صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ وَأَسْلَمَ وُجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ وَمُزَيْنَةَ وَتَمِيمٍ وَدَوْسٍ وَطَيِّئٍ:
باب: قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طی کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2523 ترقیم شاملہ: -- 6449
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لِي: " إِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّئٍ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عدی بن حاتم سے روایت ہے، کہا: میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: سب سے پہلا صدقہ (باقاعدہ وصول شدہ زکاۃ) جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چہروں کو روشن کر دیا تھا بنو طے کا صدقہ تھا، جس کو آپ (عدی رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6449]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے مجھے بتایا، پہلا صدقہ، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اور آپ کے ساتھیوں کا چہرہ (مسرت سے) روشن ہوا، وہ طئی کا صدقہ ہے، جو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6449]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2523
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2524 ترقیم شاملہ: -- 6450
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَأَصْحَابُهُ، فقالوا: يا قَدِمَ الطُّفَيْلُ رَسُولَ اللَّهِ، " إِنَّ دَوْسًا قَدْ كَفَرَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا، فَقِيلَ: هَلَكَتْ دَوْسٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: حضرت طفیل (بن عمرو دوسی) رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی آئے اور آکر عرض کی: اللہ کے رسول! (ہمارے قبیلے) دوس نے کفر کیا اور (اسلام لانے سے) انکار کیا، آپ ان کے خلاف دعا کیجیے! (بعض لوگوں کی طرف سے) کہا گیا کہ اب دوس ہلاک ہو گئے۔ (لیکن) آپ نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور ان کو (یہاں) لا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6450]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت طفیل اور ان کے ساتھی رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دوس کے لوگ کفر پر اصرار کر رہے ہیں، ان کے خلاف دعا فرمائیں۔“ تو کہا گیا: دوس ہلاک ہو گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ» ”اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور انہیں یہاں لے آ۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6450]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2524
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2525 ترقیم شاملہ: -- 6451
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مِنْ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ، قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا، قَالَ: وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ".
حارث نے ابوزرعہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بنو تمیم کے ساتھ تین باتوں کی وجہ سے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں محبت کرتا آرہا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یہ میری امت میں سے دجال کے خلاف زیادہ سخت ہوں گے۔“ کہا: اور ان لوگوں کے صدقات (زکاۃ کے اموال) آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہماری اپنی قوم کے صدقات ہیں۔“ کہا: ان میں سے جنگ میں پکڑی ہوئی ایک باندی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی۔ آپ نے ان سے فرمایا: ”اسے آزاد کردو۔ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6451]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بنو تمیم سے تین باتوں کے سبب جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں، محبت کرتا رہوں گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”وہ میری امت میں سے سب سے زیادہ دجال کے لیے سخت ثابت ہوں گے۔“ اور آپ کے پاس ان کے صدقات پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں،“ اور ان میں سے ایک لونڈی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ملکیت میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، کیونکہ یہ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6451]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2525
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2525 ترقیم شاملہ: -- 6452
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ، سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
عمارہ نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: تین باتوں کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں، میں بنو تمیم سے مسلسل محبت کرتا آرہا ہوں، پھر اسی (سابقہ حدیث) کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6452]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں «بَنُو تَمِيمٍ» سے ان تین باتوں کے بعد، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں سنی ہیں، ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6452]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2525
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2525 ترقیم شاملہ: -- 6453
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ ، إِمَامُ مَسْجِدِ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ثَلَاثُ خِصَالٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي تَمِيمٍ، لَا أَزَالُ أُحِبُّهُمْ بَعْدُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: هُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالًا فِي الْمَلَاحِمِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الدَّجَّالَ.
شعبی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: تین صفات ہیں جو میں نے بنو تمیم کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں، اس کے بعد سے میں ان سے محبت کرتا ہوں اور (آگے) اسی معنی میں حدیث بیان کی، البتہ (شعبی نے) یہ کہا: ”وہ (مستقبل میں ہونے والی) بڑی جنگوں کے دوران میں لڑنے میں سب لوگوں سے زیادہ سخت ہوں گے۔“ اور انہوں نے دجال کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6453]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، بنو تمیم کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین خوبیاں سنی ہیں، اس کے بعد سے میں ان سے محبت کرتا ہوں، آگے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ لڑائیوں میں سب سے زیادہ سخت ہیں“ اور دجال کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6453]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2525
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
48. باب خِيَارِ النَّاسِ:
باب: بہتر لوگ کون ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 2526 ترقیم شاملہ: -- 6454
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ، إِذَا فَقِهُوا وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَكْرَهُهُمْ لَهُ، قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ ".
ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو معدنیات کی کانوں کی طرح پاؤ گے۔ پس جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب دین میں سمجھدار ہو جائیں اور تم بہتر اس کو پاؤ گے جو مسلمان ہونے سے پہلے اسلام سے بہت نفرت رکھتا ہو (یعنی جو کفر میں مضبوط تھا وہ اسلام لانے کے بعد اسلام میں بھی ایسا ہی مضبوط ہو گا جیسے سیدنا عمر اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما وغیرہ یا یہ مراد ہے کہ جو خلافت سے نفرت رکھے اسی کی خلافت عمدہ ہو گی)۔ اور تم سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دو رویہ ہو کہ ان کے پاس ایک منہ لے کر آئے اور ان کے پاس دوسرا منہ لے کر جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6454]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو معدنیات کی طرح پاؤ گے۔ تو جو لوگ جاہلیت کے دور میں بہتر تھے وہ اسلام کے دور میں بھی بہتر ہیں بشرط یہ کہ دین کی سوجھ بوجھ حاصل کر لیں، یا اس میں ملکہ پیدا کر لیں اور تم دین کے معاملے یا حکومت و اقتدار میں ان لوگوں کو بہتر پاؤ گے، جو اس کو سب سے زیادہ ناپسند کرتے تھے، جب کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوئے تھے اور تم بدترین لوگ ان کو پاؤ گے، جو دو رخے ہیں، جن کے دو چہرے ہیں، جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرے سے آتے ہیں اور ان کے پاس دوسرے چہرے سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6454]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2526
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2526 ترقیم شاملہ: -- 6455
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ، وَالْأَعْرَجِ، تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً حَتَّى يَقَعَ فِيهِ.
ابوزرعہ اور اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو معدنیات کی کانوں کی طرح پاؤ گے۔۔۔“ (آگے اسی طرح ہے) جس طرح زہری کی حدیث ہے، البتہ ابوزرعہ اور اعرج کی روایت میں ہے: ”تم اس (دین کے) معاملے میں سب لوگوں سے بہتر انہیں پاؤ گے جو اس (دین) میں داخل ہونے سے پہلے سب لوگوں سے بڑھ کر اس کو ناپسند کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6455]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2526
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
49. باب مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ:
باب: قریشی عورتوں کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2527 ترقیم شاملہ: -- 6456
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَعَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ "، قَالَ أَحَدُهُمَا: صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ، وقَالَ الْآخَرُ: نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ.
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور ابن طاوس نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان عورتوں میں سے بہترین جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں۔“ ان دونوں (اعرج اور طاوس) میں سے ایک نے کہا: قریش کی نیک عورتیں ہیں اور دوسرے نے کہا: قریش کی عورتیں ہیں۔ جو یتیم بچے کی کم عمری میں اس پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6456]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین عورتیں، جو اونٹوں پر سواری کرتی ہیں، وہ قریش کی پارسا عورتیں ہیں، یا قریشی عورتیں ہیں، جو یتیم پر بچپن میں بہت شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے ہاتھ کی چیزوں کی بہت حفاظت کرتی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6456]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2527 ترقیم شاملہ: -- 6457
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَرْعَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَلَمْ يَقُلْ يَتِيمٍ.
عمرو ناقد نے کہا: ہمیں سفیان نے ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے (آپ سے روایت کرتے تھے۔) اس (سابقہ روایت) کے مانند، اور ابن طاوس نے اپنے والد سے روایت کی جو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، مگر انہوں نے اس طرح کہا: ”وہ اپنے بچے کی اس کی کم سنی میں سب سے زیادہ نگہداشت کرنے والی ہوتی ہیں۔“ انہوں نے ”یتیم (پر)“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6457]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6457]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2527 ترقیم شاملہ: -- 6458
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ، أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ "، قَالَ: يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ، وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”قریش کی عورتیں اونٹوں پر سواری کرنے والی تمام عورتوں میں سب سے اچھی ہیں، بچے پر سب سے بڑھ کر مہربان ہیں اور اپنے خاوند کے لیے اس کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں۔“ (سعید بن مسیب نے) کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد کہا کرتے تھے: مریم بنت عمران علیہ السلام اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6458]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”قریشی عورتیں، اونٹ سوار عورتوں میں سے بہتر ہیں، وہ بچے پر بہت مہربان ہوتی ہیں اور خاوند کے ہاتھ کی چیزوں کی خوب حفاظت کرتی ہیں۔“ اس حدیث کے بیان کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے: حضرت مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6458]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة