🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب العدد
عدت کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ: ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أُمِرَتْ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ" .
ربیع بنت معوذ رضی الله عنہما بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے دور میں خلع لے لیا، تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اسے ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 763]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن الترمذي: 1185، وقال: حديث الربيع الصحيح أنها أمرت أن تعتد بحيضة.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، وَابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ" وَقَالَ الْعَطَّارُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ.
سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت الله اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 764]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1491»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 765
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثنا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَاتَ نَسِيبٌ لَهَا، أَوْ قَرِيبٌ لَهَا، فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ، فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ إِلا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
سیدہ ام حبیبہ رضی الله عنها کا کوئی نسبی رشتہ دار یا کوئی قرابت دار فوت ہو گیا، تو انہوں نے (تین دن بعد) زرد رنگ منگوا کر اپنے رخساروں پر لگایا اور فرمانے لگیں: میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو عورت الله اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 765]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5334، صحيح مسلم: 1486»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 766
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَ: أنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثَةٍ إِلا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلا تَكْتَحِلْ، وَلا تَلْبَسْ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلا ثَوْبَ عَصَبٍ، وَلا تَمَسَّ طِيبًا إِلا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا" .
سیدہ ام عطیہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت الله اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی، نہ سرمہ لگائے گی، نہ رنگدار لباس پہنے گی، البتہ رنگے ہوئے سوت کا کپڑا (جو بنائی سے پہلے ہی رنگین ہو) پہن سکتی ہے، نہ خوشبو لگائے گی، مگر جب حیض سے پاک ہو (تو تھوڑی سی خوشبو لگا لے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5342، صحيح مسلم: 938»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 767
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ، قَالا: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، قَالَ: ثني بُدَيْلٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلا الْمُمَشَّقَةَ، وَلا الْحُلِيَّ، وَلا تَخْتَضِبُ، وَلا تَكْتَحِلُ" ، قَالَ: وَثَنِي بُدَيْلٌ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ، قَالَ: لَمْ أَرَهُمْ يَرَوْنَ بِالصَّبِرِ بَأْسًا.
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا خاوند فوت ہو جائے، وہ زرد یا گیر و رنگ کیے ہوئے کپڑے نہ پہنے، نہ زیور پہنے، نہ مہندی لگائے اور نہ سرمہ لگائے۔ حسن بن مسلم کہتے ہیں: میرے خیال میں ان کے ہاں ایلوا لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 767]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 302/6، سنن أبي داود: 2304، سنن النسائي: 3565، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4306) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثني حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرُوا الْكُحْلَ، فَقَالُوا: نَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، قَالَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلاسِهَا أَوْ فِي أَحْلاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا حَوْلا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ، أَفَلا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
سیدہ ام سلمہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، (عدت میں) اس کی آنکھیں درد کرنے لگیں تو لوگوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے سامنے کرتے ہوئے سرمہ ڈالنے کا ذکر کیا، نیز کہنے لگے: ہمیں اس کی آنکھوں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت (دور جاہلیت میں) سال بھر اپنے گھر میں گندے کپڑوں میں رہا کرتی تھی، یا یوں فرمایا: گندے کپڑوں میں اور گندے گھر میں رہا کرتی تھی، جب کوئی کتا گزرتا، تو وہ مینگنی پھینکتی (تب عدت پوری ہوتی) اور اب چار ماہ دس دن بھی نہیں گزار سکتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5338، صحيح مسلم: 1488»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثني أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: ثني عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا" .
سیدنا عمرو بن العاص رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم پر ہمارے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی سنت مشتبہ نہ کرو، ام ولد (جس کی مالک سے اولاد ہو) کا خاوند فوت ہو جائے، تو اس کی عدت وہی ہے، جو اس (آزاد) عورت کی ہے، جس کا خاوند فوت ہو جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 769]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف لأنه مرسل: سنن أبي داود: 2308، سنن ابن ماجه: 2083، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4300) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (208/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ (سنن: 310/4) فرماتے ہیں: «وَهُوَ مُرْسَلٌ لِأَنَّ قَبِيصَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو» امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے منکر کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف لأنه مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب في الديات
دیتوں (خون بہا) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ: أَنِي أَبُو رِمْثَةَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي، قَالَ: ابْنُكَ؟ قُلْتُ: أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: " لا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلا تَجْنِي عَلَيْهِ، قَالَ: وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ الأَحْمَرَ" .
سیدنا ابو رِمْثَةَ تیمی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا: آپ اس پر گواہ رہیں، فرمایا: آپ کو اس کے گناہ میں اور اسے آپ کے گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا۔ کہتے ہیں: میں نے سرخ بڑھاپا دیکھا (آپ نے مہندی لگائی ہوئی تھی)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 770]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 226/2، 228، 163/4، سنن أبي داود: 4207، سنن النسائي: 4832، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (2812) نے حسن غریب، امام ابن حبان رحمہ اللہ (5995) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (607/2) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 771
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثني هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: سب مسلمانوں کے خون برابر ہیں، ان کا معمولی آدمی بھی پناہ دینے کا حق رکھتا ہے اور وہ غیر مسلم کے مقابلہ میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 771]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 180/2، 191، 211، 215، مسند حسن الطيالسي: 2372، سنن أبي داود: 2751، سنن ابن ماجه: 2685، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2280) نے صحیح کہا ہے، ہشیم بن بشیر کی متابعت موجود ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفُ مِنْ قُرَيْظَةَ، فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ وُدِيَ بِمِائَةِ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلا مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ، فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ، فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 قَالَ، فَالْقِسْطُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نزلت أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50" .
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں قریظہ اور نضیر (یہودیوں کے دو قبیلے) تھے، نضیر قریظہ سے زیادہ معزز تھے، جب کبھی نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا، تو سو وسق کھجور اس کا فدیہ دے دیا جاتا اور جب کبھی قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا، تو اسے اس (مقتول) کے بدلے میں قتل کر دیا جاتا، جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مبعوث ہوئے، تو نضیر کے آدمی نے قریظہ کا آدمی قتل کر دیا، انہوں نے کہا: اسے ہمارے حوالے کرو، ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فیصلہ ہیں، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ (المائدة: 42) (آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں، تو انصاف سے فیصلہ کریں) اور انصاف یہ ہے کہ جان کے بدلے جان، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ (المائدة: 50) (کیا یہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟) [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 772]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 4494، سنن النسائي: 4736، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5057) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (366/4، 367) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ سماک بن حرب کی عکرمہ سے بیان کردہ روایت ضعیف ہوتی ہے، داؤد بن حصین کی عکرمہ سے بیان کردہ روایت اس کا ضعیف شاہد ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں