🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: ابوسفیان رضی اللہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2501 ترقیم شاملہ: -- 6409
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلَا يُقَاعِدُونَهُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ثَلَاثٌ أَعْطِنِيهِنَّ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أُزَوِّجُكَهَا؟ قَالَ نَعَمْ، قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ، تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَلَوْلَا أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا، قَالَ: نَعَمْ ".
عکرمہ نے کہا: ہمیں ابوزمیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: مسلمان نہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے بات کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے۔ اس پر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے نبی! آپ مجھے تین چیزیں عطا فرما دیجیے۔ (تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے۔) آپ نے جواب دیا: ”ہاں۔“ کہا: میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے، میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ کہا: اور معاویہ (میرا بیٹا) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کاتب بنا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر کہا: آپ مجھے کسی دستے کا امیر (بھی) مقرر فرمائیں تاکہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلاف بھی جنگ کروں۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ ابوزمیل نے کہا: اگر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہوتا تو آپ (از خود) انہیں یہ سب کچھ عطا نہ فرماتے کیونکہ آپ سے کبھی کوئی چیز نہیں مانگی جاتی تھی مگر آپ (اس کے جواب میں) ”ہاں“ کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6409]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، مسلمان نہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے بات کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے۔ اس پر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے تین چیزیں عطا فرما دیجیے۔ (تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے۔)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے، میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اور معاویہ (میرا بیٹا)، آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کاتب بنا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر کہا: آپ مجھے کسی دستے کا امیر (بھی) مقرر فرمائیں تاکہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلاف بھی جنگ کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ ابو زمیل نے کہا: اگر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (از خود) انہیں یہ سب کچھ عطا نہ فرماتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عنایت فرما دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6409]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. باب مِنْ فَضَائِلِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ وَأَهْلِ سَفِينَتِهِمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ:
باب: جعفر بن ابی طالب اور اسماء بنت عمیس اور ان کی کشتی والوں کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2502 ترقیم شاملہ: -- 6410
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمَا، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ، إِمَّا قَالَ: بِضْعًا، وَإِمَّا قَالَ: ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، قَالَ: فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا هَاهُنَا وَأَمَرَنَا بِالْإِقَامَةِ، فَأَقِيمُوا مَعَنَا، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، قَالَ: فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا أَوْ، قَالَ: أَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا لِأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ، قَالَ: فَكَانَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، يَقُولُونَ لَنَا: يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ نَحْنُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ،
برید نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (مکہ سے) نکلنے کی خبر ملی تو ہم یمن میں تھے۔ ہم (بھی) آپ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکل پڑے۔ میں، میرے دو بھائی جن سے میں چھوٹا تھا، ایک ابوبردہ اور دوسرا ابورہم۔۔۔ اور میری قوم میں سے پچاس سے کچھ اوپر یا کہا: تریپن یا باون لوگ (نکلے)۔۔۔ کہا: ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجاشی کے ہاں جا پھینکا۔ اس کے ہاں ہم حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اکٹھے ہو گئے۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے، تم لوگ بھی ہمارے ساتھ یہیں ٹھہرو۔ کہا: ہم ان کے ساتھ ٹھہر گئے۔ حتیٰ کہ ہم سب اکٹھے (واپس) آئے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (عین) اس وقت آکر ملے جب آپ نے خیبر فتح کیا تو آپ نے ہمارا بھی حصہ نکالا یا کہا: ہمیں بھی اس مال میں سے عطا فرمایا۔ آپ نے کسی شخص کو بھی جو فتح خیبر میں موجود نہیں تھا کوئی حصہ نہیں دیا تھا، سوائے ان لوگوں کے جو آپ کے ساتھ (فتح میں) شریک تھے مگر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ ہماری کشتی والوں کو دیا، ان کے لیے ان (فتح میں شریک ہونے والوں) کے ساتھ ہی حصہ نکالا۔ کہا: تو ان میں سے کچھ لوگ ہمیں۔۔۔ یعنی کشتی والوں کو۔۔۔ کہتے تھے، ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت حاصل کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6410]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا پتا چلا جبکہ ہم یمن میں تھے، تو میں اور میرے دو بھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی نیت سے نکلے، میں ان دونوں سے چھوٹا تھا؛ ایک ابوبردہ اور دوسرا ابورہم... اور میری قوم میں سے پچاس سے کچھ اوپر، یا کہا: تریپن یا باون لوگ (نکلے)۔ انہوں نے کہا: ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجاشی کے ہاں جا پھینکا، وہاں ہم حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اکٹھے ہو گئے۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے، تم لوگ بھی ہمارے ساتھ یہیں ٹھہرو۔“ انہوں نے کہا: ہم ان کے ساتھ ٹھہر گئے، حتیٰ کہ ہم سب اکٹھے (واپس) آئے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (عین) اس وقت آکر ملے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا بھی حصہ نکالا، یا کہا: ہمیں بھی اس مال میں سے عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو بھی، جو فتحِ خیبر میں موجود نہیں تھا، کوئی حصہ نہیں دیا تھا، سوائے ان لوگوں کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (فتح میں) شریک تھے، مگر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ ہماری کشتی والوں کو دیا، ان کے لیے ان (فتح میں شریک ہونے والوں) کے ساتھ ہی حصہ نکالا۔ انہوں نے کہا: تو ان میں سے کچھ لوگ ہمیں یعنی کشتی والوں کو کہتے تھے: ”ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت حاصل کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6410]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2502
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2503 ترقیم شاملہ: -- 6411
قَالَ: فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا، فَقَالَ عُمَرُ: حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ؟ قَالَتْ: أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ؟ قَالَ عُمَرُ: الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ؟ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: نَعَمْ، فَقَالَ عُمَرُ: سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ، فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلِمَةً: كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلَّا وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ وَوَاللَّهِ لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ، قَالَتْ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى، وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُ وَبُرْدَةَ: فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى، وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي.
کہا: (تو ایسا ہوا کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی بیوی) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو ہمارے ساتھ آئے تھے۔ ملنے کے لیے ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں۔ وہ بھی نجاشی کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے گئی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ان کے پاس موجود تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسماء رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یہ اسماء بنت عمیس ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ جو حبشہ کے ملک میں گئی تھیں اور اب سمندر کا سفر کر کے آئی ہیں؟ اسماء رضی اللہ عنہا بولیں: جی ہاں، میں وہی ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تم سے زیادہ ہمارا حق ہے۔ یہ سن کر انہیں غصہ آ گیا اور کہنے لگیں: ”اے عمر! اللہ کی قسم ہرگز نہیں، تم نے جھوٹ کہا۔ تم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تم میں سے بھوکے کو کھانا کھلاتے اور تمہارے جاہل کو نصیحت کرتے تھے اور ہم ایک دور دراز دشمنوں کی زمین حبشہ میں تھے، اور ہماری یہ سب تکالیف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں تھیں۔ اللہ کی قسم! مجھ پر اس وقت تک کھانا پینا حرام ہے جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری بات کا ذکر نہ کر لوں اور ہم کو ایذا دی جاتی تھی اور ہمیں ہر وقت خوف رہتا تھا۔ عنقریب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کروں گی، ان سے پوچھوں گی اور اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی، نہ میں کجروی کروں گی اور نہ میں اس سے زیادہ کہوں گی۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا نبی اللہ! عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے زیادہ کسی کا حق نہیں ہے۔ کیونکہ عمر (رضی اللہ عنہ) اور ان کے ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور تم کشتی والوں کی تو دو ہجرتیں ہوئیں (ایک مکہ سے حبشہ کو اور دوسری حبشہ سے مدینہ طیبہ کو)۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے سیدنا ابوموسیٰ اور کشتی والوں کو دیکھا کہ وہ گروہ در گروہ میرے پاس آتے اور اس حدیث کو سنتے تھے۔ اور دنیا میں کوئی چیز ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے زیادہ خوشی کی نہ تھی نہ اتنی بڑی تھی۔ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مجھ سے اس حدیث کو (خوشی کے لیے) بار بار سننا چاہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6411]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا، جو ہمارے ساتھ آنے والوں میں سے تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کے لیے گئیں، چونکہ وہ بھی نجاشی کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے تھیں تو حضرت عمر اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ان کے پاس موجود تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسماء رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ جو حبش کے ملک میں گئی تھیں اور اب سمندر کا سفر کر کے آئی ہیں؟ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بولیں: جی ہاں، میں وہی ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تم سے زیادہ ہمارا حق ہے۔ یہ سن کر انہیں غصہ آ گیا اور کہنے لگیں: اے عمر! اللہ کی قسم ہرگز نہیں، تم نے جھوٹ کہا۔ تم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تم میں سے بھوکے کو کھانا کھلاتے اور تمہارے جاہل کو نصیحت کرتے تھے اور ہم ایک دور دراز دشمنوں کی زمین حبشہ میں تھے، اور ہماری یہ سب تکالیف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں تھیں۔ اللہ کی قسم! مجھ پر اس وقت تک کھانا پینا حرام ہے جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری بات کا ذکر نہ کر لوں اور ہم کو ایذا دی جاتی تھی اور ہمیں ہر وقت خوف رہتا تھا۔ عنقریب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کروں گی، ان سے پوچھوں گی اور اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی، نہ میں کجروی کروں گی اور نہ میں اس سے زیادہ کہوں گی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عمر رضی اللہ عنہ نے اس اس طرح کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے زیادہ کسی کا حق نہیں ہے، کیونکہ عمر (رضی اللہ عنہ) اور ان کے ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور تم کشتی والوں کی تو دو ہجرتیں ہوئیں (ایک مکہ سے حبش کو اور دوسری حبش سے مدینہ طیبہ کو)۔“ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور کشتی والوں کو دیکھا کہ وہ گروہ در گروہ میرے پاس آتے اور اس حدیث کو سنتے تھے۔ اور دنیا میں کوئی چیز ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے زیادہ خوشی کی نہ تھی اور نہ اتنی بڑی تھی۔ حضرت ابوبردہ رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مجھ سے اس حدیث کو بار بار سننا چاہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6411]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. باب مِنْ فَضَائِلِ سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلاَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ:
باب: سلمان فارسی اور بلال اور صہیب رضوان اللہ عنہم کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2504 ترقیم شاملہ: -- 6412
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو : " أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَتَى عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ، وَبِلَالٍ فِي نَفَرٍ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ: لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ، فَأَتَاهُمْ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ؟ قَالُوا: لَا، يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَخِي ".
معاویہ بن قرہ نے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ چند اور لوگوں کی موجودگی میں حضرت سلیمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ تک نہیں پہنچیں۔ کہا: اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق یہ کہتے ہو۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! شاید تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے۔ اگر تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے تو اپنے رب کو ناراض کر دیا ہے۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: میرے بھائیو! کیا میں نے تم کو ناراض کر دیا؟ انہوں نے کہا: نہیں بھائی! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6412]
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ چند اور لوگوں کی موجودگی میں حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ تک نہیں پہنچیں۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق یہ کہتے ہو؟ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! شاید تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے، اگر تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے تو اپنے رب کو ناراض کر دیا ہے۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: اے میرے بھائیو! کیا میں نے تم کو ناراض کر دیا؟ انہوں نے کہا: نہیں بھائی! «يَغْفِرُ اللهُ لَكَ يَا أُخَيُّ» ”اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6412]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2505 ترقیم شاملہ: -- 6413
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " فِينَا نَزَلَتْ: إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122 بَنُو سَلِمَةَ، وَبَنُو حَارِثَةَ، وَمَا نُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122 ".
عمرو (بن دینار) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی: ”جب تم میں سے دو جماعتوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا اور اللہ ان دونوں کا مددگار تھا“، یہ آیت بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے متعلق نازل ہوئی (اس کے اندر) اللہ کے اس فرمان: ”اللہ ان دونوں (جماعتوں) کا مددگار تھا“ کی بنا پر ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوئی ہوتی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6413]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا﴾ [سورة آل عمران: 122] ”جب تم میں سے دو گروہوں نے بزدلی کا ارادہ کیا، حالانکہ اللہ ان کا مددگار تھا“، یعنی بنو سلمہ اور بنو حارثہ، اور ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آیت نہ اتاری جاتی، کیونکہ اللہ بزرگ وبرتر کا فرمان ہے: ﴿وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا﴾ ”اللہ ان کا حمایتی ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6413]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2505
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. باب مِنْ فَضَائِلِ الأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ:
باب: انصار کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2506 ترقیم شاملہ: -- 6414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ".
محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نضر بن انس سے، انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے بعد انصار کو خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما، انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فرما!“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6414]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! انصار کو، انصار کے بیٹوں کو، انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کو معاف فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6414]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2506
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2506 ترقیم شاملہ: -- 6415
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6415]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6415]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2506
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2507 ترقیم شاملہ: -- 6416
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لِلْأَنْصَارِ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ، وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ، لَا أَشُكُّ فِيهِ.
عکرمہ بن عمار نے کہا: ہمیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی، کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے مغفرت کی دعا کی۔ (اسحاق نے) کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (انس رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”اور انصار کی اولاد کی اور انصار کے ساتھ نسبت رکھنے والوں کی بھی (مغفرت فرما۔)“ مجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6416]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے بخشش طلب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا: ”انصار کی اولاد کو اور انصار کے غلاموں کو۔“ مجھے آپ کے اس فرمان کے بارے میں شک نہیں ہے۔ (یہ راوی کا قول ہے) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6416]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2507
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2508 ترقیم شاملہ: -- 6417
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ ".
عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (انصار کے) کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”میرا اللہ! (گواہ ہے) تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ میرا اللہ! (گواہ ہے) تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“ آپ کی مراد انصار سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6417]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ گواہ ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو، اللہ گواہ ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔“ آپ کی مراد انصار تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6417]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2508
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2509 ترقیم شاملہ: -- 6418
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: انصار میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیحدگی میں اس کی بات سنی اور تین بار فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ سب سے زیادہ پیارے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6418]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک انصاری عورت حاضر ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے علیحدگی میں بات کی اور تین دفعہ فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6418]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2509
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں