صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا:
باب: ناتا توڑنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2556 ترقیم شاملہ: -- 6520
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ "، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ.
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن جبیر بن معطم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قطع کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ ابن ابی عمر نے بتایا کہ سفیان نے کہا: یعنی قطع رحمی کرنے والا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6520]
حضرت محمد بن جبیر اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قطع کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا“ سفیان کہتے ہیں: یعنی رشتہ داری قطع کرنے والا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6520]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2556
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2556 ترقیم شاملہ: -- 6521
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ ".
امام مالک نے زہری سے روایت کی، محمد بن جبیر بن معطم نے خبر دی کہ ان کے والد نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6521]
حضرت محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6521]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2556
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2556 ترقیم شاملہ: -- 6522
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور (اس میں ہے: حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6522]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6522]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2556
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2557 ترقیم شاملہ: -- 6523
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ، أَوْ يُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس پر اس کا رزق کشادہ کیا جائے یا اس کے چھوڑے ہوئے کو مؤخر کیا جائے (خود اس کی اور اس کی چھوڑی ہوئی اشیاء، اعمال اور اولاد کی عمر لمبی ہو) وہ صلہ رحمی کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6523]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی کی جائے یا اس کے نقشِ قدم میں تاخیر کی جائے، یعنی اس کی عمر دراز ہو تو وہ اپنے اہلِ قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6523]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2557
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2557 ترقیم شاملہ: -- 6524
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ".
عقیل بن خالد نے کہا: ابن شہاب نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ چاہتا کہ اس کے لیے اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور جو اس نے چھوڑ جانا ہے اس کی مہلت لمبی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6524]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ اس کی روزی میں فراخی پیدا کی جائے گی اور اس کے نقشِ پا کو مؤخر کیا جائے، یعنی اس کی عمر لمبی ہو، تو وہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6524]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2557
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2558 ترقیم شاملہ: -- 6525
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ، فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ، فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے (بعض) رشتہ دار ہیں، میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں، میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں، میں بردباری کے ساتھ ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت کا سلوک کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم ایسے ہی ہو جیسے تم نے کہا ہے تو تم ان کو جلتی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس روش پر رہو گے، ان کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6525]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انسان نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے کچھ قرابت دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں، میں ان سے احسان کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں اور میں ان سے تحمل اور بردباری کا برتاؤ کرتا ہوں اور وہ مجھ سے اشتعال انگیز، جاہلانہ طرز عمل سے پیش آتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو واقعی ایسا طرز عمل اختیار کرتا ہے، جیسا تو نے بتایا ہے تو گویا تو ان کے منہ میں گرم راکھ رکھ رہا ہے اور ان کے مقابلہ میں ہمیشہ تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معاون و مددگار رہے گا، جب تک تیرا رویہ برقرار رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6525]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب النَّهْيِ عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ:
باب: حسد اور بغض اور دشمنی کا حرام ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2558 ترقیم شاملہ: -- 6526
حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور اللہ کے بندے (ایک دوسرے کے) بھائی بن کر رہو۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے تعلق ترک کیے رکھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6526]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور اللہ کے بندے، بھائی بھائی بن جاؤ، یا اللہ کے بندو! بھائی بھائی ہو جاؤ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلقات منقطع کرے، یا اس کو چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6526]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2558 ترقیم شاملہ: -- 6527
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ. ح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
محمد بن ولید زبیدی اور یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6527]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6527]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2558 ترقیم شاملہ: -- 6528
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: وَلَا تَقَاطَعُوا.
ابن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، نیز ابن عیینہ نے مزید یہ کہا: ”اور ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6528]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے ابن عیینہ سے یہ لفظ زائد لاتے ہیں: «وَلَا تَقَاطَعُوا» ”باہمی تعلقات نہ توڑو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6528]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2558 ترقیم شاملہ: -- 6529
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلاهما، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا رِوَايَةُ يَزِيدَ عَنْهُ، فَكَرِوَايَةِ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، يَذْكُرُ الْخِصَالَ الْأَرْبَعَةَ جَمِيعًا، وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا.
یزید بن زریع اور عبدالرزاق، دونوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ معمر سے یزید کی روایت اسی طرح ہے جس طرح سفیان کی روایت زہری سے ہے، انہوں نے چاروں خصلتیں بیان کی ہیں، البتہ عبدالرزاق کی روایت اس طرح ہے: ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو (منہ نہ موڑو۔)“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6529]
امام صاحب یہی روایت یزید سے سفیان کی پہلی روایت کی طرح بیان کرتے ہیں، اس میں چار خصلتوں کا ذکر ہے اور عبدالرزاق سے اس طرح بیان کرتے ہیں: ”ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو، باہمی تعلقات نہ توڑو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6529]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة