المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في الأحكام
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1023
أَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، أَنْ يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدِّينُ مَقْضِيُّ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ" .
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر فرما رہے تھے: مستعار لی ہوئی چیز ادا کی جائے گی، منحہ (دودھ کے لیے لیا ہوا جانور) لوٹایا جائے گا، قرض ادا کیا جائے گا اور ضامن تاوان ادا کرے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن له شواهد: مسند الإمام أحمد: 5/267، سنن أبي داود: 3565، سنن الترمذي: 670-1265، سنن ابن ماجه: 2398، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن له شواهد
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: ثني سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ" .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ جو چیز لیتا ہے، وہ ادا کرنے تک اس کے ذمہ ہوتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1024]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 5/8، سنن أبي داود: 3561، سنن الترمذي: 1266، سنن ابن ماجه: 2400، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (2/47) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ سعید بن ابی عروبہ اور اس کا شیخ قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي عُروة ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هِنْدًا بِنْتَ عُتْبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلا يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينَا إِلا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لا يَعْلَمُ، قَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! ابو سفیان کنجوس ہیں، مجھے اور بچوں کو اتنا خرچ نہیں دیتے جو ہمیں پورا ہو جائے، الا یہ کہ میں ان کے مال سے خفیہ طور پر لے لوں۔ آپ نے فرمایا: آپ معروف طریقے سے اتنا مال لے لیا کریں جو آپ کو اور آپ کے بچوں کو کافی ہو جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5364، صحیح مسلم: 1714»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ عِنْدَ رَجُلٍ أَخَذَهُ مِنْهُ وَطَلَبَ ذَلِكَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْهُ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی (دیوالیہ آدمی) کے پاس اپنا سامان پہچان لے، تو وہ اس سے لے لے، نیز اگر کسی نے اس سے خریدا ہو تو وہ اس سے واپس لے سکتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 5/16، سنن أبي داود: 3531، سنن النسائي: 4685، قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کی سند حجاج بن ارطاۃ ”ضعیف و مدلس“ کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1027
أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُصِيبُ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلا ذَلِكَ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو پھلوں کی خریداری میں نقصان ہوا جس وجہ سے اس پر بہت زیادہ قرض ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کریں۔ لوگوں نے صدقہ کیا مگر قرض پورا ادا نہ ہو سکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ملتا ہے لے لیں، اس کے علاوہ آپ کے لیے کچھ نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1027]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1556»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا أَبُو قِلابَةَ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ: ثني عَبَّادُ بْنُ اللَّيْثِ قَالَ: ثني عَبْدُ الْمَجَيدِ هُوَ ابْنُ أَبِي زَيْدٍ أَبُو وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : أَلا أُقْرِئَكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا، فَإِذَا فِيهِ: " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْدَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَةً عَبَّادٌ يَشُكُّ لا دَاءَ وَلا غَائِلَةَ وَلا خِبْثَةَ بَيْعِ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ" .
ابو وہب کہتے ہیں کہ سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ نے مجھ سے کہنے لگے: کیا میں آپ کو وہ خط نہ پڑھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ کر دیا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے ایک خط نکالا جس میں لکھا تھا: یہ تحریر اس بارے میں ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا ہے، انہوں نے آپ سے غلام یا لونڈی خریدی تھی، مسلمانوں کی باہمی تجارت میں دھوکہ، برائی اور حیلہ بازی نہیں ہوتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1028]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 5/30، سنن الترمذي: 1216، سنن ابن ماجه: 2251، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔ اس روایت کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: والحديث حسن فى الجملة (تعليق التغليق: 3/219)۔ عباد بن لیث جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ اس کی متابعت منہال بن بحر (حسن الحدیث) نے کر رکھی ہے۔ المعجم الکبیر للطبرانی (18/12) اور السنن الکبریٰ للبیہقی (5/328) میں اس کا ایک شاہد بھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
31. باب الهجرة
ہجرت کا بیان
حدیث نمبر: 1029
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: ثني الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: ثني أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ؟ فَقَالَ:" وَيْحَكَ، إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتُعْطِي صَدَقَتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: تَمْنَحُ مِنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتْرُكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ہجرت کے متعلق پوچھا: آپ نے فرمایا: اللہ آپ پر رحم کرے، ہجرت کے تقاضے بہت سخت ہیں، کیا آپ کے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ان کی زکوۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: ان کا دودھ تحفہ بھی کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: پانی کے گھاٹ پر ان کا دودھ دوہ کر دیتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندروں کے پار رہ کر اعمال کرتے رہو، اللہ تعالیٰ آپ کے اعمال (کی جزا میں) میں کمی نہیں کرے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1029]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2633، صحیح مسلم: 1865»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 1030
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا" .
سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد (مکہ سے) ہجرت ختم ہو چکی ہے اور جب آپ کو (جہاد کے لیے) نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1030]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2783، صحیح مسلم: 1353»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
32. باب دوام الجهاد إلى يوم القيامة
قیامت تک جہاد کے جاری رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1031
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنَ جُرَيْجٍ ، أَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَيَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَيَقُولُ: لا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أَمِيرٌ لِتَكْرِمَةِ اللَّهِ هَذِهِ الأُمَّةِ" .
سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر جہاد کرتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا، مزید فرمایا: پھر عیسیٰ بن مریم آسمان سے اتریں گے، تو ان کا امیر کہے گا: آئیے! ہمیں نماز پڑھائیے، وہ کہیں گے: نہیں! اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عزت دی ہے کہ آپ کو ہی ایک دوسرے کا امیر بنایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1031]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 156»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
33. باب في ما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالدعاء إلى توحيد الله عز وجل والقتال عليها
اللہ کی توحید کی دعوت دینے اور اس پر قتال کرنے کے نبوی حکم کا بیان
حدیث نمبر: 1032
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنَ كَثِيرٍ ، قَالَ: أنا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ لا إله إلا الله کا اقرار کر لیں، جس نے لا إله إلا الله کا اقرار کر لیا اس نے اپنی جان اور مال کو مجھ سے ناحق ضائع ہونے سے بچا لیا اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 21/33»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح