المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في الأحكام
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: ثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَبَسَ رَجُلا فِي تُهْمَةٍ سَاعَةً، ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ" .
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت لگانے کے جرم میں تھوڑی دیر کے لیے قید کیا، پھر چھوڑ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 2/5، سنن أبي داود: 3630، السنن الكبرى للنسائي: 4879-4880، سنن الترمذي: 1417، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام حاکم رحمہ اللہ (10214) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ معمر بن راشد کی اہل بصرہ سے روایت میں کلام ہے۔ بہز بن حکیم بصری ہیں۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، قَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا افْتَرَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِيدَانَ، فَقَالَ لَهُ: بَيِّنَتُكَ، قَالَ: لَيْسَ لِي، قَالَ: يَمِينُهُ، قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، قَالَ: لَيْسَ لَكَ إِلا ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ يَحْلِفُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظُلْمًا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ" .
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ دو آدمی آپ کے پاس زمین کا جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ایک جس کا نام امرؤ القیس بن عابس کندی تھا، کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کا مد مقابل ربیعہ بن عیدان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: آپ کے پاس دلیل ہے؟ اس نے کہا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس سے قسم لی جائے گی۔ وہ کہنے لگا: تو وہ زمین لے جائے گا، فرمایا: آپ کے پاس صرف یہی صورت ہے۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زیادتی کرتے ہوئے کسی سے زمین چھین لی، قیامت والے دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اللہ اس سے ناراض ہو گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 139/224»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: ثنا الْحَارِثُ بْنُ سَلْمَانَ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ: ثنا كُرْدُوسٌ ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، فَقَالَ لِلْكِنْدِيِّ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَقُولُ: إِنَّهَا أَرْضٌ فِي يَدِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي، فَقَالَ لِلْحَضْرَمِيِّ: هَلْ لَكَ مِنْ بَيِّنَةٍ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنْ لِيَحْلِفْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ مَالا بِيَمِينِهِ إِلا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ" ، فَرَدَّهَا الْكِنْدِيُّ.
سیدنا اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ کندہ اور حضرموت سے ایک ایک آدمی اپنی یمن کی زمین کے متعلق مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرمی کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے والد نے میری زمین پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندی سے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: میں یہ کہتا ہوں کہ زمین میرے قبضے میں ہے اور مجھے اپنے باپ سے ورثہ میں ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: کیا آپ کے پاس کوئی دلیل ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! دلیل تو نہیں ہے، لیکن یہ اس ذات کی قسم کھائے، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ نہیں جانتا یہ زمین میری ہے، اس کے والد نے مجھ سے زبردستی چھین لی تھی۔ کندی قسم کے لیے تیار ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی سے مال چھینتا ہے، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ تو کندی نے زمین اسے واپس کر دی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/215، سنن أبي داود: 3622، السنن الكبرى للبيهقي: 10/180، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5088) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (4/295) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا، الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، قَالا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُباب ، قَالَ: أنا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: أَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ" ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَلَفٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، فَقَالَ: كَانَ عِنْدَنَا ثَابِتًا مِمَّنْ يَصْدُقُ وَيَحْفَظُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ فرما دیا۔ (کسی فیصلہ کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے اگر دو گواہ نہ ہوں، تو ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔) علی بن عبد الله کہتے ہیں: میں نے یحیی بن سعید سے سیف بن سلیمان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: وہ ہمارے نزدیک ثابت تھا، سچے اور حافظ لوگوں میں سے تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1712»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 1007
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ فرما دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح سنن أبي داود: 3610، سنن الترمذي: 1343، سنن ابن ماجه: 2368، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (6015) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5073) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح سنن أبي داود
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور گواہ پر فیصلہ فرما دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 3/305، سنن الترمذي: 1344، سنن ابن ماجه: 2369»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1009
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: أنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: ثني ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بستی والوں کے خلاف خانہ بدوش کی گواہی جائز نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح سنن أبي داود: 3602، سنن ابن ماجه: 2367»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح سنن أبي داود
حدیث نمبر: 1010
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: ثني عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثُمَّ قَالَ: لَمْ يُحَدِّثْنِي، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ:" كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ؟ قَالَ: فَنَهَاهُ عَنْهَا" .
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو إہاب کی بیٹی سے شادی کی، کالے رنگ کی ایک عورت آکر کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے پھر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ موڑ لیا، تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ تیرے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ پس آپ نے اسے اس (بیوی کے ساتھ رہنے) سے منع کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2659»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ عُقْبَةَ أَيْضًا، قَالَ" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ تَحَوَّلْتُ مِنَ الْجَانِبِ الآخَرِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: " فَكَيْفَ يُصْنَعُ بِقَوْلِ هَذِهِ؟ دَعْهَا عَنْكَ" ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ؟.
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی، کالے رنگ کی ایک عورت آکر کہنے لگی کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا اور عرض کی: وہ جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے دوسری طرف سے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! وہ جھوٹی ہے، فرمایا: اس (عورت) کی بات کا کیا کیا جائے؟ اسے طلاق دے دیں۔ معمر کہتے ہیں: میں نے ایوب سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ آپ کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5104»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 1012
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَى قَوْمٍ الْيَمِينَ، فَأَسْرَعَ الْفَرِيقَانِ جَمِيعًا، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي الْيَمِينِ أَيُّهُمْ يَحْلِفُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں پر قسم پیش کی، تو دونوں ہی گروہ قسم کھانے میں تیزی دکھانے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے درمیان قرعہ ڈالا جائے کہ قسم کون اٹھائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1012]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2674»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح