المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. باب في الحدود
حدود (شرعی سزاؤں) کا بیان
حدیث نمبر: 803
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا تَسْرِقُوا وَلا تَزْنُوا، قَرَأَ عَلَيْهِمُ الآيَةَ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے کہ آپ نے فرمایا: آپ اس بات پر میری بیعت کریں کہ الله کے ساتھ شرک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے اور زنا نہیں کریں گے، آپ نے ان کے سامنے آیت بھی تلاوت کی، جو اس بیعت کو پورا کرے گا اس کا اجر الله تعالیٰ کے ذمہ ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہوا اور اسے سزا بھی مل گئی تو وہ (سزا) اس کا کفارہ بن جائے گی، جو ان میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہوا اور الله تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ الله کے سپرد ہے، خواہ اسے سزا دے خواہ معاف کر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 4894، صحیح مسلم: 1709/41»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا، فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ فَكَلَّمُوهُ، فَكَلَّمَ أُسَامَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُسَامَةُ، أَلا أَرَاكَ تُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِنَّهُ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا" ، قَالَ: فَقَطَعَ يَدَ الْمَخْزُومِيَّةِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت، جو ادھار سامان لے کر انکار کر دیا کرتی تھی نے چوری کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، اس کے گھر والے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپ سے (معافی کی) بات کی، تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسامہ! کیا آپ مجھ سے اللہ تعالیٰ کی حد کے متعلق بات (سفارش) کر رہے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: آپ سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی خاندانی آدمی چوری کرتا، تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا، تو اس کے ہاتھ کاٹ دیتے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر (چوری کرنے والی) فاطمہ بنت محمد ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ راوی کہتے ہیں: آپ نے مخزومی عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6788، صحیح مسلم: 1688»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 805
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریشیوں کو اس عورت کے معاملے نے پریشان کر دیا، جس نے چوری کی تھی، چنانچہ انہوں نے کہا: اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون بات کرے گا؟ راویوں نے مکمل حدیث بیان کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6788، صحیح مسلم: 1688»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 806
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ يَعْنِي يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریشیوں کو اس عورت کے معاملے نے پریشان کر دیا، جس نے چوری کی تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6787، صحیح مسلم: 1688/2»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 807
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " مَا خَيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، وَلا اقْتَصَّ مِنْ رَجُلٍ مَظْلَمَةً إِلا شَيْئًا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، فَلَيْسَ يَتْرُكُ ذَلِكَ لأَحَدٍ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں اختیار دیا گیا، تو آپ نے ان میں سے آسان کام کو اختیار کیا۔ آپ نے حدود اللہ کے علاوہ کسی بھی آدمی سے اس کی زیادتی کا بدلہ نہیں لیا، آپ کسی کی حد کو معاف نہیں کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6786، صحیح مسلم: 2327»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی مرفوع القلم ہیں؛ (یعنی قابل مواخذہ نہیں) سویا ہوا آدمی حتیٰ کہ وہ بیدار ہو جائے، بچہ حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے، مجنون (دیوانہ) حتیٰ کہ اسے عقل آجائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف وللحديث شواهد ضعيفة: مسند الإمام أحمد: 100/6، 101، سنن أبي داود: 4398، سنن النسائي: 3462، سنن ابن ماجه: 2041، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (142) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (59/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حماد بن ابی سلیمان اور ابراہیم بن یزید نخعی دونوں مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ مسند علی بن الجعد (741) میں بسندِ صحیح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ قول آتا ہے: «أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ وُضِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَفِيقَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ» .»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف وللحديث شواهد ضعيفة
حدیث نمبر: 809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " عَرَضَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَلَمْ يُجِزْنِي، فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَرَضَنِي وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي"، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعُمَرُ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدَّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنِ افْرِضُوا لابْنِ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَأَلْحِقُوهُ بِالْعِيَالِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میں چودہ برس کا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگ کے لیے پیش ہوا، تو آپ نے مجھے اجازت نہیں دی، پھر غزوہ خندق کے دن میں پندرہ برس کا تھا، میں آپ کے سامنے پیش ہوا، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران میں ان کے پاس آیا اور ان کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا: یہ بچے اور جوان کے درمیان حد ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے عمال (گورنروں) کو لکھ بھیجا کہ پندرہ سال کے بچے کا وظیفہ لگا دو اور جو اس سے چھوٹا ہے، اسے گھر والوں کے ساتھ ہی رہنے دو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 2664، صحیح مسلم: 1868»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
12. باب حد الزاني البكر والثيب
کنوارے اور شادی شدہ زانی کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 810
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أنا مَنْصُورٌ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَيُنْفَيَانِ عَامًا" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سیکھ لیں، اللہ تعالیٰ نے ان (زانیہ) عورتوں کے لیے راستہ نکال دیا ہے، شادی شدہ مرد اگر شادی شدہ عورت سے زنا کرے، تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں گے، پھر رجم کیا جائے گا اور کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی سے زنا کرے، تو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 810]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1690»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 811
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَشِبْلٍ ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي، قَالَ: قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ مِائَةَ شَاةٍ وَخَادِمٍ، فَسَأَلْتُ رِجَالا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ: لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، " الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا زید بن خالد اور سیدنا شبل رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجیے، اس کا مد مقابل جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا، وہ بھی کھڑا ہو کر کہنے لگا: ٹھیک ہے، آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجیے اور مجھے (بات کی) اجازت دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہیے، اس نے کہا: میرا بیٹا ان کے ہاں ملازم تھا، وہ ان کی بیوی کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو گیا، مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہے، تو میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک غلام دیا ہے، اس کے بعد میں نے علما سے پوچھا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس کی عورت پر رجم کی سزا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم واپس ہوں گے اور آپ کے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، انیس! آپ اس آدمی کی بیوی کے پاس جائیں، اگر وہ اعتراف کر لے، تو اسے سنگسار کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6827، صحیح مسلم: 1697»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: إِنَّا لا نَجْدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ، أَلا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَمْلُ أَوِ الاعْتِرَافُ، أَلا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مَعَهُ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یوں نہ کہنے لگے: ہم کتاب اللہ میں رجم کا حکم نہیں پاتے، چنانچہ وہ اللہ کے نازل کردہ فریضہ کا انکار کر کے گمراہ ہو جائے سن لیں! جو بھی شادی شدہ زنا کرے اور اس پر دلیل مل جائے، یا حمل ہو جائے، یا وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کرنا حق ہے، سن لیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ رجم کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 812]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6830، صحیح مسلم: 1691»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح