مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
12. من رخص للرجل أن يطلق ثلاثا في مجلس
جن حضرات کے نزدیک تین طلاقیں دینے میں کوئی حرج نہیں
ترقیم عوامۃ: 18094 ترقیم الشثری: -- 18744
١٨٧٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو اسامة عن هشام قال: سئل محمد عن الرجل يطلق امراته ثلاثا في مقعد واحد قال: لا اعلم بذلك باسا، قد طلق عبد الرحمن بن عوف امراته ثلاثا، فلم يعب عليه ذلك (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ ابن سيرين عن عبد الرحمن بن عوف منقطع.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو اسامة، عن هشام، قال: سئل محمد عن الرجل يطلق امراته ثلاثا في مقعد واحد؟ قال: لا اعلم بذلك باسا , قد " طلق عبد الرحمن بن عوف امراته ثلاثا فلم يعب عليه ذلك".
حضرت محمد رحمہ اللہ سے ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں اور انہیں اس پر کسی قسم کی مذمت کا سامنا نہ ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18744، ترقيم محمد عوامة 18094)
ترقیم عوامۃ: 18095 ترقیم الشثری: -- 18745
١٨٧٤٥ - [حدثنا ابو بكر قال: نا ابو اسامة عن ابن عون عن محمد قال: كان لا يرى بذلك باسا] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [ز].
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو اسامة، عن ابن عون، عن محمد، قال:" كان لا يرى بذلك باسا"
حضرت محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18745، ترقيم محمد عوامة 18095)
ترقیم عوامۃ: 18096 ترقیم الشثری: -- 18746
١٨٧٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن عبد الله بن ابي السفر عن الشعبي في رجل اراد ان تبين منه امراته قال: يطلقها ثلاثا.
حدثنا ابو بكر، قال: نا غندر، عن شعبة، عن عبد الله بن ابي السفر، عن الشعبي، في رجل اراد ان تبين منه امراته؟ قال:" يطلقها ثلاثا"
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس کی بیوی اس سے جدا ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18746]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18746، ترقيم محمد عوامة 18096)
13. في (الرجل) يطلق امرأته مائة أو ألفا في قول واحد
اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کوایک جملے میں سو یا ہزار طلاقیں دیں تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 18097 ترقیم الشثری: -- 18747
١٨٧٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال: اتاه رجل فقال: إني طلقت امراتي تسعة وتسعين مرة قال: فما قالوا لك؟ قال: قالوا: قد حرمت عليك، قال: فقال عبد الله: لقد ارادوا ان (يبقوا) (١) عليك، بانت منك بثلاث وسائرهن (عدوان) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [خ]: (يشقوا).
(٢) في [أ، ب، س، ط، ك]: (عدوانًا).
(٣) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو معاوية، عن الاعمش، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله ، قال: اتاه رجل , فقال: إني طلقت امراتي تسعة وتسعين مرة، قال:" فما قالوا لك"؟ قال: قالوا: قد حرمت عليك، قال: فقال عبد الله:" لقد ارادوا ان يبقوا عليك ؛ بانت منك بثلاث وسائرهن عدوان"
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ننانوے مرتبہ طلاق دے دی ہے! انہوں نے اس سے پوچھا کہ تجھے لوگوں نے کیا کہا؟ اس نے کہا کہ مجھے لوگوں نے کہا کہ تیری بیوی تجھ پر حرام ہوگئی۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تجھ پر رحم کریں، وہ تین طلاقوں کے بعد ہی بائنہ ہوگئی تھی، باقی طلاقیں گناہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18747، ترقيم محمد عوامة 18097)
ترقیم عوامۃ: 18098 ترقیم الشثری: -- 18748
١٨٧٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله انه سئل عن رجل طلق امراته مائة تطليقة قال: حرمتها ثلاث وسبعة (١) و (تسعون) (٢) (عدوان) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ.
(٢) في [أ، ب، س، ط، ك]: (تسعين).
(٣) في [أ، ب، س، ط، ك]: (عدوانًا).
(٤) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا حفص، عن الاعمش، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله ، انه سئل عن رجل طلق امراته مائة تطليقة؟ قال:" حرمتها ثلاث، وسبعة وتسعون عدوان"
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دیں تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت تین طلاقوں سے حرام ہوجائے گی اور ستانوے طلاقیں گناہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18748]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18748، ترقيم محمد عوامة 18098)
ترقیم عوامۃ: 18099 ترقیم الشثری: -- 18749
١٨٧٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع (عن سفيان) (١) عن منصور والاعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: جاء رجل إلى عبد الله فقال: إني طلقت امراتي مائة فقال: بانت منك بثلاث وسائرهن (معصية) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (معاصية).
(٣) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن سفيان، عن منصور، والاعمش , عن إبراهيم، عن علقمة، قال: جاء رجل إلى عبد الله ، فقال: إني طلقت امراتي مائة؟ فقال:" بانت منك بثلاث وسائرهن معصية"
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں اب کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں سے بائنہ ہوگئی تھی باقی معصیت ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18749]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18749، ترقيم محمد عوامة 18099)
ترقیم عوامۃ: 18100 ترقیم الشثری: -- 18750
١٨٧٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع (عن سفيان) (١) عن سلمة بن كهيل عن زيد بن وهب ان رجلا بطالا كان بالمدينة، طلق امراته الفا (فرجع) (٢) إلى عمر فقال: إنما كنت العب، فعلا عمر راسه (٣) (بالدرة) (٤) وفرق بينهما (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ.
(٢) في [أ، ب، ك]: (فرفع).
(٣) في [أ، ب، س]: زيادة (بألف).
(٤) في [أ، ب]: (درة).
(٥) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن زيد بن وهب، ان رجلا بطالا كان بالمدينة طلق امراته الفا، فرفع إلى عمر؟ فقال: إنما كنت العب! فعلا عمر راسه بالدرة , وفرق بينهما"
حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بہت زیادہ ہنسی مزاح کرنے والا آدمی تھا۔ اس نے اپنے بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، اس کا معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ میں تو مزاح کررہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سر پر کوڑا مارا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18750]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18750، ترقيم محمد عوامة 18100)
ترقیم عوامۃ: 18101 ترقیم الشثری: -- 18751
١٨٧٥١ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن الاعمش عن حبيب قال: جاء رجل إلى علي فقال: إني طلقت امراتي الفا قال: بانت منك بثلاث واقسم (سائرها) (١) بين نسائك (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (سائرهن).
(٢) منقطع؛ حبيب عن علي منقطع.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن الاعمش، عن حبيب، قال: جاء رجل إلى علي ، فقال: إني طلقت امراتي الفا، قال:" بانت منك بثلاث , واقسم سائرها بين نسائك"
حضرت حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دی ہیں، اب کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں سے ہی بائنہ ہوگئی تھی اور باقی طلاقیں اپنی دوسری بیویوں کے درمیان تقسیم کردے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18751]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18751، ترقيم محمد عوامة 18101)
ترقیم عوامۃ: 18102 ترقیم الشثری: -- 18752
١٨٧٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا عباد بن العوام عن هارون بن عنترة عن ابيه قال: كنت جالسا عند ابن عباس فاتاه رجل فقال: يا ابن عباس إنه طلق امراته مائة مرة، وإنما قلتها مرة واحدة، فتبين مني بثلاث (١) هي واحدة؟ فقال: بانت (منك) (٢) بثلاث، وعليك وزر سبعة (٣) وتسعين (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (أم).
(٢) في [أ، ب، ط، ك]: زيادة (منك).
(٣) كذا في النسخ.
(٤) صحيح؛ هارون وأبوه ثقتان.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عباد بن العوام، عن هارون بن عنترة، عن ابيه، قال: كنت جالسا عند ابن عباس ، فاتاه رجل، فقال: يا ابن عباس، إنه طلق امراته مائة مرة وإنما قلتها مرة واحدة فتبين مني بثلاث هي واحدة؟ فقال:" بانت بثلاث , وعليك وزر سبعة وتسعين"
حضرت عنترہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں، میں نے یہ ایک ہی جملے میں دی ہیں، کیا وہ تین طلاقوں کے ذریعے مجھ سے بائنہ ہوگئی جبکہ وہ ایک ہی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں کے ذریعے تجھ سے بائنہ ہوگئی اور تجھ پر ستانوے طلاقوں کا گناہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18752]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18752، ترقيم محمد عوامة 18102)
ترقیم عوامۃ: 18103 ترقیم الشثری: -- 18753
١٨٧٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن سفيان قال: حدثني عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إني طلقت امراتي الفا (او) (١) مائة قال: بانت منك بثلاث وسائرهن (وزر) (٢) اتخذت آيات الله هزوا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (و).
(٢) في [أ، ب، ك]: (وزرًا).
(٣) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن سفيان، قال: حدثني عمرو بن مرة، عن سعيد بن جبير، قال: جاء رجل إلى ابن عباس ، فقال: إني طلقت امراتي الفا اومائة؟ قال: بانت منك بثلاث , وسائرهن وزر اتخذت آيات الله هزوا"
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ہزار یا سو طلاقیں دے دی ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں سے بائنہ ہوگئی ہے اور باقی گناہ ہیں، تونے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18753]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18753، ترقيم محمد عوامة 18103)