المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. باب المكاتب والمدبر
مکاتب اور مدبر (غلاموں کی اقسام) کا بیان
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ غُلامًا لَهُ، فَبَاعَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا (یعنی یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فروخت کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 983]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2534، صحيح مسلم: 997۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَعْتَقَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَبْتَاعُهُ مِنِّي، فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَا ابْتَاعُهُ فَابْتَاعَهُ" ، قَالَ عَمْرٌو: وَقَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُلامًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الأَوَّلِ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَزَادَ فِيهِ أَبُو الزُّبَيْرِ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ.
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کو آزاد کرنے کا کہا، اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟ نعیم بن عبد اللہ نے کہا: میں خریدوں گا، چنانچہ انہوں نے خرید لیا۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ ایک قبطی غلام تھا، جو پہلے ہی سال مر گیا۔ ابوالزبیر نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اس (غلام) کا نام یعقوب تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 984]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2534، صحيح مسلم: 997۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
28. باب ما جاء في العمرى والرقبى
عمریٰ اور رقبیٰ (عطیہ کی مخصوص اقسام) کا بیان
حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِم ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لأَهْلِهَا، أَوْ جَائِزٌ لأَهْلِهَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمری (جو چیز عمر بھر کے لیے دی جائے) اپنے اہل کی میراث ہے یا اپنے اہل کے لیے جائز ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 985]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2626، صحيح مسلم: 1626۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 986
حَدَّثَنَا ابْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت مروی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 986]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري، عقب الحديث: 2626، صحيح مسلم: 1625»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح البخاري، عقب الحديث
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثنا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنَّهُ لِلَّذِي يُعْطَاهَا لا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا، لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو اس کے اور اس کی اولاد کے لیے عمری دیا، تو وہ اس شخص کا ہوگا، جسے دیا گیا ہے، دینے والے کو واپس نہیں ملے گا، کیونکہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے، جس میں وراثت کا نفاذ ہو گیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 987]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2626، صحيح مسلم: 1625»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: " هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا" ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُفْتِي بِهِ.
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جو عمری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ (دینے والا) کہے: یہ تیرے اور تیرے ورثا کے لیے ہے، اگر وہ یوں کہے: جب تک تو زندہ ہے، یہ چیز تیری ہے، تو وہ مالک کو واپس مل جائے گی۔ معمر کہتے ہیں کہ زہری کا یہی فتویٰ تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 988]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1625/23»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا، وَالْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبی اسی کی ملکیت ہے، جسے ہبہ کیا گیا اور عمری بھی اسی کی ملکیت ہے جسے (عمر بھر کے لیے) ہبہ کیا گیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 989]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 3/303، سنن أبي داود: 3558، سنن النسائي: 3770، سنن الترمذي: 1351، سنن ابن ماجه: 2383، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن“ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5136) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 990
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَ: أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا رُقْبَى، وَلا عُمْرَى، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا، أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ" ، قَالَ: وَالرُّقْبَى: أَنْ يَقُولَ هُوَ لِلآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ، وَالْعُمْرَى: أَنْ يَجْعَلَ لَهُ حَيَاتَهُ أَنْ يَعْمُرَهُ حَيَاتَهُمَا، قَالَ عَطَاءٌ: فَإِنْ أَعْطَاهُ سَنَةً أَوْ سَنَتَيْنِ أَوْ شَيْئًا يُسَمِّيهِ فَهِيَ مَنِيحَةٌ يَمْنَحَهَا إِيَّاهُ لَيْسَ بِعُمْرَى.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ رقبی (واپس لینا) جائز ہے اور نہ عمری، جسے عمری یا رقبی دیا گیا، تو وہ چیز زندگی میں بھی اسی کی ہے اور مرنے کے بعد بھی اسی کی ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رقبی یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے: میری طرف سے اور تیری طرف سے (یعنی میں پہلے مر گیا، تو تیری ہے اور تو پہلے مر گیا، تو مجھے واپس مل جائے گی) اور عمری یہ ہے کہ اس کی زندگی تک وہ چیز اسے دے دے۔ عطاء کہتے ہیں: اگر ایک سال یا دو سال یا مقررہ مدت تک کے لیے دے، وہ تحفہ ہے، عمری نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 990]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح وللحديث شواهد: مصنف عبدالرزاق: 16920، مسند الإمام أحمد: 2/26، سنن النسائي: 3762، سنن ابن ماجه: 2382»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح وللحديث شواهد
29. باب ما جاء في النحل والهبات
عطیات اور ہبات (تحفوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَنِي مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ذَهَبَ بِي أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى نُحْلٍ نَحَلَنِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكَلَّ يَلِيك نَحَلْتَ مثل هَذَا؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَأَرْجِعْهَا" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تا کہ ان تحائف پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں، جو انہوں نے مجھے دیے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو یہ تحائف دیے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: ”تو پھر یہ بھی واپس لے لیں۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 991]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2586، صحیح مسلم: 1623»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 992
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ: ثنا وُهَيْبٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَلَنِي نُحْلا لِيُشْهِدَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ هَذَا الْغُلامَ نُحْلا فَاشْهَدْ عَلَيْهِ، قَالَ: " أَكَلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتُ مثل هَذَا؟ قَالَ: لا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تا کہ ان تحائف پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں، جو انہوں نے مجھے دیے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو یہ تحائف دیے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: ”تو پھر یہ بھی واپس لے لیں۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2587، صحیح مسلم: 1623»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح