں نے اسے پانچ مرتبہ دودھ پلایا، تو وہ ان کا رضاعی بیٹا بن گیا۔ اسی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بہنوں اور بھتیجیوں کو حکم دیتی تھیں کہ اس شخص کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دیں، جسے وہ اپنا آپ دکھانا چاہتیں یا یہ چاہتیں کہ وہ ان کے پاس آ جایا کرے، خواہ وہ بڑی عمر کا ہی ہو، پھر وہ شخص آپ کے پاس آ جایا کرتا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سمیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی بیویاں درست نہیں سمجھتی تھیں کہ ایسی رضاعت (کبیر) کی وجہ سے کوئی آدمی ان کے پاس آئے، حتٰی کہ اسے جھولے (یعنی بچپن) میں دودھ پلایا جائے۔ نیز وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کرتی تھیں: اللہ کی قسم! ہم تو یہ سمجھتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رخصت صرف سالم کے لیے دی تھی، باقی لوگوں کے لیے نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 690]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن وللحديث شواهد كثيرة: اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (4431) نے صحیح کہا ہے، اس کی اصل صحیح بخاری (5088) میں ثابت ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن وللحديث شواهد كثيرة
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَتْ: أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ: " انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمُجَاعَةِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ عرض کیا: یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ فرمایا: پہچان لیں کہ آپ کے بھائی کون ہیں، رضاعت تب ثابت ہوتی ہے جب دودھ ہی بچے کی غذا ہوتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 691]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2647، صحیح مسلم: 1455»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح