المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
0. باب النكاح
نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 702
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ" .
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 702]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: انظر الحديث السابق»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 703
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ" .
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 703]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: تقدم تخريجه في الرقم: 701 من هذا الكتاب»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 704
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَمْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ السَّنَدِيِّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْجَوْهَرِيُّ ، قَالا: ثنا أَبُو كَامِلٍ الْفَضْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ"، وَقَدْ وَصَلَهُ شَرِيكٌ أَيْضًا وَأَسْنَدَهُ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔ شریک نے اس روایت کو موصول اور مرفوع بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 704]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: انظر الرقم: 701»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 705
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ: ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَوْ لابْنِ عَمٍّ لَهُ، قَالَ: فَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلاحَةً، لا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ عَلَى كِتَابَتِهَا، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى باب الْحُجْرَةِ فَكَرِهْتُهَا، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا جُوَيْرِيَةُ ابْنَةُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ، وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الأَمْرِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ، فَوَقَعَتْ فِي السَّهْمِ لِثَابِتٍ أَوْ لابْنِ عَمٍّ لَهُ، فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ عَلَى كِتَابَتِي، قَالَ: فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، وَخَرَجَ الْخَبَرُ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، فَقَالَ النَّاسُ: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا الْمُصْطَلِقِ، فَلَقَدْ أَعْتَقَ تَزْوِيجُهُ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَلا نَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے قیدی حاصل کیے، تو سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئیں۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اپنی مکاتبت (یعنی آزادی کی قیمت مقرر) کر لی۔ وہ بہت خوبصورت خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا، وہ اس کے دل میں بس جاتیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی مکاتبت پر مدد لینے آئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نے انہیں حجرے کے دروازے پر دیکھا، تو ناپسند کیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان میں وہ خوبی (حسن) دیکھیں گے، جو میں دیکھ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حارث بن ابی ضرار کی بیٹی جویریہ ہوں، جو اپنی قوم کے سردار ہیں۔ مجھ پر جو پریشانی آئی ہے، وہ آپ سے پوشیدہ نہیں۔ میں ثابت بن قیس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں اور میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی مکاتبت پر مدد لینے آئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ اس سے بہتر کی خواہش رکھتی ہیں؟ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ (بہتر) کیا ہے؟ فرمایا: میں آپ کی کتابت کی رقم ادا کردوں گا اور آپ سے شادی کرلوں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ کام کر دیا۔ لوگوں میں یہ خبر پھیل گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی ہے۔ لوگ کہنے لگے: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال (بن گئے) ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بنو مصطلق کے سب قیدی آزاد کر دیے، جو ان کے قبضے میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی نے بنو مصطلق کے سو گھرانوں کو آزاد کرادیا۔ ہم نہیں جانتے کہ کوئی عورت اپنی قوم کے لیے ان سے زیادہ بابرکت ٹھہری ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 705]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 277/6، سنن أبي داود: 3931، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4054، 4055) نے صحیح کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (الدرایۃ: 294/2، ح: 1061) نے اس کی سند صحیح کیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 706
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَهُوَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ كَذَا: لا يُصَابُ أَحَدٌ بِمُصِيبَةٍ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهَا، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ، فِيَّ خِلالٌ ثَلاثٌ أَخَافُهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا امْرَأَةٌ شَدِيدَةٌ الْغَيْرَةِ، وَأَنَا امْرَأَةٌ لَيْسَ مِنْ أَوْلِيَائِي أَحَدٌ يُزَوِّجُنِي، وَأَنَا امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَغَضِبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ لِنَفْسِهِ حِينَ قَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فِي كَذَا وَكَذَا، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَتْ، فَأَتَاهَا فَقَالَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنْ غَيْرَتِكِ فَأَدْعُوا اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِهَا عَنْكِ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنْ صِبْيَتِكِ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيهِمْ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ أَنْ لَيْسَ هَهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ يُزَوِّجُكِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلا غَائِبٌ يَكْرَهُنِي" فَقَالَتْ لابْنِهَا: زَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَوَّجَهَا .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات (حدیث) سنی جو مجھے (اتنی زیادہ) دولت ملنے سے زیادہ پیاری ہے: جو بھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے۔ الخ، انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منگنی کا پیغام بھیجا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید ہو (یعنی آپ کا پیغام قبول ہے) مگر مجھ میں تین امور ہیں جن کی بنا پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کرنے سے ڈرتی ہوں: میں بہت زیادہ غیرت (غصے) والی عورت ہوں، میرا کوئی ولی نہیں جو میری شادی کروا دے، اور میں عیال دار عورت ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اتنے غصے میں آئے کہ اپنی ذات کے لیے بھی کبھی اتنے غصے میں نہ آئے تھے۔ ان (ام سلمہ) کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو آپ ان کے پاس آئے اور فرمایا: آپ نے جو غیرت (غصے) کا ذکر کیا ہے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے غصے کو دور کر دے۔ جو بچوں والی بات آپ نے ذکر کی ہے، تو انہیں اللہ تعالیٰ کافی ہو جائے گا۔ اور آپ نے جو یہ بات کہی کہ میرا کوئی بھی ولی یہاں موجود نہیں جو میری آپ سے شادی کروا دے، تو آپ کے اولیاء میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو مجھے ناپسند کرے گا، خواہ وہ یہاں موجود ہو یا غیر موجود۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (میری) شادی کروا دیں، تو انہوں نے آپ کی شادی کر دی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 706]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن وللحديث شواهد: مسند أبي يعلى: 6907، مسند الإمام أحمد: 295/6، 313، 317، سنن أبي داود: 3119 مختصراً، سنن النسائي: 3256، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (2949) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (16/4، 17) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن وللحديث شواهد
حدیث نمبر: 707
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، فَقَالَ ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالا: ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قِيلَ: وَمَا إِذْنُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ" ، الْحَدِيثُ لِلدَّارِمِيِّ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایّم (جس کی دوسری شادی ہو رہی ہو) سے مشورہ کیے بغیر اس کا نکاح نہ کیا جائے اور کنواری کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہ کیا جائے۔ آپ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس سے اجازت کس طرح لی جائے گی؟ فرمایا: یہ کہ وہ خاموش ہو جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 707]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5136، صحیح مسلم: 1419»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 708
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اسْتَأْذَنُوا"، وَقَالَ الْمُخَرِّمِيُّ:" اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ"، قِيلَ: فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي فَتَسْكُتُ؟ قَالَ:" فَسُكَاتُهَا إِذْنُهَا" ، وَقَالَ الْمُخَرِّمِيُّ: تَسْتَحْيِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهُوَ إِذْنُهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے جسموں (شادی) کے متعلق اجازت یا مشورہ لیا کریں۔ پوچھا گیا: کنواری لڑکی تو شرم کے مارے چپ کر جاتی ہے؟ فرمایا: اس کی خاموشی اجازت ہی ہے۔ مخرمی کی روایت میں ہے: وہ شرماتی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی اس کی اجازت ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 708]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6949، صحیح مسلم: 1420»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 709
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے اور کنواری سے اس کی خواہش کے متعلق مشورہ لیا جائے گا اور اس کا خاموشی اختیار کرنا اقرار سمجھا جائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 709]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1421»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 710
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ نَافِعٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعِ ابني يزيد بن جارية الأنصاري ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِدَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ نِكَاحَهَا" .
سیدہ خنساء بنت خدام انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ثیّب تھیں، ان کے والد نے ان کی پسند کے خلاف نکاح کر دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور واقعہ بیان کیا، تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 710]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5138»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 711
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَدَخَلَ بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، تو میں چھ برس کی تھی اور جب مجھ سے مباشرت کی، تو اس وقت میں نو برس کی تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 711]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5133، صحیح مسلم: 1422»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح