🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب ما جاء في العتاقة
غلام آزاد کرنے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ" .
سیدنا سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتہ دار (جن سے نکاح کرنا حرام ہے) کا مالک بنا، تو وہ غلام آزاد ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 973]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 5/15-20، سنن أبي داود: 3949، السنن الكبرى للنسائي: 4898-4901، سنن الترمذي: 1365، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (2/214) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ قتادہ کی متابعت موجود ہے، حسن بصری کی روایت سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی کتاب سے ہوئی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 974
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثنا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ" وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا" وَكَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتیں سننے کے بعد میں بنو تمیم سے محبت کرتا رہوں گا۔ (1) میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: میری امت میں سے وہ (بنو تمیم) دجال کے مقابلے میں سب سے زیادہ سخت ہوں گے، (2) ان کے صدقات آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔ (3) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان (بنو تمیم) میں سے ایک لونڈی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دیں، کیوں کہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2543، صحيح مسلم: 2525۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 975
حَدَّثَنَا يُوسُفُ ، قَالَ: ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثل ذَلِكَ.
یہ روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2543، صحيح مسلم: 2525۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ ، قَالَ: أنا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، قَالَ: ثنا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: " أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ" .
سیدنا ابو عبد الرحمن سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے آزاد کیا اور مجھ پر یہ شرط عائد کر دی کہ میں زندگی بھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کروں گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 5/221، سنن أبي داود: 3932، سنن ابن ماجه: 2526، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (2/213-214) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَرِيرَةَ وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگائی تھی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہا (کو آزاد کرنے) کے متعلق پوچھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء کا حقدار آزاد کرنے والا ہی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 977]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2578، صحيح مسلم: 1504/12۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 978
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 978]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6756، صحيح مسلم: 1506۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب المكاتب والمدبر
مکاتب اور مدبر (غلاموں کی اقسام) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 979
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: أنا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ: ثني سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ لِيَسْتَعِفَّ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الأَدَاءَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ پر لازم ہے: (1) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا (2) پاکدامنی کے لیے نکاح کرنے والا (3) مکاتب (غلام) جو (کتابت کی رقم ادا کرنا چاہتا ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/251-437، سنن النسائي: 3220، سنن الترمذي: 1655، سنن ابن ماجه: 2518، اس حدیث کو امام ترمدی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4030) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (2/160-161) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 980
حَدَّثَنَا ابْنُ هَاشِمٍ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ: ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
یہی روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 980]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: انظر الحديث السابق۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَتَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ، فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، قَالَتْ: فَقُلْتُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، وَيَكُونُ لِي وَلاؤُكِ، فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا فَكَلَّمَتْهُمْ فِي ذَلِكَ، فَأَبَوْا إِلا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلاءُ، فَأَتَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرَتْهَا بِالَّذِي قَالَ لَهَا أَهْلُهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَلا إِذًا، فَسَأَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْهُ بِالَّذِي قَالُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلانُ وَلِيَ الْوَلاءُ، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا (لونڈی) میرے پاس آکر کہنے لگی: میرے مالکوں نے میرے ساتھ نو سالوں میں نو اوقیہ چاندی (ادا کرنے) کے عوض مکاتبت کی ہے، جسے میں ہر سال ایک اوقیہ کی صورت میں ادا کروں گی، چنانچہ میری مدد کیجیے۔ میں نے کہا: اگر آپ کا مالک یہ چاہے کہ میں ساری رقم اسے ایک ہی مرتبہ ادا کر کے آپ کو آزاد کر والوں اور آپ کے ولاء کی نسبت مجھے مل جائے، تو میں یہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ وہ اپنے مالکوں کے پاس گئی اور ان سے اس بارے میں بات کی، تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کر دیا۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور اپنے مالکوں کا جواب انہیں بتایا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تب میں قیمت ادا نہیں کروں گی۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور ان (مالکوں) کی بات آپ کو بتائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اسے خرید کر آزاد کر دیں اور ان سے ولاء کی شرط لگا لیں، کیوں کہ ولاء کا حقدار آزاد کرنے والا ہی ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: آپ میں سے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں، جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے، خواہ سینکڑوں شرطیں ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کا فیصلہ ہی برحق ہے اور اللہ کی شرط ہی نہایت پختہ ہے، آپ میں سے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے: اے فلان! آزاد تو کر دے اور ولاء میری ہوگی ہاں لیں! ولاء اسی کی ہوتی ہے، جو آزاد کرتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 981]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2560، صحيح مسلم: 1504۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْمُكَاتَبِ إِذَا قُتِلَ أَنْ يُؤَدَّى بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةُ الْحُرِّ" ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لا يُقَامُ عَلَى الْمُكَاتَبِ إِلا حَدُّ الْمَمْلُوكِ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے: مکاتب (وہ غلام جس کا مالک سے معاہدہ ہو چکا ہو کہ وہ اتنی رقم مالک کو ادا کر کے آزاد ہو جائے گا) کو اگر قتل کر دیا جائے، تو جس قدر وہ آزاد ہو چکا ہے، اتنی دیت آزاد کی ادا کی جائے گی (اور جتنا غلام ہے اتنی غلام کی دیت ادا کی جائے گی) ابن عباس یہ فرماتے ہیں: مکاتب پر غلام والی حد لگائی جائے گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 982]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 1/260، سنن أبي داود: 4581، سنن النسائي: 4814۔ یحیی بن ابی کثیر مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں