المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. باب اللعان
لعان (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر الزام کا معاملہ) کا بیان
حدیث نمبر: 753
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنَيْنِ، وَقَالَ: " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: لا مَالَ لَكَ عَلَيْهَا، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كاذِبًا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کو جدا جدا کر دیا اور انہیں فرمایا: آپ کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے، آپ میں ایک تو جھوٹا ہے، اب آپ کو بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرا مال (مہر تو واپس دلوا دیں) فرمایا: ان کے ذمہ آپ کا کوئی مال نہیں ہے، اگر آپ سچے ہیں، تو وہ مال ان کی شرمگاہ کے بدلے میں گیا، جو آپ نے حلال کی ہے اور اگر آپ جھوٹے ہیں، تو وہ مال (مانگنا) آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5312، صحيح مسلم: 1493»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 754
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلا لاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچے کا انکار کیا (کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو الگ الگ کر دیا اور بچہ عورت کو دے دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 754]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5315، صحيح مسلم: 1497»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 755
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: أَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ثني الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلانِيِّ وَامْرَأَتِهِ، وَكَانَتْ حُبْلَى" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عویمر) عجلانی اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا اور وہ حاملہ تھیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6855، صحيح مسلم: 1497»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: ثني الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَلاعَنَهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ حَبَسْتَهَا فَقَدْ ظَلَمْتَهَا" قَالَ: فَطَلَّقَهَا، فَكَانَ بَعْدُ سُنَّةً لِمَنْ كَانَ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلا وَقَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلا وَقَدْ كَذَبَ" قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، قَالَ: وَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدُ إِلَى أُمِّهِ .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا، کہتے ہیں: انہوں (عویمر) نے اپنی بیوی سے لعان کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر (اب) آپ نے اسے اپنے نکاح میں رکھا، تو اس پر ظلم ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اسے طلاق دے دی، اس کے بعد ہر لعان کرنے والے کے لیے یہی دستور رائج ہو گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھیں اگر اس (عورت) نے کالے رنگ والا، شدید کالی آنکھوں والا، بھاری کولہوں والا اور موٹی موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنا، تو میں عویمر کو سچا سمجھوں گا، اگر اس نے سرخ رنگ اور بدصورت (پست قد) بچہ جنا، تو میں عویمر کو جھوٹا سمجھوں گا۔ راوی کہتے ہیں: اس نے ان اوصاف پر مشتمل بچہ جنا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویمر کی تصدیق میں بیان کیے تھے۔ بعد میں اس (بچے) کو ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4747، صحيح مسلم: 1492»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
5. باب
باب
حدیث نمبر: 757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ح قَالَ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثنا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ: ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمْتُ بِإِسْلامِي، قَالَ: " فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت اسلام لائی اور اس نے شادی کر لی، اس کا (پہلا) خاوند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اس کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ہے اور اسے میرے اسلام کے متعلق علم بھی تھا (پھر بھی اس نے آگے شادی کر لی ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسرے خاوند سے لے کر پہلے خاوند کی طرف واپس پلٹا دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 757]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 232/1، سنن أبي داود: 2238، سنن الترمذي: 1144، سنن ابن ماجه: 2008، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4159) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (2002) نے ”صحيح الإسناد“ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ سماک بن حرب کی عکرمہ سے بیان کردہ روایت ضعیف ہوتی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «وَرِوَايَتُهُ عَنْ عِكْرِمَةَ خَاصَّةً مُضْطَرِبَةٌ» (تقريب التهذيب: 2624)، اس باب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مسند احمد (261، 21711)، سنن ابی داود (2240) وغیرہ میں بھی روایت آتی ہے، جو کہ منکر ہے، داؤد بن حصین کی عکرمہ سے روایت منکر ہوتی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
6. باب
باب
حدیث نمبر: 758
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ بْنَ الْغَسِيلِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ: الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسُوا هَهُنَا، فَدَخَلَ وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتِ النَّخْلِ بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَةٌ حَاضِنَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَبِي نَفْسَكِ لِي، قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: قَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا أُسَيْدٍ، اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا" .
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ایک باغ کی طرف چلے، جس کا نام شوط تھا، ہم دو باغات کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بیٹھ جائیں، خود اندر چلے گئے، جونیہ (عورت) کو لایا گیا اور اُمیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے کھجوروں کے گھر میں بٹھا دیا گیا، اس کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کرنے والی دائی بھی تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جسم مجھے ہبہ کر دیں۔ وہ کہنے لگی: ملکہ نے بھی کبھی رعیت کو اپنا جسم ہبہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ جھکایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہاتھ رکھ کر اسے سکون پہنچانا چاہتے تھے، تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے بہت بڑی ذات کی پناہ حاصل کی ہے۔ پھر (باہر) ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ابو اسید! انہیں دو کپڑے دے دیں اور انہیں ان کے گھر پہنچا دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 758]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5255»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
7. باب العدد
عدت کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ ، عَنِ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلاجٍ لَهُ فَأَدْرَكَهُمْ بِالْقَدُومِ، فَوَثَبُوا عَلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ شَاسِعٍ عَنْ أَهْلِهَا وَأَنَّهَا تُرِيدُ التَّحَوُّلَ إِلَيْهِمْ فَأَذِنَ لَهَا، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجُرَاتِ، أَوْ قَالَتْ: جَاوَزْتُ الْحُجُرَاتِ دَعَانِي، أَوْ قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ فَدَعَانِي، فَقَالَ لِي: " اعْتَدِّي فِي بَيْتِ زَوْجِكِ الَّذِي جَاءَكَ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي، فَحَدَّثْتُهُ.
فریعہ بنت مالک رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ان کا خاوند اپنے (حبشی) غلاموں کی تلاش میں نکلا تو انہیں قدوم نامی جگہ میں پا لیا، انہوں نے حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا، وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنا واقعہ بیان کیا، نیز بتایا کہ میں ایسے گھر میں رہتی ہوں، جو میرے گھر والوں سے دور ہے، لہذا میں اپنے میکے لوٹ جانا چاہتی ہوں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ فریعہ کہتی ہیں: جب میں حجروں کے پاس پہنچی یا ان سے آگے نکلی، تو آپ نے مجھے آواز دی یا بلا وا بھیجا اور فرمایا: اپنے خاوند کے گھر میں ہی عدت پوری کریں، جہاں آپ کو ان کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ فریعہ کہتی ہیں: سیدنا عثمان رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں مجھ سے (اس بارے میں) پوچھنے کے لیے پیغام بھیجا، تو میں نے ان کو بتا دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 759]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: موطأ الإمام مالك: 591/2، مسند الإمام أحمد: 370/6، سنن أبي داود: 2300، سنن الترمذي: 1204، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4292، 4293) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (208/2) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ اس حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ (3562) اور امام ابن ماجہ رحمہ اللہ (2031) نے بھی روایت کیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُطَرِّفٌ ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي"، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَلا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَتْ: فَكَرِهْتُ، ثُمَّ قَالَ: انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ" .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں غیر موجودگی میں بتہ طلاق دے دی اور اپنے وکیل کے ہمراہ کچھ جو بھیجے، تو وہ (یہ تھوڑے سے جو دیکھ کر) اس سے ناراض ہوئیں، اس نے کہا: الله کی قسم! ہمارے ذمہ آپ کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور سارا معاملہ آپ کے سامنے پیش کیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان کے ذمہ آپ کا کوئی نفقہ نہیں۔ اسے ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: وہ (ام شریک) ایسی خاتون ہیں کہ اس کے پاس میرے صحابہ بکثرت آتے جاتے ہیں، لہذا آپ ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار لیں، کیوں کہ وہ نابینا آدمی ہیں اگر آپ کسی وقت (فوری) کپڑے اتار بھی دیں، تو کوئی حرج نہیں اور جب عدت پوری کر لو، تو مجھے اطلاع دینا۔ وہ بیان کرتی ہیں: جب عدت مکمل ہو گئی تو میں نے آپ کو اطلاع دی کہ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان اور ابو جہم بن ہذیم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ابو جہم تو مارتا بہت ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس کوئی مال نہیں، لہذا آپ اسامہ بن زید سے نکاح کر لیں۔ فاطمہ نے کہا: مجھے وہ پسند نہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اسامہ بن زید سے شادی کر لیں۔ میں نے ان سے نکاح کر لیا، الله تعالیٰ نے اس میں اتنی خیر و برکت کی کہ میں ان پر رشک کرنے لگی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1480»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى وَلا نَفَقَةً" .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور نفقہ کا حق نہیں دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 761]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1480»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،" فَذَكَرُوا الرَّجُلَ يَتَوَفَّى عَنِ الْمَرْأَةِ فَتَلِدُ بَعْدَهُ بِلَيَالٍ قَلائِلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: حِلُّهَا آخِرُ الأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا وَضَعَتْ فَقَدْ حَلَّتْ، فَتَرَاجَعَا فِي ذَلِكَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعُ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا، فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةَ مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَنَفِسَتْ بَعْدَهُ لِلَيَالٍ، وَأَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يُكَنَّى أَبَا السَّنَابِلِ بْنَ بَعْكَكَ خَطَبَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا قَدْ حَلَّتْ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ غَيْرَهُ، فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ: فَإِنَّكِ لَمْ تَحِلِّي، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سُبَيْعَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ" .
سیدنا ابو سلمہ اور عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ کے پاس اکٹھے ہو گئے اور اس آدمی کا تذکرہ کرنے لگے جو فوت ہو جائے اور کچھ دن بعد اس کی بیوی بچہ جن دے (تو وہ عورت کون سی عدت گزارے) سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما کہنے لگے: اس کی عدت وہ ہوگی، جو دونوں (وضع حمل یا چار ماہ دس دن) میں سے بعد میں پوری ہوگی، ابو سلمہ کہنے لگے: جب بچہ پیدا ہو جائے گا، تو اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔ اس مسئلہ میں دونوں کے مابین تکرار ہو گئی تو سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے فرمانے لگے: میں اپنے بھتیجے ابو سلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر انہوں نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما کے غلام کریب کو سیدہ ام سلمہ رضی الله عنها کے پاس پوچھنے کے لیے بھیجا، تو سیدہ ام سلمہ رضی الله عنها نے بتایا کہ سبیعہ بنت الحارث اسلمیہ کا خاوند فوت ہو گیا اور اس کے چند دن بعد ان کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا، تو بنو عبد الدار کے ایک آدمی، جس کی کنیت ابو السنابل بن بعکک تھی، نے انہیں شادی کا پیغام بھیجا اور انہیں بتایا کہ وہ حلال ہو چکی ہیں، سبیعہ نے کسی اور سے شادی کرنا چاہی، تو ابو سنابل کہنے لگا: آپ حلال نہیں ہوئیں، سبیعہ نے یہ بات رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ذکر کی، تو آپ نے انہیں شادی کرنے کا حکم دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 762]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4909، صحيح مسلم: 1485»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح