🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب ما جاء في المواريث
وراثت کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 963
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: ثنا النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ شُمَيْلٍ ، قَالَ: أنا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قَالَ الأَسْوَدُ :" قَضَى فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ، قَالَ: قَضَى لابْنَتِهِ النِّصْفَ وَلِلأُخْتِ النِّصْفَ" .
اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہمارے ایک آدمی کا فیصلہ کیا، جو بیٹی اور بہن چھوڑ (کر مر) گیا تھا، کہ آدھا (مال) بیٹی کو ملے گا اور آدھا بہن کو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6741۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 964
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ، قَالَ: فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ فِي الأَعْرَاضِ، قَالَ: فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَ غُلامًا فِي حِجْرِ خَالٍ لَهُ لا يُعْلَمُ لَهُ أَصْلٌ، قَالَ: فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلِيُّ مَنْ لا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ" .
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ اپنے لڑکوں کو تیراکی اور اپنے جنگجوؤں کو تیر اندازی سکھائیں۔ راوی کہتے ہیں: وہ (لوگ) مال غنیمت کے متعلق جھگڑ رہے تھے کہ ایک نامعلوم تیر آیا، اس نے ایک لڑکے کو مار ڈالا جو کہ اپنے ماموں کے زیر پرورش تھا، اس کے باپ کا کوئی پتہ نہ تھا۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ میں اس کی دیت کس کے حوالے کروں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھ بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جس کا کوئی مولیٰ نہیں اللہ اور اس کا رسول اس کے مولیٰ ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو، ماموں اس کا وارث ہوتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 964]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيفٌ: مسند الإمام أحمد: 1/28، السنن الكبرى للنسائي: 6351، سنن الترمذي: 2103، سنن ابن ماجه: 2737۔ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5635) اور ابن حبان رحمہ اللہ (6037) نے صحیح کہا ہے۔ سفیان ثوری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيفٌ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً" ، وَقَالَ الْهَيْثَمُ: أَوْ كَلا فَإِلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ، أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ.
سیدنا مقدام کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مؤمن کے لیے اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ حقدار ہوں، جو قرض یا عیال چھوڑ گیا (ہیثم نے کلا کا لفظ بولا ہے) تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور جو (مسلمان) مال چھوڑ گیا، تو وہ اس کے ورثا کا ہے، جس کا کوئی مولیٰ (وارث) نہ ہو، تو میں اس کا مولیٰ ہوں۔ میں اس کے مال کا وارث بنوں گا، اس کے قیدی کو چھڑاؤں گا، جس کا کوئی مولیٰ (وارث) نہ ہو، تو ماموں اس کا مولیٰ ہوگا، وہ اس کے مال کا وارث ہوگا اور اس کے قیدی کو چھڑائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 965]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 4/131، سنن أبي داود: 2900، السنن الكبرى للنسائي: 6356، سنن ابن ماجه: 2738، اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5633) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (6035) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (4/344) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، صحیح ابی عوانہ (5636) اور صحیح ابن حبان (6036) میں بسند حسن اس کا شاہد بھی آتا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ، وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا، حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ الْكِلابِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ " يُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دیت کے حقدار عاقلہ (باپ کی طرف سے رشتہ دار) ہیں، بیوی کو خاوند کی دیت سے وراثت نہیں ملے گی، حتی کہ ضحاک کلابی رضی اللہ عنہ نے آپ کو بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت سے وارث بناؤں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 966]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح وللحديث شواهد: مسند الإمام أحمد: 3/452، سنن أبي داود: 2927، سنن الترمذي: 2110، سنن ابن ماجه: 2642، اس حدیث کو امام ترمدی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے۔ السنن الکبری للنسائی (6364) میں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور زہری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح وللحديث شواهد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحَ مَكَّةَ: " لا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ، وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهَا وَمَالِهَا مَا لَمْ يَقْتُلْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ لَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ وَمَالِهِ شَيْئًا، وَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز فرمایا تھا: دو ادیان کے پیروکار ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے عورت اپنے خاوند کی دیت اور مال کی وارث بنے گی اور خاوند بیوی کی دیت اور مال کا وارث بنے گا، جب تک ان میں سے کسی نے دوسرے کو قتل نہ کیا ہو، اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو، تو وہ اس کی دیت اور مال میں سے کچھ بھی وارث نہیں بنے گا، اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو غلطی سے قتل کیا ہو، تو وہ اس کے مال کا وارث تو بنے گا، دیت کا وارث نہیں بنے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/178، 195، سنن أبي داود: 2911، سنن ابن ماجه: 2731، سنن الدارقطنی: 4/7372، حسن بن صالح بجلی راوی ”حسن الحدیث“ ہے، اسے امام ابن شاہین رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔ عمر بن سعید طائی راوی بھی ثقہ ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب ما جاء في العتاقة
غلام آزاد کرنے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 968
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ، حَتَّى أَنَّهُ لَيُعْتِقُ بِالْيَدِ الْيَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَالْفَرْجِ الْفَرْجَ" ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَا سَعِيدُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عِنْدَ ذَلِكَ لِغُلامٍ لَهُ إِمْرَةِ غِلْمَانِهِ: ادْعُ لِي مُطَرِّفًا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مؤمن غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دیں گے، حتی کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ، ٹانگ کے بدلے ٹانگ اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ کو آزاد کر دیں گے۔ علی بن حسین رحمہ اللہ نے پوچھا: سعید! آپ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود یہ حدیث سنی ہے، تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تب علی بن حسین رحمہ اللہ نے اپنے غلاموں کے امیر سے کہا: مطرف کو میرے پاس بلائیں، جب وہ آپ کے سامنے آیا، تو آپ نے فرمایا: جائیے، آپ اللہ کی خاطر آزاد ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2517، صحيح مسلم: 1509۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَنِي أَبِي ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ، قَالَ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَغْلاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِينُ ضَائِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: تُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ انہوں نے پوچھا: کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ فرمایا جو زیادہ قیمتی اور اپنے مالکوں کو زیادہ پیارا ہو۔ وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اگر میں ایسا (غلام آزاد) نہ کر سکوں تو؟ فرمایا: کسی ضائع ہونے والے کی مدد کر دیں، یا کسی بے ہنر کا کام کر دیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں اس سے بھی عاجز آ جاؤں (یعنی یہ بھی نہ کر سکوں)؟ فرمایا: برائی سے باز رہیں، یہ ایسا صدقہ ہے، جو آپ خود اپنے اوپر ہی کریں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2818، صحيح مسلم: 84۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 970
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ شُرَكَاءَ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ مَا بَقِيَ مِنْهُ إِذَا كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ذَلِكَ، وَإِلا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام میں کئی حصہ دار شامل ہوں، ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے، اگر اس کے پاس غلام کی (باقی) قیمت کے برابر مال ہے، تو اس کا باقی حصہ آزاد کروانا بھی اسی کے ذمہ ہے، ورنہ (اگر مال نہ ہو تو) اس کی طرف سے جتنا آزاد ہو گیا، اتنا ہی آزاد ہوگا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 970]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2522، صحيح مسلم: 1501۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 971
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يُجْزِئُ وَلَدٌ وَالِدًا إِلا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹا باپ کا حق صرف اس صورت میں ہی ادا کر سکتا ہے کہ اسے غلام پائے، تو خرید کر آزاد کر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 971]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1510۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ: ثنا ضَمْرَةُ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ عَتِيقٌ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتہ دار (جن سے نکاح کرنا حرام ہے اگر ان میں سے ایک عورت ہو) کا مالک بنا، تو وہ غلام آزاد ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 972]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: السنن الكبرى للنسائي: 4897، سنن ابن ماجه: 2525، السنن الكبرى للبيهقي: 10/289۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو منکر کہا ہے۔ سفیان بن سعید ثوری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں