🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ:
باب: قریشی عورتوں کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2527 ترقیم شاملہ: -- 6459
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِي عِيَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ.
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھجوایا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اب میں بوڑھی ہو گئی ہوں اور میرے بہت سے بچے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اونٹوں پر) سوار ہونے والی عورتوں میں سے بہترین۔۔۔“ پھر یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر یوں کیا: ”اس کی کم سنی میں بچے پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6459]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھجوایا، انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اب میں بوڑھی ہو گئی ہوں اور میرے بہت سے بچے ہیں“، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ» (اونٹوں پر) سوار ہونے والی عورتوں میں سے بہترین“ پھر یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر یوں کیا: ” «أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ» اس کی کم سنی میں بچے پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6459]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2527 ترقیم شاملہ: -- 6460
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح، وحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ".
معمر نے ابن طاوس سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، نیز معمر نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں پر سفر کرنے والی عورتوں میں سے بہترین، قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچے پر اس کی کم سنی میں زیادہ شفقت کرنے والی ہوتی ہیں اور اپنے خاوند کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6460]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ سوار عورتوں میں سے بہترین، قریش کی باصلاحیت عورتیں ہیں، بچے پر اس کے بچپن میں بہت مہربان اور خاوند کے مال و متاع کی بہت محافظ۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6460]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2527 ترقیم شاملہ: -- 6461
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، هَذَا سَوَاءً.
سہیل (بن ابی صالح) نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معمر کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6461]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت ہوبہو بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. باب مُؤَاخَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصحاب میں ایک دوسرے کو بھائی بنا دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2528 ترقیم شاملہ: -- 6462
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6462]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2529 ترقیم شاملہ: -- 6463
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ: قِيلَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ أَنَسٌ : قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ ".
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں عاصم احول نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں حلیف بننا بنانا (جائز) نہیں۔“؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکان میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6463]
عاصم احول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ» ”اسلام میں حلفِ دوستی کا اعتبار نہیں“؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان اخوت کا رشتہ میرے گھر میں قائم کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2529
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2529 ترقیم شاملہ: -- 6464
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ، فِي دَارِهِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ ".
عبدہ بن سلیمان نے عاصم سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں میرے گھر میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6464]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان میرے مدینے والے گھر میں دوستانہ قائم کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2529
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2530 ترقیم شاملہ: -- 6465
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً ".
سعد بن ابراہیم نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں ایک دوسرے کو حلیف بنانے کی ضرورت نہیں، جو شخص کا جاہلیت میں جو حلف تھا، اسلام نے اس کی مضبوطی میں اور اضافہ کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6465]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں دوستانہ کی ضرورت نہیں (کیونکہ اسلام خود اخوت ومودت کا نام ہے) اور جو دوستانہ جاہلیت کے دور میں تھا، اسلام نے اس کو مزید مضبوط کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2530
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. باب بَيَانِ أَنَّ بَقَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانٌ لأَصْحَابِهِ وَبَقَاءَ أَصْحَابِهِ أَمَانٌ لِلأُمَّةِ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے صحابہ کو امن تھا اور صحابہ کی ذات سے امت کو امن تھا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2531 ترقیم شاملہ: -- 6466
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ حُسَيْنٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ مُجَمَّعِ بْنِ يَحْيَي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ جَلَسْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ، قَالَ: فَجَلَسْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا؟ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْنَا مَعَكَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ قُلْنَا نَجْلِسُ حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ: أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ ".
سعید بن ابی بردہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر فرمایا: ”ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا)۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ)۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6466]
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر فرمایا: ” «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ» ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا)۔ «وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي» اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)۔ «وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي» اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ)۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2531
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. باب فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ:
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین رحمها اللہ کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2532 ترقیم شاملہ: -- 6467
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ".
عمرو (بن دینار) نے حضرت جابر (بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو (یعنی تابعین میں سے کوئی ہے؟) لوگ کہیں گے کہ ہاں! پھر ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر آدمیوں کے لشکر جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے صحابی کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو (یعنی تبع تابعین میں سے)؟ تو لوگ کہیں گے کہ ہاں۔ پھر ان کی فتح ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6467]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر لوگوں سے کچھ گروہ جہاد کے لیے نکلیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو دیکھنے والی شخصیت موجود ہے؟ تو وہ جواب دیں گے: ہاں، سو انہیں فتح مل جائے گی، پھر کچھ لوگ جہاد کے لیے نکلیں گے، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھیوں کو دیکھنے والوں کو دیکھنے والی شخصیت موجود ہے؟ سو وہ کہیں گے: ہاں، تو انہیں فتح نصیب ہوگی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6467]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2532
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2532 ترقیم شاملہ: -- 6468
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: زَعَمَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ، فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي، فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ، فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ، فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُوجَدُ الرَّجُلُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یقین تھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ کہیں گے: دیکھو، کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟ تو ایک شخص مل جائے گا، چنانچہ اس کی وجہ سے انہیں فتح مل جائے گی، پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ (آپس میں) کہیں گے: کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟ تو انہیں اس (شخص) کی بنا پر فتح حاصل ہو جائے گی، پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا تو کہا جائے گا: دیکھو، کیا ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو؟ پھر چوتھا لشکر بھیجا جائے گا تو کہا جائے گا: دیکھو، کیا ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں میں سے کسی کو دیکھا ہو؟ تو وہ آدمی مل جائے گا اور اس کی وجہ سے انہیں فتح مل جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6468]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ کہیں گے: دیکھو، کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟ تو ایک شخص مل جائے گا، چنانچہ اس کی وجہ سے انہیں فتح مل جائے گی، پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ (آپس میں) کہیں گے: کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟ تو انہیں اس (شخص) کی بنا پر فتح حاصل ہو جائے گی، پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا تو کہا جائے گا: دیکھو، کیا ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو؟ پھر چوتھا لشکر بھیجا جائے گا تو کہا جائے گا: دیکھو، کیا ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں میں سے کسی کو دیکھا ہو؟ تو وہ آدمی مل جائے گا اور اس کی وجہ سے انہیں فتح مل جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6468]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2532
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں