صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب تَحْرِيمِ الظَّنِّ وَالتَّجَسُّسِ وَالتَّنَافُسِ وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا:
باب: بدگمانی اور ٹوہ لگانا اور رشک کر نا اور دھوکے بازی حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2563 ترقیم شاملہ: -- 6540
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ".
سہیل نے اپنے والد (ابوصالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو، دولت کا حصول اور نمائش میں ایک دوسرے سے مقابلہ نہ کرو اور اللہ کے ایسے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6540]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت دو اور اساتذہ سے اعمش کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں: ”ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے (مال و دولت) میں بڑھنے کی کوشش نہ کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6540]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2563
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
10. باب تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ وَخَذْلِهِ وَاحْتِقَارِهِ وَدَمِهِ وَعِرْضِهِ وَمَالِهِ:
باب: مسلمان پر ظلم کرنا یا اس کو ذلیل کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2564 ترقیم شاملہ: -- 6541
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا، وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ، حَرَامٌ دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ ".
داؤد بن قیس نے ہمیں عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان (دوسرے) مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا، (پھر فرمایا): ”کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے، ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6541]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور بولی نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو اور ایک دوسرے کی خرید و فروخت پر خرید و فروخت نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس پر ظلم و زیادتی نہ کرے، اور جب وہ اس کی مدد و اعانت کا محتاج ہو اس کی مدد کرے، اس کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے، اس کو حقیر نہ جانے، یعنی اس کے ساتھ حقارت کا برتاؤ نہ کرے، تقویٰ یہاں ہے،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”آدمی کے لیے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، مسلم کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام ہے، اس کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6541]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2564 ترقیم شاملہ: -- 6542
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ دَاوُدَ، وَزَادَ وَنَقَصَ، وَمِمَّا زَادَ فِيهِ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ.
اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد داؤد کی حدیث کی طرح بیان کیا، کچھ چیزیں زیادہ بیان کیں اور کچھ کم، زائد بیان کردہ باتوں میں سے ایک یہ ہے: ”اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو نہیں دیکھتا نہ تمہاری صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے۔“ اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6542]
امام صاحب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ایک دوسرے استاد سے کمی و بیشی کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں، اس میں اضافہ یہ ہے: ”اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ تو تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے،“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6542]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2564 ترقیم شاملہ: -- 6543
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ، وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَعْمَالِكُمْ ".
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6543]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال ودولت کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6543]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب النَّهْيِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّهَاجُرِ:
باب: کینہ رکھنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2565 ترقیم شاملہ: -- 6544
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ".
امام مالک بن انس نے سہیل (بن ابی صالح) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا، اس بندے کے سوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو، چنانچہ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔“ (اور صلح کے بعد ان کی بھی بخشش کر دی جائے۔) [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6544]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوموار اور جمعرات کے روز جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کو معاف کر دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، سوائے اس بندے کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ اور عداوت ہے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے: ان دونوں کا معاملہ مؤخر کرو، حتیٰ کہ آپس میں صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو، حتیٰ کہ باہمی صلح کر لیں، ان دونوں کو ڈھیل دو، حتیٰ کہ آپس میں صلح کر لیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6544]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2565
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2565 ترقیم شاملہ: -- 6545
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ: إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ.
زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے عبدالعزیز دراوردی سے حدیث بیان کی، ان دونوں (جریر اور عبدالعزیز) نے سہیل سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے مالک کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند روایت کی، البتہ ابن عبدہ سے دراوردی کی بیان کردہ حدیث میں ہے: ”سوائے ان دو کے جنہوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ رکھا ہو۔“ اور قتیبہ نے کہا: ”سوائے ان دو کے جنہوں نے دوری اختیار کر رکھی ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6545]
امام صاحب یہی حدیث مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، صرف یہ لفظی فرق ہے کہ دراوردی کے لفظ ہیں «إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ» اور قتیبہ کہتے ہیں «إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ»، دونوں کا معنی ہے: ”تعلقات منقطع کرنے والے دو افراد“۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6545]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2565
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2565 ترقیم شاملہ: -- 6546
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ مَرَّةً، قَالَ: " تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ، وَاثْنَيْنِ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ".
سفیان نے مسلم بن ابی مریم سے، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے ایک بار اس حدیث کو مرفوعاً بیان کیا، کہا: ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا، اس شخص کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور کینہ ہو، تو (ان کے بارے میں) کہا جاتا ہے: ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں، ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6546]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر جمعرات اور پیر کے روز اعمال پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ اللہ عزوجل اس دن پر اس انسان کو معاف کر دیتا ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، سوائے اس انسان کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ اور عداوت ہے تو کہا جاتا ہے، ان کے معاملہ کو مؤخر کر دو حتیٰ کہ یہ دونوں آپس میں صلح کر لیں، ان دونوں کے معاملہ کو مؤخر کرو حتیٰ کہ یہ دونوں صلح کر لیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6546]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2565
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2565 ترقیم شاملہ: -- 6547
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ، إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: اتْرُكُوا، أَوِ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا ".
امام مالک بن انس نے مسلم بن ابی مریم سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے اعمال ہر ہفتے میں دو بار پیش کیے جاتے ہیں، پیر کے دن اور جمعرات کے دن اور ہر ایمان رکھنے والے بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اس بندے کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور بغض ہوتا ہے۔ تو (ان کے بارے میں) کہا جاتا ہے: ان دونوں کو چھوڑ دو، یا مؤخر کر دو یہاں تک کہ دونوں (عداوت چھوڑ کر ایک دوسرے کی طرف) واپس آ جائیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6547]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے اعمال ہر ہفتے میں دو دن، پیر اور جمعرات کو پیش کیے جاتے ہیں، تو ہر مومن بندے کو معاف کر دیا جاتا ہے، سوائے اس بندے کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے: ان دونوں کو چھوڑے رکھو یا مؤخر رکھو حتیٰ کہ یہ آپس کے کینہ اور باہمی عداوت سے باز آجائیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6547]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2565
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
12. باب فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللَّهِ:
باب: اللہ تعالیٰ کے واسطے محبت کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2566 ترقیم شاملہ: -- 6548
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ، أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں رکھوں گا، آج کے دن جب میرے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6548]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پوچھے گا: میری جلالت و عظمت کے سبب باہمی محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج کے دن میں انہیں اپنے سائے میں سایہ فراہم کروں گا، جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6548]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2566
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2567 ترقیم شاملہ: -- 6549
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ، قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ، قَالَ: هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟ قَالَ: لَا، غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ بِأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ ".
عبدالاعلیٰ بن حماد نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لیے گیا جو دوسری بستی میں تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو اس کی نگرانی (یا انتظار) کے لیے مقرر فرما دیا۔ جب وہ شخص اس (فرشتے) کے سامنے آیا تو اس نے کہا: کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں اپنے ایک بھائی کے پاس جانا چاہتا ہوں جو اس بستی میں ہے۔ اس نے پوچھا: کیا تمہارا اس پر کوئی احسان ہے جسے مکمل کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، بس مجھے اس کے ساتھ صرف اللہ عزوجل کی خاطر محبت ہے۔ اس نے کہا: تو میں اللہ ہی کی طرف سے تمہارے پاس بھیجا جانے والا قاصد ہوں کہ اللہ کو بھی تمہارے ساتھ اسی طرح محبت ہے جس طرح اس کی خاطر تم نے اس (بھائی) سے محبت کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6549]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ”ایک بھائی اپنے بھائی کی ملاقات کے لیے جو دوسری بستی میں رہتا تھا، نکلا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی رہ گزر پر ایک فرشتہ انتظار میں بٹھا دیا، چنانچہ جب وہ اس کے پاس پہنچا، اس سے پوچھا: تیرا کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے جواب دیا: میں اس بستی میں رہنے والے اپنے ایک بھائی سے ملنے جا رہا ہوں، فرشتے نے کہا: کیا تیرا اس پر کوئی احسان ہے، جس کو تم پورا کرنے یا درست کرنے جا رہے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، میرے جانے کا باعث اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مجھے اللہ عزوجل کے لیے اس سے محبت ہے۔ فرشتے نے کہا: مجھے اللہ نے تیری طرف یہ بتانے کے لیے بھیجا ہے کہ اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے، جیسا کہ تم اللہ کے لیے اس سے محبت کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6549]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2567
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة